ملک کی سیاسی صورتحال: طاقت کی اطاعت یا ہیرو پرستی

تحریر: رؤف لنڈ

ڈاکٹر مبارک سمیت تقریباً ایسے تمام مورخین جو انسانی اجتماعیت اور عظمت پہ یقین رکھتے ہیں۔ وہ بالاتفاق یہی کہتے اور لکھتے آئے ہیں کہ انسانی سماج کی قطعی اکثریت کو آس /امید کی ایک ایسی کیفیت میں ڈال دینا جس سے وہ خود عضو معطل بن کر رہ جائیں اور دوسری طرف اپنے مسائل کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے بھی ان کے حل کی کسی ایسی آس اور امکان کی تلاش میں رہیں کہ جسے ان کے علاوہ کوئی اور آ کر ان کے مسائلِ زندگی حل کرنے کی آس پوری کر دے اسے ہیرو پرستی کہتے ہیں۔

یہ خیال اور یہ تعریف اچانک نہیں ابھری اور نہ ہی یہ آج، کل یا سالوں پہلے کی ہے بلکہ اس سوچ اور کیفیت کا جنم اور آغاز کئی صدیوں اور ہزاروں سالوں کے اس عرصے سے ہوا ہے کہ جب سے طبقاتی نظام اور سماج کا آغاز ہوا ہے۔ یہ سوچ اور یہ کیفیت بالادست، طاقتور، حکمران طبقے کی زیردست مظلوم اور محکوم طبقے پر مکمل اور مسلسل گرفت رکھنے کی شعوری کوشش کا شاخسانہ ہے۔ اس کیفیت اور سوچ کو فروغ دینے میں طبقاتی سماج کے ہر دور کے حکمران طبقے کے گماشتہ میڈیا کا کردار رہا ہے۔

قدیم بادشاہتوں، فاتح جرنیلی مملکتوں سے لے کر اب تک کی سرمایہ دارانہ جمہوری حکومتوں تک بالادست طبقے کے مسلسل پروپیگنڈہ سے عام لوگوں کو یہ باور کرایا جاتا رہا ہے کہ آپ کا بادشاہ، جرنیل اور لیڈر جملہ انسانی خوبیوں، خصوصیات اور عظمتوں کا مالک ہوتا ہے۔ وہ ہی آپ سب سے بہتر سوچ، سمجھ اور دیکھ اور کر سکتا ہے۔ سو تسلسل سے درسی و مذہبی کتابوں، تحریروں اور ضابطوں سے پھیلائے گئے اس پروپیگینڈ ے کے زور کی وجہ سے عام آدمی اور اس کی قطعی سماجی اکثریت یعنی محنت کش طبقے کو مفلوج اور بے بس بنا کے رکھ دیا جاتا ہے۔ اس لئے عام لوگ اس قدر صبر، شکر، قناعت اور اطاعت کرنے والے بن جاتے ہیں کہ وہ اپنے آقا، حکمران، مذہبی اور سیاسی لیڈر کو اپنے ہر مسئلے کے حل، دکھ، تکلیف، ذلت اور اذیت سے نجات دلانے کا مرکز اور محور بنا لیتے ہیں۔ تبھی وہ اپنے ان (سمجھے اور بنائے گئے) لیڈر اور نجات دہندہ کے خلاف ہونا تو درکنار ان کے خلاف بولنا اور سوچنا ہی بند کر دیتے ہیں۔ ان کی ایسی ہی حالت بارے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’کتنے بد قسمت ہیں وہ لوگ جو خوابوں میں اپنے نجات دہندہ کے بت تراشتے ہیں اور جب اس بت کی حقیقت آشکار و عیاں ہوتی ہے تو وہ جاگنے سے انکار کر دیتے ہیں‘۔

آج پاکستان بھی بد قسمتی کے ایسے ہی دور سے گزر رہا ہے کہ جن جن لوگوں نے کل تک اپنے نجات دہندوں کے بت تراشے ہوئے تھے۔ آج ان بتوں کی حقیقت عیاں ہوئی ہے تو وہ جاگنے سے انکاری ہیں بلکہ اپنی نیند میں ان بتوں کے حق میں بڑی بڑی اور گہری دلیلیں بھی دے رہے ہیں۔لیکن جس طرح کارل مارکس کے جدلیاتی فلسفے کی الف ب کی رو سے ہر چیز وقت بدلاؤ میں ہے اور جسے اقبال نے اس فقرے میں سمویا تھا کہ:
’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘
تو پھر مارکسی فلسفے کے تغیر کی روشنی میں یہ وقت بھی نہیں رہنا۔

اور طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں۔۔۔۔ یہ نعرہ انقلابِ روس کے بانی کامریڈ لینن کے اس قول سے لیا گیا تھا کہ طاقت محنت کش طبقے کے پاس ہوتی ہے۔۔ مگر اسے اپنی اس طاقت کا ادراک نہیں ہوتا۔ ضرورت اس طبقے کو اپنی طاقت کے ادراک دینے کی ہے۔ پھر وہ سب کچھ کر گزرنے، یہاں تک کہ زمین کو سب بتوں سے پاک کرنے اور تاج اور تخت بدلنے کی بھی دیر نہیں کرتے۔
ہمارا یہ عزم ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو، اپنے محنت کش طبقے کو اس طاقت کا ادراک دے کر رہیں گے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*