اسلام آباد: تمام وفاقی محکموں سے لاکھوں ملازمین کی جبری برطرفیوں کا امکان

رپورٹ:PTUDC  اسلام آباد

حکومت پاکستان کے نئے حکم نامہ کے مطابق عالمی بینک کے ساتھ رائٹ سائزنگ کے سمجھوتے کی وجہ سے وفاقی حکومت نے ایک سال سے خالی گریڈ ایک سے 16 تک کی ہزاروں اسامیوں کو ختم کرنے کے عمل کا آغاز کردیا۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ فیصلہ حکومت کے عالمی قرض دہندہ اداروں بشمول عالمی بینک کے ساتھ ’وفاقی حکومت کی تنظیم نو اور رائٹ سائزنگ کے لیے‘ کیے گئے وعدے کا حصہ ہے تا کہ سول حکومت پر اٹھنے والے اخراجات کو قابو کیا جاسکے۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور عالمی بینک کی خواہش ہے کہ غیر ضروری اخراجات کو محدود رکھنے کے لیے حکومتی مشینری کو صحیح حجم میں اور اسمارٹ ہونا چاہیے۔

عالمی بنک کے ماہرین کے مطابق’ پاکستانی وفاقی حکومت کا ڈھانچہ ناہموار ہے اور 95 فیصد ملازمین ایک سے 16 گریڈ کے ہیں جو سیلری بل کا 85 فیصد حصہ حاصل کرتے ہیں‘۔ عالمی بینک کا ماننا ہے کہ یہ معاون عملہ جدید حکومتی مشینری کی مجموعی تعداد کے 50 فیصد سے زائد نہیں ہونا چاہیے۔‘اس وقت وفاقی حکومت میں 6 لاکھ 80 ہزار اسامیاں منظور شدہ ہیں لیکن اس میں سے 80 ہزار سے زائد ایک سال سے زائد عرصے سے خالی ہیں۔اعدوشمار کے مطابق دیکھا جائے تو وفاقی حکومت  میں 6 لاکھ 46 ہزارکے قریب گریڈ 16سے کم کے ملازمین ہیں اور عالمی مالیاتی ادارے اس تعدادکو بوجھ سو ل حکومت پر بوجھ قرار دیتے ہیں۔ تاہم رواں مالی سال میں وفاقی حکومت کا پینشن بل 4 کھرب 70 ارب روپے رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں فوجی اہلکاروں کی پینشن کا حجم 3 کھرب 70 ارب روپے ہے۔ رائٹ سائزنگ کے پروگرام پر عمل کرتے ہوئے حکومت ان اداروں کے معیار کے مطابق ملازمین کی تعداد کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔ اس کی واضح مثال سٹیل ملز، ریلوے، سول ایو ی ایشن ، سوئی گیس ، پی آئی اے اور دیگر وفاقی اداروں میں جبری برطرفیوں اور مختلف شکلوں میں نجکاری کی کوششیں ہیں۔

یہ وحشیانہ پالیسیاں صرف اور صرف سرمایہ داروں کے مفادات کے لئے کیں جا رہی ہیں،  جہاں مالیاتی ادارے اپنے قرض کی واپسی کو یقینی بنانے  کی کوشش کر رہے ہیں وہی پرحکومت پاکستان غلاموں کی طرح ان کے ہر حکم پر عمل کر رہی ہے۔ ایک جانب محنت کی منڈی میں نئے نوجوانوں کے لئے ملازمت کے مواقع ختم ہونگے تو وہی پر بیروزگاری کی شرح میں بھی تیزی سے اضافہ ہو گا۔  خود حکومت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق ن لیگ کی حکومت کے خاتمے پر بیروزگاری کی شرح 5.8 فیصد تھی جب کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوسرے سال بیروزگاری کی شرح بڑھ کر8.53 فیصد ہوگئی ہے، 10 لاکھ افراد اسی سال بیروزگار ہوئے ہیں۔ حکومت کی وزارت منصوبہ بندی نے اگلے مالی سال کے دوران بیروزگاری کی شرح 9.6 فیصد تک جانے کی پیش گوئی کی ہے جس کا مطلب ہے کہ ساڑھے 8 لاکھ مزید افراد بیروزگار ہوں گے۔کورونا وبا کی وجہ سے  بھی محتاط اندازے کے مطابق تیس سے پچاس لاکھ افراد کا روزگار داؤ پر لگ سکتا ہے۔ 

ایک خوفناک معاشی منظر نامہ جنم لے رہا ہے۔ اس صورتحال میں ریاست کو ناگزیر طور پر  سامراجی قرضوں کو ضبط کرتے ہوئے ، معیشت کے اہم حصوں مثلا عوامی افادیت کے تمام شعبوں ، قدرتی وسائل ، بنکس اور مالیاتی ادارے،  خوراک کے کارخانے، صنعت اور ٹرانسپورٹ کےساتھ غیر ملکی اور ملکی تجارت کو حکومتی تحویل میں لیتے ہوئے محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں لینا ہو گا۔ مگر سرمایہ دارانہ ریاست کے لئے ایسے انقلابی اقدامات اٹھانا ناممکن ہے لہٰذا محنت کشوں کو متحد ہو کر اس نظام کو اکھاڑ پھینکتے ہوئے مزدور ریاست کی تعمیر کے لئے جدوجہد کر نا ہوگی۔ یہ کام صرف محنت کش طبقہ ہی کر سکتا ہے۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین  PTUDC محنت کشوں کے اس فریضے کی تکمیل کے لئے سرگرم عمل ہے۔