ترکی: کورونا کے خلاف برسر پیکار فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز ناپید ہونے کے دہانے پر

رپورٹ: سوشلسٹ مڈل ایسٹ

طیب اردگان کی حکومت کی غیرذمہ داری اور عدم توجہ کے باعث ترکی عوام وبائی مرض کی تکلیف دہ قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں، کورونا کیسز میں تیز تر اضافہ ہو رہا ہے اور اس وجہ سے صحت کا نظام مکمل انہدام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مثال کے طور پردارالحکومت انقرہ میں صحت کا نظام اب مزید مریضوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ہے۔

ترکش میڈیکل ایسوسی ایشن (TTB) کی زیر قیادت کوآرڈی نیشن بورڈ آف اسپیشیلٹی ایسوسی ایشنز نے ایک اعلامیہ شائع کیا جس میں کہا گیا کہ ”وبا سے حالات بد تر ہو رہے ہیں، ہم تھک چکے ہیں۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ،’ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارا صحت کا نظام اس وبا کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہا اورشعبہ صحت میں افرادی قوت اور سہولیات کے فقدان کی وجہ سے پریشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے‘۔

شعبہ صحت کی تنظیموں خصوصاً TTB کی جانب سے پیش کردہ تمام انتباہات کو حکومت مسلسل نظرانداز کر رہی ہے۔ وبا سے نبٹنے کے اقدامات کو بڑھانے کی بجائے حکومت صورتحال کومزید گھمبیر کر رہی ہے۔ اس کیفیت کی وضاحت مختلف اہم مثالوں سے کی جا سکتی ہے۔ جیسا کہ وبا کے دوران ہی حکومت کی جانب سے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاحتی شعبے کو کھولنااور کام کرنے والی جگہوں پر حفاظتی اقدامات کے فقدان اورویسٹل اور دارانیل* جیسی بڑی فیکٹریوں میں محنت کش پرہجوم والی جگہوں پر کام کرنے پرمجبور ہیں۔ یہی نہیں بلکہ آیا صوفیہ کے افتتاح کے موقع پر سینکڑوں افرادکا جمع کرنا اور گیریسن میں جلوس نکالنے جیسے اقدامات اردگان کی ذہنی کیفیت کو عیاں کرتے ہیں، ان مواقعوں پر کورونا کے خلاف حفاظتی اقدامات کو یکسر نظر انداز کیا گیا جس کا نتیجہ بے تحاشا کیسز میں سامنے آیا۔

مختصر یہ کہ وبائی مرض کو نظراندازکرتے ہوئے ا ردگان کی حکومت نے معیشت کی بحالی اور حکومت کو طاقتور کرنے پر زیادہ توجہ دی۔ ٹی وی اور سوشل میڈیا پرباقاعدہ پروپیگنڈا کے ذریعے عوام کو صحت کے بڑھتے ہوئے بحران کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔

ان سب کا نتیجہ واضح ہے، شعبہ صحت کی تنظیمیں بارہا اپیلیں کر رہی ہیں کہ اس وقت ہیلتھ ورکرز ناپید ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ وزیر صحت نے اعلان کیا کہ 29 ہزارشعبہ صحت کے محنت کشوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کا مطلب ہے کہ ترکی میں مجموعی مثبتکیسز میں 11% کیسز صرف شعبہ صحت سے منسلک محنت کشوں کے ہے۔وبا کے آغاز میں ہی 52فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز فوت ہو ئے اور اب یہ تعداد ڈرامائی انداز میں بڑھ رہی ہے۔

دوسری طرف ہیلتھ ورکرز پر بھاری کام کے بوجھ کی وجہ سے یہ مزید فرائض سر انجام دینے سے قاصر ہیں۔ حکومت کی عدم توجہی کے عالم میں ہیلتھ ورکرز برباد ہورہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہیلتھ ورکرز یونین نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں اپنے مسائل اور پریشانیوں کا اظہار کیا۔ لیکن ہمیشہ کی طرح حکومت یا کسی اتھارٹی کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

کچھ محنت کش تو سوشل میڈیا پر اپنی پریشانی کا اظہار کرنے سے دریغ نہیں کررہے۔ ایک ہیلتھ ورکر کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ’18 مارٹ یونیورسٹی ہیلتھ ریسرچ اینڈ ایپلی کیشن ہسپتال‘جو کہ جو سانککلے شہر میں وبائی امراض کے خلاف انتہائی نگہداشت یونٹ کے طور پر فرائض سر انجام دے رہا ہے، یہاں ہیلتھ ورکرز کو کیڑے دار کھانا دیا جاتا ہے۔

وبائی مرض کے علاوہ خوداردگان کی پارٹی اے کے پی کی حکومت اب صحت عامہ کے لئے مسئلہ بن چکی ہے۔ حکومت مزدوروں اورہیلتھ ورکرز کے مطالبات کو مسلسل نظرانداز کررہی ہے۔ وہ فرنٹ لائن سولجرز، جو وبائی امراض کے خلاف پوری لگن سے کام کر رہے ہیں ، حکومت نے انہیں نہتے کورونا سے مرنے کے لئے چھوڑ دیا ہے۔

* ویسٹل اور دارانیل فیکٹریوں میں ایک نئی سکیم متعارف کروائی گئی۔ یہ عمل تقریبا حراستی کیمپوں کی یاد دلانے والا ہے۔ مزدوروں کو گھر جانے کی اجازت نہیں بلکہ انہیں تنہائی میں کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*