اسلام آباد: وفاقی سیکرٹریٹ ملازمین کا احتجاج و ہڑتال چوتھے ہفتے میں داخل

رپورٹ: PTUDC اسلام آباد

سپیشل سیکرٹری خزانہ کی 27 فروری کی یقین دہانی پر عمل درآمد کیا جائے، ملازمین
وفاقی سیکریٹریز کمیٹی کی سفارشات پر عمل کیا جائے، ملازمین

وفاقی سیکرٹریٹ ملازمین کا احتجاج و ہڑتال 23ویں روز بھی جاری رہا۔ گزشتہ روز وفاقی سیکرٹریٹ ملازمین ایک بار پھر وزارت خزانہ کے سامنے جمع ہوئے اور حکومت کے طرز عمل کے خلاف سخت احتجاج کیا گیا۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ کمرتوڑمہنگائی میں پرانی تنخواہ قابل قبول نہیں۔ یاد رہے کہ وفاقی سیکریٹریٹ کے گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین فی الوقت ہڑتال پر ہیں جو 2 مارچ سے شروع ہوئی تھی۔ وفاقی سیکریٹریٹ کے ملازمین کے غم و غصہ کی وجہ پی ٹی آئی حکومت کا سابقہ فیصلہ تھا جس کے تحت خصوصی طور پر نیب، ایف آئی اے اور نیا پاکستان ہاؤسنگ کے ملازمین کو 150 سے 200 فیصد تک تنخواہوں میں اضافہ دیا گیا ہے۔

تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر حکومت پہلے ہی سخت صورتحال کا سامنا کر رہی ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے گزشتہ مہینے وزارتوں اور ڈویژنوں کے ملازمین کو تنخواہوں میں دیے جانے والے 20 فیصد سیکریٹریٹ الاؤنس کو امتیازی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ منسلک محکموں کے ملازمین کو بھی یہی اضافہ دیا جائے۔ اس امتیازی سلوک کے خاتمے کیلئے دیگر محکموں کے ملازمین بشمول وفاقی حکومت کے کالج ٹیچرز کی ایسوسی ایشن، پاکستان پی ڈبلیو ڈی، کمیونیکیشن اور سیکورٹی کے محکموں، سی ڈی اے یونین اور پاکستان کونسل آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ملازمین نے اپریل 2013ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور درخواست کی کہ یہ اضافہ انہیں بھی دلوایا جائے۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کی جانب سے کامریڈ فوزیہ نے ملازمین کے احتجاج میں شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے ملازمین کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کا اعلان کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*