سول ایو ی ایشن اتھارٹی کی نجکاری کے خلاف جدوجہد کا آغاز

تحریر: ملازمین، سول ایوی ایشن اتھارٹی آف پاکستان

حکومتِ پاکستان، ملک کے ایک انتہائی مضبوط ادارے سول ایوی ایشن (محکمہ شہری ہوابازی) کو توڑنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکومتی فیصلے کے مطابق ادارے کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کابینہ ڈویژن ایئرپورٹس سروسز آف پاکستان ( اے ایس پی) ایوی ایشن ڈویژن کے نیچے کام کرے گا۔ ایئرپورٹس سروسز آف پاکستان کو سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں باقاعدہ رجسٹر کیا جائے گا اور یہ 43ایئرپورٹ کی مالک ہوگی۔ کمپنی مختلف معاشی ماڈل پرکام کرے گی، کراچی ، اسلام آباد اور لاہور میں عوام کو سہولیات کی بہتری کیلئے سروزکوآوٹ سورس کیاجائے گااس کے لیے باقاعدہ ٹینڈر کئے جائیں گے ۔ اگر کوئی مثبت جواب نہ آئے تو ان کو ائیرپورٹسز کو جوائنٹ وینچر کے طورپر چلایا جائے گا اگر اس میں بھی اچھا رسپانس نہ آئے تو ایئرپورٹس سروسز آف پاکستان خود یہ ایئرپورٹ چلائے گی۔ اگست میں ایوی ایشن ڈویژن کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا اور اس کی انتظامیہ کمیٹی اور ضابطہ کار اورقانونی حیثیت کی نظرثانی کی جائے گی۔

سول ایوی ایشن ایک انتہائی منافع بخش ادارہ ہے۔ یہ ادارہ 2007ء تک چھ ارب روپے سالانہ منافع ریاستِ پاکستان کو دے رہا تھا اور اب 2019ء میں یہ منافع 80 ارب سے زیادہ ہو چکا ہے۔ یہ سول ایوی ایشن کے اپنے ملازمین کی شب و روز محنت کا نتیجہ ہے۔ اس میں کسی پرائیویٹ ادارے یا کمپنی کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ پاکستان کے پہلے تین بڑے منافع بخش اداروں میں شامل ہے۔ کرپشن کا جو ناسور بحیثت مجموعی حکومتی مشینری کو اپنے شکنجے میں لے چکا تھا اس سے بھی بڑی حد تک یہ ادارہ محفوظ تھا۔

سول ایوی ایشن کے ملازمین کی دن رات کی انتھک محنت اور پیشہ ورانہ مہارت سے ہی یہ ممکن ہو سکا کہ لاہور ائر پورٹ، ملتان ائرپورٹ،پشاور ائر پورٹ، کوئٹہ ائر پورٹ، اور سب سے بڑھ کر اسلام آباد ائر پورٹ پایہِ تکمیل تک پہنچے۔ اور ان اربوں روپے کے منصوبوں کو سول ایوی ایشن نے اپنے وسائل سے مکمل کیا، نہ حکومت سے کوئی گرانٹ لی اور نہ کسی کمپنی سے قرضہ لیا۔ اب حکومت سول ایوی ایشن کو توڑ کر دو حصوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، ملازمین میں انتہائی بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اور سنجیدہ حلقوں میں یہ سوال اُٹھ رہا ہے کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے۔ کیا اس کے بعد ملکی وقار پر اور ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا ادراک کیا گیا ہے۔ جو اتنے بڑے قیمتی اور منافع بخش ادارے کو توڑا جا رہا ہے اور اسے پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بنایا جا رہا ہے۔ ایسی کیا کامیابی جو سول ایوی ایشن نے حاصل نہیں کی جو پرائیویٹ کمپنی حاصل کر پائے گی۔

پاکستان سول ایوی ایشن کے چند حقائق

کچھ حقائق ہم آپ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں کہ ایئرپورٹ سروسز کمپنی اور ریگولیٹری کے نام سے جو دو ادارے بنانے کی تجویز ہے اس میں کمپنی کی آمدنی 30% اور اخراجات 70% ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ کمپنی اپنے قیام سے ہی خسارے میں ہو گی اور آخری نتیجہ کے طور پر اسے کسی سرمایہ دار کو فروخت کر دیا جائے گا۔ سول ایوی ایشن کے پاس سینکڑوں ارب روپے کی مالیت کی قیمتی زمینیں موجود ہیں۔ کیا ایک لیمٹیڈ کمپنی کو ریاست ِپا کستان پہلے دن سے ہی سینکڑوں ارب روپے کا مالک بنا دے گی۔ یاد دہانی کے لئے جب پی ٹی سی ایل کی نجکاری کی گئی تھی تب اتصلات کو پی ٹی سی ایل کی تمام قیمتی زمینیں، جائیدادیں دے دی گئیں جب کہ حکومت کو اتصلات نے اب تک واجب الادا رقم جو 2006ء میں 800 ملین ڈالر تھی وہ بھی ابھی تک پاکستان کو نہیں دی گئی۔ اسی طرح کی صورتِ حال سول ایوی ایشن کے ساتھ پیش آنے والی ہے۔ 2012ء میں انٹر نیشنل سول ایوی ایشن (ICAO) نے پاکستان سول ایوی ایشن کو اچھی کارکردگی کی بنیاد پر ایک بونس بھی دیا تھا اور 80+ نمبر بھی 192ممالک کی سول ایوی ایشن میں پاکستان کا 6 واں نمبر تھا۔ انٹر نیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے کہیں بھی پاکستان سول ایوی ایشن کو دو ٹکڑے کرنے اور خصوصاً اس کو لمیٹڈ بنانے کا نہیں کہا۔ جو مجوزہ ماڈل پاکستان سول ایوی ایشن کے لئے بنایا گیا ہے وہ انڈیا نے کچھ عرصہ پہلے لاگو کیا تھا اور وہ فیل ہو گیا تھا اور بھارتی حکومت نے واپس لے لیا تھا۔

پاکستانی حکومت کی پالیسی یہ تھی کہ نقصان میں چلنے والے اداروں کو پرائیوٹائز کیا جائے مگر سول ایوی ایشن کو 89ارب روپے کمانے والا ادارہ ہے اس کی توڑ پھوڑ کیوں کی جا رہی ہے یہ بنیادی طور پر حکومتی پالیسی کی نفی ہے۔ 2007ء میں سول ایوی ایشن کا منافع 6 ارب روپے تھا اور اب 2019ء میں 89ارب روپے سے زیادہ ہے۔ جو کہ پاکستان کا سب سے زیادہ پیسے کمانے والا ادارہ ہے اور یہ منافع اسی سیٹ اپ اور انہی لوگوں کے ساتھ کمایا گیا ہے اور فلائٹ سیفٹی کے بین الاقوامی معیار قائم کئے گئے۔ اب ریاستِ پاکستان اس قیمتی اثاثے کو ٹھیکیداروں کے رحم و کرم پر کیوں دینا چاہتی ہے۔

ایئر پورٹ کسی بھی ملک کے حساس اداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر ان پر پرائیویٹ ٹھیکیدار مسلط ہوں گے تو ملکی حساسیت پر بھی سوال پیدا ہو گا۔ اور جو پاکستان کے حالات ہیں ان میں تو یہ بہت رِسک ہے۔ آخری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی بنیادی طور پر عوامی رابطہ نہیں کرتی سول ایوی ایشن ائرپورٹ پر سہولیات مہیا کرتی ہے۔ جیسے بجلی، ائر کنڈیشننگ، سامان کی ترسیل کے لئے بیلٹ مہیا کرنا، دورانِ پرواز جہاز کو مناسب رہنمائی فراہم کرنا،اور جہازوں کو ائر پورٹوں پر پارکنگ اور دیگر سہولیات فراہم کرنا جو کہ سول ایوی ایشن بطریقِ احسن سرانجام دے رہی ہے اور جن کی شکایات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مسافروں کا براہ راست واسطہ یا رابطہ ANF، امیگریشن، کسٹم، مختلف ایئرلائنز اورسیکیورٹی فورس سے ہوتا ہے۔ انہی سے مسافروں کو شکایات ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ایئر پورٹ ملازمین بدنام ہوتے ہیں جیسا کہ حکومت چاہتی ہے کہ مسافروں کی شکایات میں کمی آئے اور ان کو بہتر خدمات ائر پورٹ سٹاف کی طرف سے میسر ہوں تو حکومت کو چاہئے کہ وہ مناسب قانون سازی کر کے سول ایوی ایشن کو ایئر پورٹ پر کام کرنے والے اداروں پر مزید بااختیار بنائے تاکہ ان اداروں کی خدمات بہتر ہوں اور مسافروں کی شکایات میں کمی آ سکے۔ اور ان کی داد رسی ہو سکے۔

ایک بہت بڑی غلط فہمی جو کہ ددانستہ طور پر کچھ عناصر کی طرف سے پھیلائی گئی ہے کہ سول ایوی ایشن کے مختلف شعبوں کے درمیان مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے اس محکمے کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ناگزیر ہے مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ انٹرنیشنل ایوی ایشن آرگنائیزیشن نے کسی بھی ملک کی سول ایوی ایشن کے لئے کسی بھی ماڈل کو ناگزیر قرار نہیں دیا۔ سول ایوی ایشن کی موجودہ تنظیمی ساخت میں تمام آمدن(Aero Nautical, Non Aeronautical and Commercial) مختلف جگہوں سے آتی ہے اور ریگولیٹری، ائرو ناٹیکل سروسز اور ایئر پورٹ سروسز کے اخراجات اس مشترکہ آمدن سے پورے کئے جاتے ہیں۔

پاکستان سول ایوی ایشن کو دو حصوں میں تقسیم کے نقصانات

آج سول ایوی ایشن 44 ایئر پورٹ کا نظام چلا رہی ہے اس وقت صرف 3 ایئر پورٹس اسلام آباد، لاہور، اور کراچی ایئر پورٹ منافع دے رہے ہیں اور یہاں باقی سب نقصان میں ہیں، جن کا نقصان اسی مرکزی آمدنی سے پورا کیا جاتا ہے۔ بالخصوص درمیانے اور چھوٹے ایئر پورٹس اس سے بہت زیادہ متاثر ہوں گے اور ان کی روز مرہ مرمت اور خدمات کی فراہمی سنگین نوعیت کی رکاوٹ کا شکار ہو جائیں گیان ایئر پورٹس کو ضروری مرمت کے لئے بھی اخراجات کی فراہمی ناممکن ہو جائے گی۔ ایئر پورٹ سروسز کمپنی پہلے دن سے مالی خسارے کا شکار ہوگی اور اس کا قایم رہنا ممکن نہیں رہے گا۔ پی ٹی سی ایل کی مثال ہمارے سامنے ہے یہ مالی بحران بہت سے ایئر پورٹس کی بندش کا باعث بنے گا، خصوصاً درمیانے درجے کے ایئر پورٹس جیسا کہ کوئٹہ، فیصل آباد، پشاور، ملتان، اور سکھر ایئر پورٹ اور چھوٹے ایئر پورٹس جیسا کہ گلگت، سکردو، چترال، نواب شاہ، پسنی، گوادر، تربت، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان وغیرہ مکمل طور پر بندش کا شکار ہو جائیں گے۔ بفرض محال اگر ان ایئر پورٹس کو چلایا گیا تو مسافروں پراور مسافروں کو سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کے بھاری ٹیکسوں کا نفاذ ضروری ہو جائے گا نتیجہ ایوی ایشن انڈسٹری تباہ حالی کا شکار ہو جائے گی۔
دوسری طرف ریگولیٹری باڈی کے لئے بھی اپنے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جائے گا اور نتیجہ لائیٹ سیفٹی، سکیورٹی اور CNS یعنی مواصلاتی اور تکنیکی سہولیات کی فراہمی متاثر ہو گی دونوں شعبے ریگولیٹری اور ایئر پورٹ سروسز کے افعال بری طرح سے متاثر ہوں گے اور ان کی خدمات کا معیار پست سطح تک جا پہنچے گا جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا درمیانہ سطح کے ایئر پورٹس جیسا کہ کوئٹہ، فیصل آباد، پشاور، ملتان، اور سکھرایئر پورٹ کی ماضی قریب میں تزئینِ نو کی گئی ہے تاکہ وہاں کے مقامی لوگوں کو بہتر فضائی سہولیا ت مہیا کی جا سکیں۔ ان علاقوں کی ترقی کے لئے ان ایئر پورٹس کا موثر انداز میں کام کرتے رہنا ہی ضروری ہے۔ دوسری طرف چھوٹے ایئر پورٹس مکمل طور پر غیر تجارتی اور غیر منافع بخش اور ان کا مقصد صرف اور صرف ان غیر ترقی یافتہ علاقوں کے لوگوں کو بحیثیت ِ پاکستانی سہولیات فراہم کرنا ہے ان ایئر پورٹس کے فعال ہونے میں ہی یہاں کے لوگ پاکستان کے دوسرے علاقوں تک رسائی کر سکتے ہیں اور یہاں سیاحت کا فروغ ممکن ہے۔ یہ نقصان میں چلنے والے ایئر پورٹس صرف اور صرف پاکستان کے پسماندہ علاقوں کو دوسرے علاقوں کے برابر لانے میں مدد گار ثابت ہو رہے ہیں۔ موجودہ وقت میں ان کا نقصان منافع بخش ایئر پورٹس کی آمدنی سے پورا کیا جا رہا ہے جو کہ کمپنی بننے اور پھر بڑے منافع بخش ایئر پورٹس کی نجکاری کی صورت میں ممکن نہیں رہے گا نتیجہ ان تمام ایئر پورٹس کی بندش کی صورت میں نکلے گا۔ اس صورت حال میں یہ پسماندہ علاقے مزید پسماندگی کا شکار ہو جائیں گے اور پاکستان کا بطور ایک فلاحی ریاست کا تاثر مزید مدھم ہو جائے گا اور ان علاقوں کے لوگوں میں احساس ِ محرومی مزید بڑھ جائے گا۔

مندرجہ بالا نکات کی روشنی میں پاکستان سول ایوی ایشن کو دو حصوں میں تقسیم کرنے سے مندرجہ ذیل نقصانات ہوں گے۔
1۔CAA کے دو حصوں میں تقسیم ہونے سے شہری ہوا بازی کی خدمات میں بہتری کی بجائے تنزلی آئے گی۔
2۔اس عمل سے ریگولیٹری کے ساتھ ساتھ فضائی رہنمائی اور ایئر پورٹس پر خدمات کی فراہمی کے نظام بھی بری طرح تعطل کا شکار ہو جائےگا۔
3۔ کمپنی بننے کی صورت میں بہت سے درمیانے درجے کے اور چھوٹے ایئر پورٹس مالی بحران کی وجہ سے بند ہو جائیں گے۔
4۔ ان ایئر پورٹس کی بندش کی وجہ سے غیر ترقی یافتہ علاقوں کے لوگ قومی دھارے سے مزید دور ہو جائیں گے۔ اور معاشرتی اور معاشی ترقی بری طرح متاثر ہو گی۔
5۔ شہری ہوا بازی کی صنعت one window facility سے محروم ہو جائے گی اور یہ تنزلی کا شکار ہو جائے گی۔
6۔ انسانی المیے کے طور پر سول ایوی ایشن کے ہزاروں ملازمین اپنی ملازمتوں سے محروم ہو جائیں گے کیونکہ کمپنی اور ریگولیٹری دونوں ہی اپنے ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر مراعات دینے میں مالی بحران اور ایئر پورٹس کی بندش کی وجہ سے اس قابل ہی نہیں رہیں گے۔

آخر میں اربابِ اختیار سے گزارش ہے کہ سول ایوی ایشن کے نمائندوں اور شہری ہوا بازی کی صنعت سے وابسطہ لوگوں کے ساتھ مشاورت سے ایسی پالیسی بنائی جائے جس سے محکمے کو بھی فائدہ ہو، حکومت کو آمدنی زیادہ ہو، لوگوں کے روزگار بھی ختم نہ ہوں اور ہوا بازی کی صنعت کو بھی پھلنے پھولنے کا موقع ملے۔ غیر نمائندہ اور شہری ہوا بازی سے نابلد لوگوں کے مشورہ سے ایسی پالیسی بنانے کے ملک اور عوام دونوں کو ہی نقصان ہے۔ جن کا مشاہدہ یہ قوم پی آئی اے، پی ٹی سی ایل، اور اسٹیل مل جیسے ادرروں کی تباہی کی صورت میں کر چکے ہیں۔ یہ ملک اور قوم اب ایک اور پی آئی اے، پی ٹی سی ایل، اور اسٹیل مل جیسے سانحے کے متحمل نہیں۔ یہاں یہ بیان کرنا بر موقع ہوگا کہ صرف PTCL کے حصے کرنے اور پھر اسے غیر ملکی سرمایہ دار کے ہاتھ بیچنے کا پاکستان کو کتنا مالی نقصان ہوا اور وہ ساری اُمیدیں اور سارین سہانے اندازے کس انداز میں تباہ ہوئے۔ وہ اب تاریخ کا حصہ ہیں ہم نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری تھی اور معذرت کے ساتھ اب پھر وہ ہی کام کرنے جا رہے ہیں۔

آگے کیا ؟

 10ہزار ملازمین کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے اور ان سے جڑے تقریباً ایک لاکھ لوگ پریشانی کا شکار ہیں مزید یہ کہ حکومت کا وژن تھا کہ اداروں کو مضبوط کرنا۔ مگر سول ایوی ایشن کو توڑنا اس وژن کی نفی ہے۔ یہ پاکستان کا بھی نقصان ہے اور پاکستان کے عوام کا بھی اور حکومت کی نیک نامی کا بھی۔ ہم اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے، جدوجہد کا آغاز کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے لازمی سروسز ایکٹ کا نفاذ بھی کیا جا چکا ہے لیکن ہم اپنے ادارے اور ملازمین کے روزگار کو بچانے کے لئے سرگرم عمل ہیں اور تمام محنت کشوں سے اظہار یکجہتی کی اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ شامل ہو کر نجکاری کی مکروہ پالیسی کے خلاف متحد ہو کر فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز کریں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*