وفاقی حکومت کا بجٹ مسترد کرتے ہیں، لیاقت ساہی

اہتمام:  مزدور نامہ

وفاقی حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور غیر ہنر مند مزدوروں کی تنخواہوں میں ایک ہزاراضافے کو محنت کش طبقہ مسترد کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے محنت کشوں کی طرف سے پیش کردہ سروے کی روشنی میں اضافہ کیا جائے۔

ڈیمو کریٹک ورکرز فیڈریشن اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل مزدور رہنما لیاقت علی ساہی نے وفاقی حکومت کی طرف سے اعلان کردہ بجٹ پر اظہار خیا ل کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ایوانوں کے پارلیمنٹرین آئین کے آرٹیکل 3 کی خلاف ورزی کر رہے ہیں چونکہ دستور میں ریاست کوپابند کیا گیا ہے کہ ریاست کے کسی بھی سطح پر اگر کسی شہری کا استحصال ہوا تو اس کا خاتمہ کیا جائے گا۔ اس تناظر میں بجٹ کی روشنی میں جائزہ لیں تو اسحاق ڈار سمیت وفاقی حکومت آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے جس کی واضح مثال سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں دس فیصد اضافہ اورغیر ہنرمند محنت کشوں کی کم سے کم ویجز میں ایک ہزار کا اضافہ کیا گیا ہے محنت کش طبقہ اس غیر منصفانہ اضافے کی مذمت کرتا ہے۔  بد قسمتی یہ ہے کہ اس وقت جمہوریت کے دعوے دار تمام لوگ آئین کی پارلیمنٹ میں بیٹھ کر دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کو مدّنظر رکھتے ہوئے محنت کشوں کی طرف سے سروے کی بنیاد پر وزیر اعظم کو خط کے ذریعے نشاندہی کی گئی تھیں کہ محنت کشوں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی سیاست دانوں کے ذریعے ملک کی بیوروکریسی اور سرمایہ دار طبقے کے گٹھ جوڑ کی وجہ اور استحصال کیا جا رہا ہے اس کا نوٹس لیا جائے۔ ان سفارشات میں وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا ہے کہ جس شخص کی پانچ افراد کی فیملی ہے اس کا کم سے کم سطح پر اخراجات کا تحمینہ ایک ماہ کا 40519 روپے بنتا ہے۔  یہ ایک پانچ افراد کی فیملی کو ہر صورت میں ضرورت ہو گی اب تصور کیا جائے کہ اس وقت ملک کے تمام پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں ٹھیکیداری نظام کے ذریعے مزدوروں کو حکومتوں کی طرف اعلان کردہ کم سے کم از تنخواہ 14000 ہزار بھی ادا نہیں کئے جاتے بلکہ میڈیا کے اداروں میں تو وقت پر بھی تنخواہ ادا نہیں کی جاتی بہت سے ادارے اس وقت بھی دس ہزار سے زیادہ تنخواہ مزدوروں کو ادا نہیں کر رہے۔

اسی صورت حال میں اندازہ لگایا جائے کہ ایک محنت کش اپنی فیملی کے پیٹ میں نوالے کا انتظام کر سکے گا، اپنے بچوں کو تعلیم فراہم کرکے ایک اچھا شہری بنا سکے گا۔  بیماری کی صورت میں سرکاری اہسپتالوں کی صورتحال کے بارے میں پوری قوم بخوبی آگاہ ہے کہ دوائیاں بھی چوری کر لی جاتی ہیں اسی صورت میں محنت کشوں کس طرح زندہ رہ سکیں گے۔  اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ ہماری ملک کی معیشت کی گروتھ میں اضافہ ہو گیا ہے اس گروتھ کو محنت کشوں نے چاٹنا ہے جب ان کے بچے بھوک سے مر رہے ہوں، تعلیم سے محروم ہو رہے ہوں اور بیماری کی صورت میں انہیں دوائی بھی نہ مل سکے۔  علاوہ ازیں ٹیکس کی ریکوری کے بارے میں ان کی طرف سے بڑے بلند وبانگ دعوے کئے گئے ہیں جبکہ اس وقت تنخواہ دار طبقے سے بھاری ٹیکس تنخواہوں سے منہا کر لیا جاتا ہے جو کہ بہت بڑی زیادتی ہے۔  ان تمام حقائق کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ہم وفاقی حکومت کا بجٹ مسترد کرتے ہیں۔

آپ دیکھیں گے اس کی روشنی میں تمام صوبے بھی اپنا بجٹ اسی طرح تنخواہ دار طبقے اور مزدوروں کے ساتھ سلوک کریں گے۔ پارلیمنٹرین نے اپنے تنخواہوں میں اضافے کیلئے تمام لوگ بلا تفریق ایک آواز تھے، لیکن محنت کشوں اور تنخواہ دار طبقے کا استحصال کرنے میں سب شامل ہیں اس کے خلاف ملک بھر کے محنت کش متحد ہو جائیں۔
                                                                                                  

Comments are closed.