زمین کا سینہ چیر کر رزق اگانے والے خود پسماندگی و پریشانی کا شکار

تحریر: رؤف لنڈ

کرونا کی وحشت میں جان ہتھیلی پہ رکھ کر بچوں سمیت انسانوں کو زندہ رکھنے، انسانیت کا تسلسل قائم رکھنے میں کوشاں

طبقاتی سماج میں ویسے تو کسانوں کی جدوجہد کے عالمی دن کو بھی باقی عالمی ایام کی طرح حکمرانوں کی جانب سے محض منافقانہ بیانات، اجلاسوں، کاروائیوں اورہمدردیوں کی نذر کردیا جاتا مگر اب کی بار کرونا وبا کی وجہ سے تو شاید اس موقع پرحکمرانوں کے پاس مظلوم کسانوں اور کاشتکاروں کیلئے جعلی ہمدردی کےالفاظ کا بھی وقت یا ہوش نہ ہو۔ آج کرونا کی وجہ سے ساری دنیا کے باسی اپنے اپنے گھروں میں بیٹھنے پرمجبورہیں۔ موجودہ بحران نہ ہی کوئی قدرتی ھے اور نہ کسی ایک ملک کی ایجاد و اختراع کا شاخسانہ ہے۔ بلکہ ساری دنیا کے سرمایہ دار بھیڑیوں کے منافعوں کی ہر لمحہ بڑھتی ہوس کا ناگزیر نتیجہ ہے۔ کاشتکاروں اورکسانوں کا اعزاز دیکھیں کہ اس حالت میں کہ جب ہر جگہ موت اپنے جبڑے کھولے وحشت برپا کئے ہوئے ہے تو یہ اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر انسانوں کو زندہ رکھنے اورانسانیت کا تسلسل قائم رکھنے کیلئے رات دن اپنی خواتین اور بچوں سمیت اناج ، پھل، پھول ، سبزیاں اگانے اور فراہم کرنے پر جُتے ہوئے ہیں۔

یہ کسان اور کاشتکار جب عام حالات میں بھی زندگی کی ہررونق سے محروم تھے۔ اب اندازہ کریں کہ اس وقت وہ کس حال میں ہونگے؟ آج جب بڑے بڑے کاروباری ادارے، کاروباری منڈیاں، بینک، سٹاک ایکسچینج، تجارتی فرمیں اور نجی کمپنیاں وغیرہ سب پہلے سے بے انت منافعے کمانے میں مگن ہیں اور اس وقت میں چوربازاری و ذخیرہ اندوزی کی خباثت میں ملوث ھو کر اپنے اپنے ٹیکسز اور قرضوں کی معافی کے مطالبے تو کر رہے ہیں۔ مگربے کس و بے بس اور مجبور کاشتکار کے بارے میں نہیں سوچا جارہا۔ جن کے ننگے استحصال کی حالت یہ ہے کہ دنیا بھر کے رائج اصول کے مطابق کوئی کمپنی یا ادارہ جو کچھ بناتا ہے وہ اپنی پیداوار پر اٹھنے والے اخراجات کے حساب سے اپنی پیداوار کے نرخ کا تعین منڈی کے لحاظ سے خود کرتا ھے۔ کسان اس بنیادی حق سے بھی محروم ہیں۔ بلکہ اس المیہ کا قصہ یہاں تک درد ناک ہے کہ کسانوں اور کاشتکاروں کی فصل منڈی تک آنا تو دور اگنے سے پہلے پیسے والے آرھتیوں کے پاس گروی رکھی جا چکی ہوتی ہے۔  کاشتکاروں/کسانوں کی جدوجہد کے عالمی دن کے موقع پر ان کے درج ذیل مطالبات بجا طور پر فوری توجہ کے مستحق اور لائقِ تسلیم و پذیرائی ہیں؛

1۔ تمام زمینیں بے زمین کاشتکاروں میں تقسیم کردی جائیں۔

2۔ تمام چھوٹے کاشتکاروں کے سارے قرضے معاف کردئیے جائیں۔

3۔ تمام چھوٹے کاشتکاروں کو طویل المیعاد قرضے بلا سود فراھم کئے۔

4۔ گرین بیلٹ (قابلِ کاشت رقبہ) پر ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تعمیر جرم قرار دی جائے ۔

5۔ زراعت کے قدرتی طریقہ ہائے کاشت کو سرکاری سرپرستی میں فروغ دیتے ھوئے کیمیاوی کھاد اور زہریلی ادویات کی تیاری اور فروخت پر پابندی لگائی جائے۔ (اس دوران فی الفور زہریلی ادویات کی جانچ پڑتال کیلئے تحصیل سطح تک لیبارٹریوں کا قیام عمل میں لایا جائے)۔

6۔ زرعی پیداوار کے نرخ کاشتکاروں کے نمائندوں کی مشاورت سے مقرر کئے جائیں۔

7۔ کوئلے سے چلنے والے تمام پاور پلانٹس بند کر کے ان کو توانائی کے متبادل ذرائع شمسی، بائیو اورہوائی توانائی کے ذریعے چلایا جائے۔

8۔ کسانوں کی سہولت کیلئے بیج بینک قائم کئے جائیں۔ ساتھ ھی جینیٹک موڈیفائیڈ بیجوں کو ملک میں رجسٹرڈ کرنے پر پابندی لگائی جائے۔

9. زرعی مقاصد کی خاطر چھوٹے کاشتکاروں کو مفت بجلی کی فراہمی۔

10۔ یونین کونسل سطح پر کم ازکم پچاس بستروں پر مشتمل ہسپتالوں کی تعمیر اور صحت کی سہولیات کی مفت فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

11۔ کھیت اور منڈی تک رابطہ سڑکوں کی تعمیر۔

12۔ کاشتکاروں کے بچوں کیلئے ہر سطح پر تعلیم مفت اور بیرون ممالک اعلیٰ تعلیم کیلئے وظائف مختص کئے جائیں۔

13۔ کاشتکاروں کو باقی محنت کش تنظیموں کی طرح ٹریڈ یونیں کے قیام کی سہولت و اجازت دی جائے ۔

یہ تمام مطالبات کوئی ناممکن اور نا قابلِ حل مطالبات نہیں ہیں۔ ان مطالبات کا تسلیم کئے جانا کاشتکاروں پر کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے تا کہ وہ ان سہولتوں کے حصول کے بعد معقول انسانی زندگی کے دائرے میں داخل ہو سکیں۔ جدید سائنسی طریقوں کے ساتھ دلجمعی سے دنیا بھر کے انسانوں کو خوراک و لباس کی فراواں مقدار مہیا کر کے انسانی سماج کو محتاجی اور ذلت سے نکال سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*