ہندوستان: شمال مشرقی دہلی کا طبی عملہ تین ماہ سے تنخواہ سے محروم

رپورٹ: آئی این ایس انڈیا

موم بتی جلاکرکبھی ڈھول بجاکرکوروناکے درمیان خدمات پیش کرنے والوں کے استقبال کاہنگامہ توکیاجاتاہے۔ باربارطبی عملے کے احترام، ان کے وقاراوران کے مفادات کی حفاظت کی باتیں کی جاتی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ڈھول بجانے سے ان کے پیٹ بھرجائیں گے، زبان پرکچھ اورعملی طورپرکچھ اورہورہاہے۔ ریاستیں اورمرکزی حکومتیں لمبی لمبی بول توبول رہی ہیں لیکن ایک طرف بہارمیں 35000 طبی عملے نے تنخواہ نہ ملنے کے سبب ہڑتال کی دھمکی دی تھی، اب شمال مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن کے ماتحت طبی عملے، ڈاکٹروں ، نرسنگ کوتقریباََ 3 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں گھرچلانے میں بھی دشواری کا سامناکرناپڑرہا ہے۔

طبی عملے کارکن بہت پریشان ہیں۔ ایک طرف، کرونا وائرس کے اس مشکل وقت میں وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور مریضوں کا علاج کر رہے ہیں، جبکہ حکومت ان کی تنخواہ ان تک پہنچانے میں بھی ناکام ہے۔ اس دوران ڈاکٹرماروتی سنہا نے کہا ہے کہ ہمیں 3 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ جس کی وجہ سے گھر چلانا بہت مشکل ہے۔ ہم اپنا ای ایم آئی اور بچوں کی اسکول کی فیس ادا نہیں کرسکتے ہیں۔

ہم نے وزیراعظم کوخط لکھا تھا لیکن ابھی تک ہمیں اپنے واجبات موصول نہیں ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کوروناکے زمانے میں، جہاں ہم  مریضوں کا علاج کرنے میں اپنی جانیں دے رہے ہیں، انہیں فکرنہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*