خیرپور میرس: شاہ عنایت شہید ہاری کانفرنس کا انعقاد

رپورٹ کامریڈ فراز رڈ

مورخہ 22 نومبر بروز اتوار خیرپور میرس کے نواحی علاقے مٹھڑی میں انقلابی ہاری جدوجہد اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کی جانب سے شاہ عنایت شہید کسان کانفرنس منعقد کی گئی۔ جس میں پورے سندھ سے کسان اور مزدور رہنماؤں نے شرکت کی۔ پروگرام کے آغاز میں سندھ ہاری کمیٹی کے صدر کامریڈ اظہر جتوئی، پنجاب کے کسان رہنما اشفاق لنگڑیال (جس کا لاہور میں ایک مظاہرے کے دوران ریاستی تشدد کی وجہ سے انتقال ہوا تھا) اور خیرپور میرس کے کسان ساتھی میہرالمعروف بگن رڈ کی وفات پر ان کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے 2 منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ جس کے بعد کامریڈ روزا فراز نے انقلابی گیت پیش کیا۔

کامریڈ نذیر رڈ نے ٹھٹھہ، حیدرآباد، میرپور خاص، جوہی، شہدادکوٹ، دادو، سکھراور سندھ کے دیگر علاقوں سے آئے ہوئے کسان رہنماؤں کو خوش آمدید کہا، اس کے بعد انقلابی ہاری جدوجہد کے نئے عہدیداران کی حلف برداری کی تقریب ہوئی۔ کامریڈ سارنگ جام جو پروگرام کے مہمان خاص تھے، نے نئی کابینہ سے کسانوں کے حقوق کے لیے لڑنے اور ان کی سیاسی آواز بننے کا حلف لیا۔ کابینہ میں منتخب ہونے والے عہدیداران صدر غلام اللہ سیلرو، سینئرنائب صدر زاھد زئنور، نائب صدر کامریڈ سکندر زئنور، جنرل سیکریٹری مقبول لغاری، ڈپٹی جنرل سیکرٹری شرجیل شر،جوائنٹ سیکرٹری فراز رڈ، پریس سیکرٹری کامريڈ عبد الستار مگنھار، خزانچی امین لغاری تھے۔ جس کے بعد تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا۔

مقررین نے موجودہ عہد میں کسانوں کے حالات اور زرعی مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شاہ عنایت شہید نے جو نعرہ آج سے تین سو برس پہلے دیا تھا، (جو کھیڑے سو کھائے) جو اگائے وہی کھائے، اور جس کی بنیاد پر جاگیرداروں کے خلاف کسانوں کی مزاحمت کو نہ صرف منظم کیا گیا بلکہ جنگ کا بھی آغاز کیا اور جام شہادت نوش کیا، وہ جنگ ابھی تک جاری ہے. سرمایہ داری اور سامراج نے کسانوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ حکمرانوں کی نااہلی کے سبب ملک کی ستر فیصد آبادی آج بھی زراعت سے وابستہ ہے، ملکی ضروریات سے زیادہ اناج پیدا ہونے کے باوجود آبادی کی اکثریت غذائی قلت کا شکار ہے۔ ایک طرف جدید آبپاشی نظام نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ تو دوسری طرف جعلی بیج، جعلی زرعی ادویات اور مہنگی کھاد کی وجہ سے کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اگر فصل تیار بھی ہو جائے تو جب مارکیٹ پہنچتی ہے تو فلور ملز مافیا، شوگرملز مافیا اور دیگر زرعی اجناس خریدنے والے تاجر مافیا گروہ اجناس کم قیمت پر خریدتے ہیں۔ کسان سود خوروں اور مائیکروفنانس بینکوں کے قرضوں تلے دب جاتے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ مزدوروں اور کسانوں کا مشترکہ دشمن سرمایہ دار ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں، جن کے خلاف مزاحمت بھی مشترکہ کرنی پڑے گی۔ بربادیوں اذیتون اور انسانی لاشوں پر پلتے ہوئے اس سرمایہ داری نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور سوشلزم کی تعمیر سے ہی اب اس پھیلی ہوئی بھوک بیماری اور محرومی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

پروگرام کے مہمان خاص کامريڈ جام ساقی کے صاحبزادے کامريڈ سارنگ جام اور PTUDC سندھ کے صدر کامریڈ انور پنہور تھے۔ جب کہ پروگرام کی صدارت انقلابی ہاری جدوجھد کے صدر کامریڈ غلام اللہ سیلرو نے کی۔ مقررین میں سعید خاصخیلی، شرجیل شر، علی عابد، شھباز پھلپوٹو، امجد لاشاری،میہرگاڈھی،جھنڈو خان لغاری،قادربخش سیلرو،سکندر زئنور،ستار مگنھار،شبانہ پیرزادو عرس سیلرو، حسین آریسر، کامريڈ راہول اورغلام اللہ سیلروتھے۔ ادیب رڈ، نسیم اعجاز اور منان رڈ نے انقلابی گیت پیش کیئے۔ پروگرام کی میزبانی کے فرائض فراز رڈ نے ادا کیے۔

آخر میں حنیف مصرانی نے کانفرنس میں قراردادیں پیش کیں۔ جنہیں شرکاء نے متفقہ طور پر منظورکیا۔

1۔ سندھ کی تمام نہروں اور واٹر کورسز کی ٹیل تک پانی پہنچایا جائے۔
2۔ سندھو دریا کے اوپر مزید کوئی نیا ڈیم نہ بنایا جائے اور آبپاشی نظام کو جدید بنایا جائے۔
3۔ چاول اور کھجور کی فصلوں پر مارکیٹ میں تاجروں کی جانب سے کردہ کٹوتیوں کے عمل کو فل فور بند کیاجائے۔
4۔ جعلی کھاد،جعلی بیج اور جعلی زرعی ادویات کے کاروبار کو بند کروایا جائے اور تمام غیر رجسٹرڈ کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
5۔ سرکاری طور مراکز قائم کر کے ٹی۔س۔پی کے ذریعے چاول کی خریداری کرائی جائے۔
6۔ برساتوں کے سبب ملک کے کسان اور چھوٹے آ بادگار بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں اس لیے فی ایکڑ پچاس ہزار روپے امداد دی جائے۔
7۔ زرعی مقاصد کے لیے مفت بجلی فراہم کی جائے ۔
8 ۔ کسانوں اور چھوٹے آبادگاروں کو سستا ڈیزل فراہم کیا جائے۔
9۔ گندم،چاول اور گنے کی امدادی قیمت میں اضافہ کیا جائے۔
10۔ فصلوں کے لیے معیاری بیج فراہم کیے جائیں۔
11۔ زرعی دوائوں اور کیمیائی کھاد کے تمام کارخانوں قومی تحویل میں لیا جائے۔
12۔ ملک کی تمام جاگیریں ضبط کر کے بے زمین کسانوں میں مفت تقسیم کی جائیں۔
13۔ لاہور میں کسانوں پر کئے گئے پولیس تشدد کی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں۔