آزاد جموں کشمیر ریاست کے شعبہ صحت کا بحران

تحریر: ڈاکٹر صباحت زہرہ، پوسٹ گریجویٹ ٹرینی AIMS ہسپتال، مظفرآباد

عالمی سطح پر صحت عامہ کو برقرار رکھنے کے لئے ذمہ دار اقوام متحدہ کی خصوصی ایجنسی عالمی ادارہ صحت نے رواں سال مارچ میں کورونا وائرس کو وبا قرار دیا۔ عالمی معاشی طاقتوں نے عوام کی اکثریت کو بیماری سے بچانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر برسوں سے نظر انداز کئے گئے شعبہ صحت کو وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا۔ کورونا وائرس نے پوری دنیا کے شعبہ صحت کی زبوں حالی کو عیاں کیا یہاں تک کہ بظاہر مثالی صحت کے نظام بھی محض ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ ہیلتھ پروفیشنلز قلیل وسائل کے باوجود اس مہلک وائرس سے لڑنے کے لئے اگلی صفوں میں کھڑے نظر آئے۔ حال ہی میں شائع ہونے والی کچھ خبروں کے مطابق خوش قسمتی سے بہت سے ممالک کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی کا دعوی کر رہے ہیں۔ اس کا سہرا جزوی طور پر حکومتوں کی بروقت پالیسیوں کے نفاذ اور کافی حد تک ہیلتھ پروفیشنلزکی لگن اور استقامت کو جاتا ہے۔ تاہم اس وبانے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنانے کی اہمیت اور عہد عاصر کی ضروریات کے مطابق استوار کرنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔

آزاد جموں و کشمیر یا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کئے ہوئے 72 سال ہو چکے ہیں۔آزاد کشمیر دنیا کے نقشے پر ابھرے جانے کے بعد سے ابھی تک شعبہ صحت کے حوالے سے مسائل کا شکارہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ کشمیر کا صحت کا نظام پورے سال جزوی ایمرجنسی کی حالت میں رہتا ہے، اس کی بنیادی وجہ اس کی جغرافیائی سیاسی اور سخت موسمی صورتحال ہے۔ اس خطے میں سپیشلائزڈنگہداشت کی سہولیات کی عدم موجودگی ہے، اسپتالوں میں بھی لیب کی سہولیات، بستر، ہنگامی ادویات اورتربیت یافتہ عملے کا فقدان ہے۔ افسوس کے ساتھ، صحت کے دیکھ بھال کے غیر موثر نظام کی وجہ سے مریضوں کو پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں میں بھیجا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ سپیشلائزیشن کے باوجودحکومت کے وعدوں کے برعکس ہسپتالوں میں خدمات فراہم کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ ہسپتالوں میں آسامیوں کی شدید کمی ہے۔ خوش قسمتی سے یا بدقسمتی سے اس خطے میں چارمیڈیکل کالجز موجود ہیں، جہاں سے ہرسال میں 400 سے زیادہ ڈاکٹرز گریجویٹ ہوتے ہیں۔ لیکن ان کو ایڈجسٹ کرنے کیلئے موثر اور طویل المیعاد پالیسیاں کبھی بھی تیار نہیں کی گئیں۔ ہیلتھ پروفیشنلزکسی بھی قوم کے سچے جذبوں سے سرشار بے نیاز ہیرو ہوتے ہیں تاہم یہاں وبائی مرض کے دوران ہیلتھ پروفیشنلزکو تعریف اورعزت افزائی ملنے کی بجائے انہیں نہ ختم ہونے والے تشدد اور دھمکیوں اور موت کے خطرات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔اسی طرح مریضوں کے لواحقین اور دیگر حاضرین کی جانب سے بھی نظام صحت کی کمزوریوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات کا سارا الزام ہیلتھ پروفیشنلزپر عائد کیا جا تا ہے۔

ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن YDA، حال ہی میں آزاد جموں و کشمیر میں صحت کے بنیادی ڈھانچے میں سہولیات کی عدم موجودگی اور انحطاط پرکے خلاف جدوجہد کرنے والی تنظیم بن چکی ہے۔ YDA نے قریب دو مہینے پہلے سیاہ ربنوں کی علامتی ہڑتال کی جس سے اس تحریک کو ایک انتہائی ضروری محرک فراہم ہوا اور اس نے زور پکڑ ا۔ اسی طرح مقبول ٹوکن ہڑتال، روڈ مارچ اور اس کے ساتھ دارالحکومت مظفرآباد کے دارالحکومت میں اسمبلی ہال کے سامنے دھرنا دیا گیا۔ YDA کے نمائندگان نے اپنے معاملات کو اجاگر کرتے ہوئے محکمہ صحت کے عہدیداروں کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بھی کھلے رکھے۔YDA کے مطالبات میں آزاد جموں کشمیر صحت کے نگہداشت پیشہ ور افراد کی تنخواہوں میں اضافے اور وفاقی حکومت کے ماتحت کام کرنے والے ہیلتھ پرافیشنلز کی تنخواہوں کے مساوی کرنے، جدید ترین لیبز اور ادویات سے لیس تر ہسپتالوں کا قیام، ڈاکٹروں کی نئی آسامیوں کی تخلیق، سروس سٹرکچر کے نظام کی بحالی اور ہیلتھ پروفیشنلز کے لئے حفاظتی ایکٹ کا اعلان شامل ہیں۔ لیکن صورتحال اس وقت بد سے بدتر ہوتی چلی گئی جب پولیس نے YDAکے دھرنے سے 23 کے قریب ڈاکٹروں کو گرفتار کیا اور بعد میں آزاد جموں حکومت کی طرف سے جاری کردہ احکامات کے بعد ان پر بے دردی سے لاٹھی چارج کیا گیا۔ جس کے جواب میں شعبہ صحت کے ملازمین نے پورے خطے میں ہنگامی خدمات کی فراہمی کا غیر معینہ مدت کے لئے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا۔ YDA کے ممبران اس وقت تک اپنے احتجاج کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں جب تک کہ ان کے مطالبات پر پوری توجہ نہ دی جائے۔ بدقسمتی سے حکومت نے ڈاکٹروں کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے فوج اور پولیس کو اسپتالوں کے باہر تعینات کردیا اور اس طرح عوام کو صحت کے بنیادی حقوق سے محروم کردیا۔ آج تمام صحت کی خدمات کی بندش کا مسلسل تیسرا دن ہے لیکن حکومت کے نمائندوں میں سے کسی نے بھی اتنی اخلاقی جرات نہیں کی کہ وہ ان ڈاکٹرز کے مسائل سکے اور ان کی حقیقی شکایات دور کرے۔

ایک طرف جہاں صحت عالمی ترجیح بنتی جارہی ہے، خوفناک طور پر آزاد جموں و کشمیر کی حکومت صورتحال کی پیچیدگی کی طرف آنکھیں بند کر رہی ہے۔ بجٹ کا ایک بڑا حصہ محکمہ صحت کے لئے ایک وسیع رقم مختص کرنے کے بجائے سڑکوں کے نام پر انفراسٹرکچر پر مختص کیا جارہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایک ہزار افراد کے لئے کم از کم ایک ڈاکٹر ہونا ضروری ہے، جبکہ کشمیر میں 0.4 ملین سے زیادہ آبادی کے ڈاکٹروں کی تعداد بمشکل چند سو میں ہے۔ اسی طرح7500 کی آبادی پر ایک دانتوں کا ڈاکٹر ہونا ضروری ہے جبکہ غیر معمولی طور پر اسخطے میں دانتوں کے 100 سے بھی کم ڈاکٹرز موجود ہیں۔ ایک بار پھر دنیا میں جہاں جدید طرز عمل، علاج اور لیب کی سہولیات کے ذریعے شعبہ طب میں انقلاب برپا کیا جا رہا ہے مگر کشمیر میں لوگوں کو بنیادی طبی سہولیات کی کمی کی وجہ سے اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہاں کمپیوٹرائزڈ ٹوموگرافی (سی ٹی) اسکین اور مقناطیسی گونج امیجنگ (ایم آر آئی) مشینیں اور اسپتالوں میں دیگر سہولیات یہاں ناپید ہیں۔ 1968 ء سے مغربی دنیا میں دل کی پیوند کاری شروع ہو چکی ہے مگر یہاں 2020 ء میں بھی مریضوں کو بڑی تعداد میں ہیلتھ پروفیشنلز کی دستیابی کے باوجود انجیوگرافی اور انجیو پلاسٹی جیسے طریقہ کار کے لئے اسلام آبادریفر کیا جا تا ہے۔ ہمارے پاس طبی شعبے میں بہترین پیشہ ور ڈاکٹرز موجود ہیں، جیسے کارڈیالوجی، نیفروولوجی، نیورو سرجری اور کیا نہیں۔ لیکن یہ ڈاکٹرز بھی صحت کے انفراسٹرکچر کی کمی کی وجہ سے اپنی بہترین خدمات انجام دینے سے قاصر ہیں۔ ڈاکٹر 30 گھنٹے مسلسل شفٹوں میں کام کر رہے ہیں لیکن انہیں ملک بھر میں سب سے کم تنخواہ دی جاتی ہے۔ حال ہی میں آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں قائم آسولیشن ہسپتال میں انتہائی نگہداشت یونٹ (ICU) میں مریضوں کے لواحقین نے ہتھیاروں سے لیس ہو کر مظاہرہ کیا اور ہسپتال میں سہولیات کی عدم فراہمی پر ڈیوٹی عملے کو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔

ڈاکٹرزان مطالبات کے لئےمسلسل آواز بلند کررہے ہیں جوکہ ان کے بنیادی حقوق ہیں۔ بیمارانسانیت کی خدمت کے لئے اپنی توانائی کو استعمال کرنے کے بجائے انہیں بنیادی حقوق اور بنیادی سہولیات سے محروم کیا جارہا ہے۔ حکومت بہتر صحت کے قابل عمل ماحول فراہم کرنے کی بجائے صحت سے متعلق پیشہ ورافراد کو کشمیر سے دیگر جگہوں پر کام کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ پہلے سے ہی بیرون ملک میں کشمیر کے کئی ڈاکٹرز، سرجن، امراض قلب اور دیگر ماہرین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جہاں ان کا اعتراف کیا جاتا ہے اور ان کی خدمات کے لئے انھیں بہت سراہا جاتا ہے۔ اگر حکومت کے اس رویے کو جلد ہی تبدیل نہیں کیا گیا، تو پہلے سے ہی تباہ شدہ صحت کا نظام انسانی وسائل سے بھی محروم ہوجائے گا۔

Original Article was published in Daily Times on 9th July 2020

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*