پشاور: ڈسٹرکٹ اینڈ ریجنل ہیلتھ اتھارٹی ایکٹ صوبائی اسمبلی سے منظور، ڈاکٹروں کا احتجاج جاری!

رپورٹ: PTUDC پشاور

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت نے ریجنل وڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی بل 2019ء کو صوبہ خیبر پختونخواہ اسمبلی سے باقاعدہ منظوری کے بعد صوبہ بھر میں قانون کو نافذ کرنے کے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں قانونی طور پر صوبہ بھر کے ہسپتالوں کو نجی سرمایہ داروں کے حوالے کیا جا رہا ہے اس وقت صحت کا شعبہ کسی منڈی کا منظر پیش کر رہا ہے جہا ں پر مختلف سرمایہ داروں کو ان کی مرضی کے مطابق ہسپتال دیے جا رہے ہیں، بازار مصر میں صحت کی سہولیات سرعام نیلا م کی جا رہی ہیں۔ ہسپتالوں کو با اختیار بنانے کے نام پر ان کو اونے پونے سرمایہ داروں کے حوالے کیا جا رہا ہے تاکہ یہ زخموں کے کاروبار سے اپنی تجوریاں بھر سکیں۔ پہلے ٹیچنگ ہسپتالوں کو بیچا گیا اب تمام ہسپتال، دیہی مراکز گویا کہ پرائمری ہیلتھ نظام کو مکمل طور پر نجی شعبے کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

اس قانون کے مطابق ریجنل سطح کے علاوہ ضلعی سطح ہیلتھ اتھارٹیز قائم کی جائے گی جن کا کام ہسپتالوں کو نجی شعبے کی طرز پر منافع بخش اداروں میں تبدیل کرنا ہو گا۔ ان ہیلتھ اتھارٹیز کو وفاق، صوبائی حکومت کی جانب سے معالی معاونت بھی ہوگی جس کا آسان الفاظ میں مطلب عوام کے ٹیکسسز کی کمائی سے ان سرمایہ دارو ں کی سرمایہ کاری کو محفوظ بنایا جا ئے گا۔ تمام بی ایچ یوز، آر ایچ سیز اور دوسرے مراکز صحت اور کیٹگری ڈی ہسپتال اتھارٹی کے ماتحت ہوں گے۔ نئی بھرتیوں میں ڈاکٹر سول سرونٹ نہیں کہلائیں گے اسی طرح پیرا میڈیکل سمیت نرسز بھی ڈیلی ویجز پر بھرتی کئے جائیں گے۔ اس بل کے خلاف ابھرنے والی تمام آوازوں کو بزور طاقت کچلا جا رہا ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے سراپا احتجاج ملازمین کو بدترین پولیس گردی سے خاموش کروایا گیا، خبیرپختونخوا (کے پی) حکومت کی جانب سے اسمبلی سے منظور کردہ بل کے خلاف لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) میں احتجاج کرنے والے 26 ڈاکٹروں کے خلاف مقدمہ درج کردیا گیا جبکہ گرفتار ڈاکٹروں کو جیل بھیج دیا گیا۔ کپیٹل سٹی پولیس پشاور نے احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی، کار سرکار میں مداخلت، املاک کو نقصان پہنچانے، سرکاری اہلکاروں پر حملہ و مزاحمت، ضرر رسانی اور بلوہ کی دفعات 148، 149، 186، 188، 337، 353، 427 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کر لیا اس کے علاوہ روڈ بلاک کرنے پر بھی الگ ایف آئی آر درج کردی گئی ہے۔ گرینڈ ہیلتھ الائنس نے ملک کے سرکاری ہسپتالوں میں مکمل کام چھوڑ ہڑتال شروع کی ہوئی ہے۔ الائنس کے رہنماؤ ں کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے اور حکومت نجکاری پالیسی کو منسوخ نہیں کرتے اس وقت تک احتجاج جاری رہے گا۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC محکمہ صحت کے ملازمین کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے ان کی جدوجہد میں شانہ بشانہ لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام ترقی پسند قوتوں کو اس جدوجہد میں شامل ہونے کی اپیل کرتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محنت کش کی جڑت سے ہی حکمران طبقہ کو شکست دی جا سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*