جوہی میں سیلاب کی تباہ کاریاں

رپورٹ: صدام مصطفٰی

پانی کو زندگی کی علامت سمجھا جا تا ہے اور بارش کو قدرت کی جانب سے حسین تحفہ تصور کیا جا تا ہے۔ مگر منافع پر قائم نظام میں عوام کی بڑی اکثریت کے لئے یہ بارشیں رحمت کی بجائے زحمت لے کر آئیں۔ کورونا وبا، ٹڈی د ل حملوں کے بعد اب مون سون کی بارشیں موت کا قہر بن کرغریبوں پر نا زل ہوئیں۔ سندھ کے دوآبے پانی کی فراوانی کی وجہ سے دنیا میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے لیکن حکمرانوں کی تاریخی نااہلی کی وجہ سے پانی کے بے پناہ وسائل رکھنے والا پاکستان مسلسل ناکامیوں کا شکار ہو رہا ہے۔ موسم برسات میں جب دریا پوری طغیانی کے ساتھ بہتے ہیں تو ہر طرف تباہی کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ سیلاب کی شدت سینکڑوں ہزاروں بستیوں کو ہی نہیں اجاڑتی بلکہ پوری تہذیب ہی تہہ وبالا ہو جاتی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سیلابوں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ لگ بھگ چالیس مرتبہ پاکستانی قوم سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثر ہوئی جس کی وجہ سے بھاری مقدار میں پانی ہی ضائع نہیں ہوا بلکہ ہر سیلاب میں سو پچاس بے گناہ افراد کی ہلاکتیں معمول کی بات رہی ہیں۔ان سیلابوں میں نصف سے زائد سیلاب بڑی تباہی کا موجب بنے۔ صرف تین سیلابوں 1950ء، 1992ء اور 2010ء میں پانچ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

حالیہ مون سو ن بارشو ں نے بھی پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں تباہیاں مچائی ہیں وہاں سندھ کے بارانی علاقے کاچھومیں کیرتھر پہاڑوں سے آنے والی برساتی ندی نالے ’نیئن گاج‘ نے کاچھو سمیت ضلع دادو کی تحصیل جوہی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جوہی تحصیل کا بڑا علائقہ زیر آب ہے بہت سارے گاؤں زیر آب ہیں بہت سارے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کر گئے ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں ابھی اس سیلابی صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ بچا بند میں شگاف پڑنے سے جوہی شہر کو خطرہ لاحق ہو چکا ہے جس سے تقریباً ایک لاکھ تک کی آبادی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ابھی تک کے موصول ہونے والی اطلاع کے مطابق چار لوگوں کے سیلابی پانی میں بہہ کر اموات کا خدشہ ظاھر کیا جا رہا ہے اور ڈھیڈ سؤ کے قریب گاؤں مکمل اور جزوی طرح سے ڈوب گئے ہیں۔ ستم ضریفی یہ ہے کہ کاچھو میں پانی ہمیشہ خوشیاں اور امید لاتا ہے کیونکہ اس کی زمین زرخیز ہے مگر پانی کی ہمیشہ سے قلت رہی ہے، عمومی طور پرکاچھو میں بارشوں کے بعد بڑے پیمانے پر جوار، مونگ، موٹھ، تل اور گوار کی فصل کے علاوہ سبزیاں اور خربوزے اور تربوز جسے پھل اگائے جاتے ہیں۔ ان مون سون بارشوں کے حوالے سے کسانوں کو امید تھی کہ کاچھو میں کئی سالوں سے جاری شدید قحط سالی کا بھی خاتمہ ہوگا۔ آبپاشی کے موثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے مویشی، ٹیو ب ویل اور فصلیں مکمل طور پر برباد ہو چکے ہیں۔عام طور پر مقامی لوگ فصلوں کے بیج ذخیرہ کرتے ہیں مگر اس سال سیلاب میں بیج بھی بہہ گیا ہے تو اس لیے اب لوگ سود پر بیج خریدنے پر مجبور ہونگے۔ لوگوں کی بڑی تعداد اس ساری صورتحال سے پریشان اپنے گھروں میں محصور ہے، انتظامیہ کی جانب سے کوئی خاطرخواہ انتظام نہ ہونے کی وجہ سے لوگون میں شدید اضطراب اور غصے کی کیفیت میں مبتلا ہیں، جبکہ جوہی کے منتخب نمائندے بچا بند پے کھڑے ہوکر فوٹو سیشن کروانے میں مصروف ہیں۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC واضح طور پر حکومتی بے حسی کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتی ہے کہ فی الفور یہاں کے عوام کی زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے مندرجہ ذیل مطالبات کو فوری طور پر منظور کیا جائے۔

مطالبات
٭ ریسکیو سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بہتر خوراک اور علاج معالجے کا فوری بندوبست کیا جائے۔

٭کورنا وبا اور سیلابی پانی کی وجہ سے بیماریوں کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے لئے فیلڈ ہسپتال قائم کئے جائیں۔

٭سیلابی پانی کا مستقل سدباب کے لئے آبپاشی کے نظام کو بہتر کیا جائے۔

٭تمام بیروزگاروں کو 20,000 روپے ماہانہ بیروزگاری الاؤنس دیا جائے اور متبادل روزگار کا فوری بندوبست کیا جائے۔

٭ جوہی اور گردو نواح میں فصلوں اور انسانی ضروریات کے لئے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

٭تمام کسانوں کے قرضے معاف کئے جائیں نیزانہیں فوری طور پر مفت بیج اور کھادیں فراہم کیں جائیں۔

٭ نقصان کا جائزہ لے کرمتاثرین کی مالی امداد کی جائے۔

٭علاقے کو آفت زدہ قرار دے کر تمام یوٹیلٹی بلز معاف کئے جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*