پشاور: آئی ایم ایف کی پالیسوں کے خلاف ہزاروں ملازمین اور محنت کشوں کا عظیم الشان احتجاج، پارلیمنٹ کے گھیراؤ کا اعلان

رپورٹ:  PTUDC پشاور

کل مورخہ 14ستمبر کو پردہ باغ پشاور میں پاکستان کی مزدور تحریک میں نئی تاریخ رقم ہوئی،  جب ’آل پاکستان ایمپلائز‘ لیبر و پنشنرز تحریک‘ کے پلیٹ فارم پر متحد پاکستان کی 61 سے زائد ٹریڈ یونینز،  مزدور تنظیموں اور پنشنرز ایسو سی ایشنز سے ہزاروں سرکاری ملازمین اور نجی شعبے کے محنت کشوں نے آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے خلاف شاندار احتجاج کرکے یہاں کے حکمرانوں کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان کے محنت کش اپنے اداروں اور اپنی مراعات کے تحفظ کے لئے متحد ہیں۔ آئی ایم ایف کی پالیسیوں اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ملک میں مختلف تنظیموں کی جانب سے جدوجہد جاری ہے تاہم پشاور میں ہونے والے احتجاج نے ملک کی تاریخ میں مزدور اتحاد اور مشترکہ جدوجہد میں نئی مثال قائم کی۔ پاکستان میں آخری مرتبہ اس طرح کے اتحاد کا مظاہرہ 1968-69ء کے انقلاب میں ہوا جب بشیر بختیار رہنما واپڈا ہائیڈروالیکٹرک یونین،  مرزا ابراہیم رہنما پاکستان ریلوے ورکرز یونین  اوردیگر رہنماؤں نے مل کر محنت کشوں کی تمام فیڈریشنز اورتنظیموں کو’جوائنٹ لیبرکونسل‘ کے جھنڈے تلے منظم کیا۔ ”جوائنٹ لیبر کونسل“ نے مورخہ 17 مارچ 1969ء کو ملک بھر میں ہڑتال کی جو ایوب خان صدر پاکستان کے استعفیٰ کا سبب بنی۔ اس مزدور اتحاد کی کوشش ضیا الحق دور میں ’تحریک بحالی جمہوریت‘ کے دوران بھی ہوئی تاہم لمبے عرصے سے مزدور اتحاد کی باز گشت تو ہوتی رہی مگر اس کو ملکی سطح پر عملی شکل پھر ’آل پاکستان ایمپلائز‘لیبر و پنشنرز تحریک‘ کے پشاور جلسے نے ہی دی۔

جلسے کا آغاز صبح اپنے مقررہ وقت 11بجے ہو نا تھا، مگر اس سے پہلے ہی مختلف اداروں سے ریلیوں کی شکل میں شرکا ء پہنچنا شروع ہو گئے۔  شرکاء کا جوش و جذبہ قابل دید تھا،  بغیر کسی نسلی یا صوبائی تعصب   کے تمام شرکاء کی زبان پر،’آئی ایم ایف مردہ باد،  مزدور اتحاد زندہ باد،  گو عمران گو‘ کے نعرے تھے۔ اس دوران کئی جذباتی لمحات بھی دیکھنے کو ملے،  محنت کشو ں کے سینے میں سرمائے کے نظام کے خلاف پنپتی نفرت آج بغاوت بن کر سامنے نظر آرہی تھی۔ ہزاروں ملازمین اور محنت کشوں کی آنکھوں میں امید اور جدوجہد کا عزم تھا ۔اس دن پورے صوبہ خیبرپختونخوا میں سرکاری دفاتر میں مکمل ہڑتال کی گئی اور حکمرانوں کو واضح پیغام دیا گیا کہ اس نظام کو چلانے والے تم نہیں ہم ہیں۔

جلسہ کی میزبانی کے فرائض  آل گورنمنٹ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل خیبرپختونخوا ہ جبکہ جلسہ کے دوران سٹیج کی ذمہ داری آل گورنمنٹ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل خیبرپختونخوا ہ اور آل پاکستان واپڈا ہائیڈروالیکٹرک یونین سی بی اے خیبرپختونخوا کے جنرل سیکرٹری نور الامین نے سر انجام دی۔آل گورنمنٹ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل خیبرپختونخوا ہ کے ممبر تنظیموں کے سربراہان کی حیثیت سے آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن(ایپکا) خیبرپختونخوا سے محمد سریرخان  صوبائی صدر جبران اسلم صوبائی جنرل سیکرٹری سیّد روئیدار شاہ صوبائی صدر،  لقمان گل صوبائی جنرل سیکرٹری پراونشل پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن، خیبرپختونخوا،  اکبر خان مہمند صوبائی صدرآل پاکستان کلاس فور ایسوسی ایشن، خیبرپختونخوا، اقبال خان صوبائی صدر نورالامین حیدرزئی صوبائی جنرل سیکرٹری،  آل پاکستان ہائیڈرو ورکرز ایسوسی ایشن، خیبرپختونخوا، ہمایوں خان وزیر صوبائی صدر مسلم خان صوبائی جنرل سیکرٹری ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹیٹیوٹ ایمپلائز ایسوسی ایشن، خیبرپختونخوا، آل سیکرٹریز ایسوسی ایشن، خیبرپختونخوا، لیاقت علی خان جھگڑا صوبائی صدر ملک ہدایت شاہ صوبائی جنرل سیکرٹری،شاہ ذوالقرنین صوبائی صدر نواز خان صوبائی جنرل سیکرٹری آل پاکستان ورکرز ویلفیئر بورڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن، خیبرپختونخوا، ریاض خان صدر، عابد سہیل جنرل سیکرٹری آل میونسپل ورکرز یونینWSSPرجسٹرڈ CBA پشاور، قیصر بادشاہ چیئرمین،  فضل محمود جنرل سیکرٹری مزدور اتحاد میونسپل ورکرز یونین سٹی ڈسٹرکٹ اینڈ آل ٹاونز (رجسٹرڈ) پشاور،  شہریار صابر صوبائی صدر محمد سرور صوبائی جنرل سیکرٹری،  سی اینڈ ڈبلیو آپریشنل اینڈ مینٹیننس ایسوسی ایشن، خیبرپختونخوا اور دیگر نے اپنے ملازمین کے ہمراہ بھرپور شرکت کی۔ آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن(ایپکا) کے مرکزی صدر حاجی محمد ارشاد چوہدری، جنرل سیکرٹری سید صدیق حسین شاہ اور دیگر ساتھیوں نے بھی شرکت کی۔ پشاور کے علاوہ دیگر اضلاع سے کابینہ ممبران سمیت شرکت کرنے والے ضلعی صدور میں ضلع سوات کے علی رحمان، ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے  فدا محمد بلوچ، ضلع جنوبی وزیرستان کے میر عباس، ضلع مانسہرہ کے کبیر جاوید یوسفزئی، ضلع کوہاٹ کے صدر محمد آصف، ضلع ایبٹ آباد سے سردار سلیم، ضلع ہری پور سے ملک حفیظ اور اختر نواز خان نے شرکت کی۔ایپکا ضلع پشاور کی ضلعی کابینہ کے عہدیداران اور مختلف محکمہ جات کے عہدیداران و ملازمین نے شرکت کی جن میں محکمہ اوقاف، محکمہ صحت، محکمہ وائلڈ لائف، محکمہ فشریز، محکمہ جنگلات، محکمہ انڈسٹریز، گورنمنٹ پرنٹنگ پریس خیبرپختونخوا، محکمہ سوشل ویلفیئر، محکمہ پاپولیشن ویلفیئر، محکمہ مائنز اینڈ منرلز، محکمہ سی اینڈ ڈبلیو، محکمہ ہائر ایجوکیشن، محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، محکمہ جوڈیشری، محکمہ آرکائیوز اینڈ لائبریریز، محکمہ سپورٹس، خیبرپختونخوا بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن، خیبرپختونخواٹیکسٹ بک بورڈ، پراونشل ہیلتھ سروسز اکیڈمی خیبرپختونخوا شامل تھے۔ اس کے علاوہ تنظیم خدام المساجد محکمہ اوقاف، ٹیکنیکل سٹاف ایسوسی ایشن محکمہ صحت خیبرپختونخوا، سول سیکرٹریٹ ڈرائیورز ایسوسی ایشن، سول سیکرٹریٹ کلاس فور ایسوسی ایشن کے کابینہ ممبران اور ساتھیوں نے بھی شرکت کی۔ گرینڈ ہیلتھ الائنس خیبرپختونخوا  کے ایگزیکٹیو ممبر ڈاکٹر زبیر ظاہر نے بھی نمائندہ وفد کے ساتھ شرکت کی۔

مرکزی یونینز میں سول ایوی ایشن اتھارٹی مزدور اتحاد کے صدر گل تیمور خان،  ریلوے لیبر یونین و ریلوے مزدور اتحاد کے راجہ عمران مرکزی نائب صدر، غریب نواز ڈویژنل چیئرمین، کامران خان جنرل سیکرٹری، میونسپل لیبر یونین میٹروپولیٹن راولپنڈی کے جاوید احمد صدرراجہ مجید جنرل سیکرٹری، پیپلز ٹیچرز فورم خیبرپختونخوا ہ کے صدر اخترعلی،  آل پاکستان گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن چیئرمین و متحدہ محاز اساتذہ پاکستان کے سرپرست اعلیٰ حاجی عبدالمناف خان، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین  PTUDC کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری چنگیز ملک،  پیپلز یونٹی پی آئی اے اسلام آباد کے صدر رمضان لغاری،  پراگریسیو لیبر یونین سٹیٹ بنک آف پاکستان کے مرکزی صدر افضل خٹک، محمد اعجاز سیکرٹری جنرل یونائیٹڈ کا رپوریشن الائنس CM یونین ریڈیو پاکستان،  سید ذیشان شاہ جنرل سیکرٹری اتحادورکرز یونین کی قیادت میں ان اداروں کے محنت کشوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پنشنرز تنظیموں میں آل پاکستان پی ٹی سی ایل پنشنرز ٹرسٹ کے مرکزی چیئرمین اکرام اللہ، پاکستان پنشنرز ایسو سی ایشن اور دیگر پنشنرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

جلسہ کے بعد پردہ باغ سے خیبر پختونخواہ صوبائی اسمبلی تک عظیم الشان ریلی نکالی گئی اور اسمبلی کے باہر دھرنا دیا گیا۔  احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ کہ حکومت کی طرف سے سالانہ اینکریمنٹ کا خاتمہ،پنشن کا خاتمہ،ریٹائرمنٹ عمر کی حد میں کمی،نجکاری پالیسی اور پوسٹنگ کا دو سالہ حکم نا مہ کسی صورت قبول نہیں کرینگے۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ گریڈ 1سے 22 تک کے ملا زمین کے بچوں کی بھرتیوں میں 50 فیصدایمپلائزسن کوٹہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 تک مقرر کیا جائے۔ میڈیکل الاؤنس اور کنوینس الاؤنس میں موجودہ مہنگائی کی شرح سے اضافہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے ان کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے مزدور کی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پے اینڈ پنشن کمیشن میں سرکاری ملا زمین کی ایسوسی ایشنز،  یونینز کے نما ئندوں کو نمائندگی دی جائے اور کمیشن کی سفارشات فوری طور پر شائع کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ تمام سرکاری ملازمین کی ویلفیئر سکیمیں بشمول سی پی فنڈ،جی پی فنڈ،گروپ انشورنس،بنوؤلنٹ فنڈ اور انشورنس کا نظام فرسودہ اور ناقص ہوچکا ہے جو کہ سرکاری ملا زمین کیلئے منافع بخش بنانے کیلئے نئے بورڈ کی تشکیل کی جائے۔  تمام سرکاری ملازمین کو وفاقی و صوبائی سیکرٹریٹ ملازمین کی طرز پر یوٹیلیٹی الاؤنس، سپیشل الاؤنس دے کرتضاد اور تفریق کو ختم کیا جائے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ریٹائرمنٹ کی عمر 60سال سے کم یا زیادہ کرنے کی بھر پور مخالفت کی جاتی ہے۔انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملا زمین کو 60 سال قبل ریٹائرڈ کرنے کے فیصلے اور اقدامات واپس لئے جائیں۔

آخر میں آل پاکستان ایمپلائز‘پنشنرز اینڈ لیبر تحریک،  آل گورنمنٹ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل خیبرپختونخوا ہ  اورآل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن(ایپکا) کے مرکزی چیئرمین محمد اسلم خان نے کہا کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو 14اکتوبر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے تاریخی دھرنا دیں گے جو کہ مطالبات نہ ماننے تک جاری رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*