پی آئی اے سے ہزاروں محنت کشوں کی جبری برطرفیوں کا حکومتی منصوبہ

تحریر: اریبہ شاہد

پی آئی اے کے نقصانات کو4.2 ارب روپے تک کم کرنے کے لئے  حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن  (پی آئی اے) سے  3000 مستقل اور کنٹریکٹ ملازمین کوجبری برطرف کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

حکومتی منصوبے کے مطابق  پی آئی اے  کےمستقل اور کنٹریکٹ ملازمین کو ادارے سے رضاکارانہ علیحدگی کا آپشن مہیا کرنا ہے۔ اس رضاکارانہ علیحدگی سکیم سے پر لگ بھگ 12.9 ارب روپے خرچ ہونگے جو ایوی ایشن ڈویژن کے مطابق ڈھائی سال کے عرصے میں پورے کئے جائیں گے۔ رضاکارانہ طور پر علیحدگی کی سمری کو وزیر اعظم نے اپریل 2019ء میں منظور کیا تھا۔

پی آئی اے کی تنظیم نو کے ایک حصے کے طور پر اور ایچ آر کی تعداد کو صنعت کے معیار کے قریب لانے کے لئے پی آئی اے انتظامیہ نے حکومت سے افرادی قوت کو 2500 سے 3000 تک کم کرنے کے لئے ایک بار فنڈ مختص کرنے کی درخواست کی تھی۔ پی آئی اے کو حاصل ہونے والی سالانہ بچت کے معاملے میں ان فنڈز کی ادائیگی 2.5 سے 3 سال ہوگی۔ ملازمین کو پرکشش علیحدگی اسکیم کی پیش کش کی جائے گی اور لوگوں کو اس پیش کش سے فائدہ اٹھانے کے لئے 15 دن کا وقت مل جائے گا، پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا۔

اس وقت پی آئی اے میں 14576 ملازم ہیں۔ ان میں 11356 مستقل اورکنٹریکٹ ملازمین، 3220  آؤٹ سورس ملازمین ہیں۔

ایوی ایشن ڈویژن کا دعویٰ ہے کہ 4505 عملہ زائد ہے،  جبکہ پی آئی اے انتظامیہ کا خیال ہے کہ کل ملازمین میں سے 34 فیصد زائد ہیں۔ زیادہ سے زیادہ 644 آؤٹ سورس پوزیشنوں کو سرپلس سمجھا جاتا ہے،  ان میں سے 540 کا تعلق کمرشل ڈیپارٹمنٹ سے ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پیر کو پی آئی اے ملازمین کے لئے رضاکارانہ علیحدگی اسکیم (وی ایس ایس) کی منظوری دی تھی۔

وزارت خزانہ نے ای سی سی کے اجلاس کے بعد اعلان کیا تھا کہ بحث و مباحثے کے بعد اصولی طور پر پی آئی اے کے لئے خدمت اسکیم سے رضاکارانہ طور پر علیحدگی کی منظوری دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ انتظامیہ کا مقصد ہے کہ ہر طیارے میں 250 ملازمین کا تناسب حاصل کیا جائے،  جو کہ اس وقت فی طیارے تناسب 486 ملازمین ہے، جو 7،500 کے عملے کے ساتھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

پی آئی اے ملازمین نے ای سی سی کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے میں ابتدائی ریٹائرمنٹ کی اہلیت کم از کم 20 سال کی سروس ہے، جس کے بعد انہیں قابل اطلاق فوائد ملتے ہیں۔ وہ ملازمین جنہوں نے 19 سال مکمل کر لئے ہیں اور 20 سال مکمل کرنے کی راہ پر گامزن ہیں اگر وہ 20 سال مکمل نہ کرسکے تو ان کو حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رہ سکتے ہیں۔

تاہم ، ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے نے اپنے کٹ آف کے طور پر 18 سال کا وقت طے کیا ہے، جس سے ملازمین کو مزید دو گروپوں میں بانٹ دیا جائے گا۔ یعنی وہ افراد جن کا 10 سال سے بھی کم تجربہ ہے اور جن کو 10-18 سال کا تجربہ ہے۔ لہذا، انتظامیہ 19 سال کی خدمت کے ملازمین کو 20 سال سروس پوری کرنے کے لئے کام کرنے کی اجازت دے گی۔

بشکریہ: ڈیلی منافع

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*