اسلام آباد: فیڈرل گرینڈ ہیلتھ الائنس کا مفت علاج معالجے کی سہولیات کے دفاع کے لئے احتجاج کا اعلان

رپورٹ: ڈاکٹر حیدر عباسی، ترجمان  فیڈرل گرینڈ ہیلتھ الائنس اسلام آباد

بروز جمعرات بتاریخ 26 نومبر 2020 کو پمز ہسپتال میں گرینڈ ہیلتھ الائنس کے رہنماؤں چیرمین ڈاکٹر اسفند یار خان اور وائس چیئرمین ریاض گجر صاحب اور دیگر نے بھرپور پریس کانفرنس کا انعقاد کیا اور MTI کو یکسر مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوے ترجمان GHA ڈاکٹر حیدر عباسی کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ وعدہ خلافی کی گئی ہے اور ہمیں حسب وعدہ اعتماد میں لئے بغیر MTI ordinance لایا جا رہا ہے، جو کے ایک ناکام سسٹم ہے اور خیبر پختونخواہ میں فیل ہو چکا ہے۔ پمز اسپتال صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں میں سرفہرست یے اور ہمارے ملک میں جب بھی کوئی وبا کرونا، قدرتی آفات زلزلہ و سیلاب اور ہنگامی جنگی حالات جیسے ضربِ عضب جیسے ہنگامی حالات آئے تو پمز کے طبی عملے نے بڑھ چڑھ کر اسکا مقابلہ کیا اور حکومت وقت کے ساتھ ملکر شانہ بہ شانہ اپنی قوم کی صحت کے شعبہ میں خدمات سر انجام دیں اور آج بھی جب پورا ملک کرونا جیسی وبا کا شکار ہے۔ اس دوران ایم ٹی آئی جیسے کالے قانون کا لانا صحت کے شعبہ پر خود کش حملہ کرنے کے برابر ہے گزشتہ کرونا کی لہر میں بھی پمز اسپتال پورے پاکستان میں کرونا کے علاج ومعالجہ میں سر فہرست تھا اور آج بھی سرفہر ست یے ماضی میں جب 2005 کے زلزلے کی صورت میں آنے والی ہنگامی حالت میں متاثرین کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جب ملک میں انارکی اور دہشت گردی کا دور تھا اس پمز کے طبی عملے نے اپنی افواج ISPR کے شانہ بہ شانہ ضربِ عضب میں میڈیکل ریلیف کیمپ لگا کر تیس 30 ہزار سے زائد متاثرین کو علاج ومعالجہ کی سہولیات فراہم کی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سابقہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے پمز اسپتال کے دورے کرنے کے بعد پمز کو صحت کے شعبہ میں قابل قدر خدمات انجام دینے پر اطمینان اور فخر کا باعث قرار دیا تھا۔ جبکہ موجود وزیراعظم عمران خان نے بھی کئی بار پمز اسپتال کا دورہ کیا ہے اور پمز کے کردار کی تعریف کی کہ پمز اپنا کردار کامیابی سے ادا کر رہا ہے۔ ان سب تعریفی خدمات انجام دینے کا صلہ ہمیں یہ دیا جارہا ہے کہ آج اس ادارے اور اس کے ملازمین کا مستقبل تباہی کی جانب دھکیلا جارہا ہے اور ایم ٹی آئی جیسے کالے قانون کے تحت بندر بانٹ اور لوٹ کا بازار گرم کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ جس کی واضح مثال اسکول آف ڈینٹسٹری میں گزشتہ دنوں منظور نظر لوگوں کے رشتے داروں اور سیاسی وابستگی پر نااہل افراد کو گریڈ 17 اور 18 میں راتوں رات بھرتیاں ہیں۔ جو کہ کسی قسم کے میرٹ اور کمیشن کے مقابلے کے امتحان کے بغیر رکھے گئے ہیں جو انصاف اور میرٹ کا کھلے عام قتل ہے۔ ہم صحت کے نظام میں بہترین کے خواہش مند ہیں لیکن خیبرپختونخوا میں ناکام نظام کو وفاق اسلام آباد میں نافذ کرنا عقل مندی نہ ہے بلکہ ناہل افراد کو نوازنے اور میرٹ اور قابلیت کا قتل عام ہے۔ جسکی ہم مخالفت کرتے رہیں گے۔

آج بھی ہمارے دو سو کے قریب ساتھی کرونا جیسی وبا کا مقابلہ کرتے ہوئے خود کرونا کا شکار ہو چکے ہیں، ہمارے کئی ساتھی اس وبا میں جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ ہم ان حالات میں بھی اپنی قوم کی خدمت کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے جب کہ ایم ٹی آئی کا خالق نوشیروان برکی گزشتہ کرونا کے حالات میں اپنے ملک کو چھوڑ کر امریکہ جا بیٹھا تھا۔ مصیبت کی گھڑی میں انہیں پاکستانی ڈاکٹرز نے قوم کی خدمت کی اور اب جب حالات کچھہ بہتر ہوئے تو صحت کے اداروں میں شب خون مارا جا رہا ہے اور آج جب ہم ایک طرف کرونا سے مسلسل مصروف جنگ ہیں اور ذہنی طور پر ڈسٹرب ہیں ہمیں آرام سے کام سرانجام دینے کے بجائے اس نئی مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہم ایم ٹی آئی کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ یہ ایک مسترد اور ناکام شدہ نظام ہے جو گزشتہ سات سال سے صوبہ خیبرپختونخوا میں رائج ہے اور اگر یہ نظام کامیاب ہوتا تو آج خیبرپختونخوا کےچالیس فیصد مریض پمز اسلام آباد کا رخ نہ کر رہے ہوتے۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہوچکا ہے، پورے پانچ سال میں کوئی ایک بھی بالغ دل کے مریض کا آپریشن نہیں ہو سکا۔  مریضوں کو ادویات نہہں مل رہی ہیں اور نہ ہی سہولیات مل رہی ہیں، صرف دعوی کی حد تک حکومت کی باتیں ہیں۔ اسلام آباد میں اداروں کو فعال کرنے کے بجائے انہیں ناکام کرنے کے لیے نیا قانون لاکر ناکام ادارہ بنانے اور پھر من پسند افراد ہاتھوں میں اس قومی اثاثے کی فروخت جیسا قدم اٹھایا جائے گا، جس کی ہم شدید مخالفت کرتے ہیں ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ناکام نظام کو واپس لے ۔

پیر کے دن سے ہم دو گھنٹے کے علامتی احتجاج کا اعلان کرتے ہیں اس دوران ہم کرونا اور ایمرجنسی میں اپنی سروسز فراہم کرتے رہیں گے اور اور اپنا احتجاج روزانہ کی بنیاد پر جاری رکھیں گے۔ ہم نہیں چاہتے کرونا کی وبا کے درمیان اپنے مریضوں کو تنہا چھوڑ دیں مگر حکومت بھی ہوش کے ناخن لے اور اس قانون کو واپس لیں ورنہ شدید مزاحمت ہماری مجبوری ہوگی۔