”ہسپتال بناؤ، زندگی بچاو تحریک“, کیا ہے اور کیوں ہے؟

رپورٹ: افراز رشید

مورخہ 30 جنوری ہسپتال بناؤ، زندگی بچاو تحریک  کے زیر اہتمام ”مفت اور جدید علاج ہمارا حق ہے“ کے نعرے پر پلندری، ضلع سدھنوتی آزادکشمیر میں احتجاجی ریلی و مظاہرہ منعقد ہوا۔ احتجاجی ریلی کا آغاز دن 10:30 بجے پوسٹ گریجویٹ کالج پلندری سے ہوا۔ ریلی کوٹلی چوک سے گزرتی ہوئی کچہری چوک پہنچ کر احتجاجی مظاہرے میں تبدیل ہو گئی۔ احتجاجی ریلی میں ”ہسپتال بناؤ، زندگی بچاؤ“، ”ہم کیا مانگیں، جدید علاج، ہے حق ہمارا ، مفت علاج“، ”جھوٹے وعدے ، نا بھئی نا“ کے نعرے لگتے رہے۔ احتجاجی مظاہرے سے ممبران آرگنائزنگ کمیٹی ہسپتال بناؤ، زندگی بچاو تحریک طیب ظہیر، ارسلان الیاس، عبدالواحد، عبدالرحمن سمیت سیاسی پارٹیوں کی قیادت، انجمن تاجران، طلباء تنظیموں کے نمائندگان و مختلف سماجی تنظیموں کے سربراہان نے خطابات کیے۔ احتجاجی مظاہرے کے سٹیج سیکرٹری کے فرائض افراز رشید ترجمان ”ہسپتال بناؤ ، زندگی بچاو تحریک“ نے ادا کیے۔

پس منظر

یوں تو ضلع سدھنوتی کو 1996ء میں آزادکشمیر کے ضلع کا درجہ ملا لیکن اس ضلع کی تین تحصیلوں پہ مشتمل 3 لاکھ کی آبادی کوعلاج کی سہولیات میسرنہ ہونے کے برابر ہیں۔ پلندری (ضلعی ہیڈ کوارٹر) میں موجود واحد سرکاری ہسپتال کو 1993ء میں تحصیل ہیڈ کوارٹر کا درجہ دیا گیا تھا جس میں آج بھی موجود سہولیات کسی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے مساوی بھی نہیں ہیں۔ اسی ضمن میں ضلع سدھنوتی میں 2001ء میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی تعمیر کا آغاز کیا گیا جو آج تک مکمل نہ ہو سکا ہے۔ 18 برس گزر جانے کے باوجود ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا تعمیراتی کام 30 فیصد بھی مکمل نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے پلندری شہر میں موجود تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال (جسے ایک نوٹیفیکیشن کے تحت 2001ء میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کا درجہ دیا گیا) آبادی کی اکثریت کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ ہسپتال میں موجود اسپیشلسٹ ڈاکٹرز کی کمی، انیستھیزیا سرجن و سکن سرجن کی عدم موجودگی، او پی ڈی میں ادویات کی فراہمی کا مسئلہ، ایکسرے و لیبارٹری کی نامناسب سہولت، شعبہ گائنی و آپریشن تھیٹر کا پسماندہ اور اپگریڈیشن نہ ہو سکنے سے پیدا شدہ مسائل جیسے سنگین مسائل عوام علاقہ کو درپیش ہیں۔ مریضوں کی قطاریں ہسپتال میں اپنی باری اور ریفر فارم ملنے کے انتظار میں اذیت ناک مشکل سے دوچار نظر آتی ہیں۔ مریضوں کو فوری نوعیت کی سادہ سی ایمرجنسی کی وجہ سے بھی راولپنڈی اور دیگر شہروں کی طرف ریفر کر دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے دوران سفر آئے روز اموات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ علاج کی نامناسب سہولیات اور دیگر شہروں سے علاج خریدنے کے مہنگے اور تکلیف دہ عمل نے اس خطے کے نوجوانوں کو علاج جیسے بنیادی مسئلے کے حل کیلئے جدوجہد کے میدان میں اتارا ہے۔

تحریک کا غیر سیاسی کردار کیوں؟

ضلع سدھنوتی تیسری دنیا کا ایک محروم اور پسماندہ علاقہ ہے جس میں حکمرانوں کی بے حسی اور نااہلی کی وجہ سے اس خطے کا کوئی ایک بنیادی مسئلہ بھی حل نہیں ہو سکا ہے۔ خطے میں کسی باقاعدہ صنعت کا قیام ہو یا روزگار فراہم کیے جانے کے میکینزم کا فقدان ہو، صاف پانی کی فراہمی کی کمی کا مسئلہ ہو یا سٹرکوں کو جدید معیار کے مطابق علاقوں کے مختلف حصوں سے آپس میں جوڑا جانا ہو، بجلی کی ترسیل کا بوسیدہ نظام ہو یا نوجوانوں کیلئے جدید معیار کے مطابق کوئی اعلی تعلیمی ادارہ کا فقدان ہو وہاں علاج کی نامناسب و ناکافی سہولیات بھی خطے کے مسائل میں اضافے کا باعث ہیں۔ ضلع سدھنوتی میں ڈی ایچ کیو کی تعمیر پہ جہاں سیاسی پارٹیوں کی طرف سے خوب سیاست کھیلی گئی وہیں پہ پچھلی دو دہائیوں سے منتخب ہونے والے ایم ایل اے ڈاکٹر نجیب نقی نے بھی اس مسئلے کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے۔ سیاسی پارٹیوں کی آپسی کھینچہ تانی کی نظر ہو چکے ڈی ایچ کیو منصوبے کی تاخیرزدگی نے اس تحریک کے غیر سیاسی ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جو کہ تحریک کے پہلے احتجاج کی کامیابی کی ضمانت بھی بنا ہے۔

ہسپتال بناؤ، زندگی بچاؤ تحریک کا ڈھانچہ

آج کے احتجاج کے شرکاء کا 90 فیصد نوجوان تھے جو اس تحریک کی بنیادی طاقت ہیں۔ ضلع سدھنوتی کے تقریبا سبھی علاقوں سے نوجوانوں نے احتجاج میں شرکت کی اور علاج کے مسئلے کی ناگزیریت کا اظہار کیا۔ اس تحریک کی قیادت و رہنمائی جنرل میٹنگ میں چنی جانے والی آرگنائزنگ کمیٹی کے سپرد ہے۔ 17 رکنی آرگنائزنگ کمیٹی کا ایک ترجمان مقرر ہے۔ یہ تحریک خالصتا نوجوانوں کی تحریک ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آرگنائزنگ کمیٹی کی اوسط عمر محض 23 سال ہے۔

تحریک کے مقاصد / مطالبات و لائحہ عمل

تحریک کا مقصد اس خطے کی 3 لاکھ کی آبادی کے علاج کے دیرینہ مسئلے کو ایڈریس کرنا ہے۔ تحریک کا مقصد ”مفت اور جدید سائنسی علاج ہمارا حق ہے“ کے مطالبے کو عوامی تحریک کے طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے عوامی مطالبہ بنانا ہے۔

مطالبات:

* ڈی ایچ کیو کا کام شروع کیا جائے اور کام مکمل ہونے کا ٹائم فریم دیا جائے۔
* ڈی ایچ کیو منصوبہ تاخیر زدگی کے ساتھ مالی کرپشن کی نذر ہوا ہے، منصوبے کی تعمیر کی عوامی کمیٹی پہ مشتمل نگرائی کروائی جائے جس میں ” ہسپتال بناؤ، زندگی بچاو تحریک ” کی آرگنائزنگ کمیٹی کے کم از کم ایک ممبر کو نگرانی کمیٹی میں رکھا جائے۔
* تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی کمی، آپریشن تھیٹرز کی اپگریڈیشن ، مختلف شعبوں کے سرجن (انیستھیزیا ، سکن) کی آبادی کی ضرورت کے مطابق فراہمی، ایکسرے اور لیبارٹری کی سہولیات کا مستقل فراہم کیے جانا، او پی ڈی میں ہر طرح کی ادویات کا مہیا کیے جانا اور گائنی کے شعبے کو اپڈیٹ کیا جائے۔
* ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے جو میڈیکل سٹورز پہ موجود ادویات کی قیمتوں اور معیار کی نگرانی کرے۔
* گاؤں کی سطح پہ موجود ڈسپنسریوں کو اپڈیٹ کر کے ابتدائی طبعی امداد کے ساتھ سانپ/کتے کے کاٹے کی ویکسین فراہم کی جائیں۔
ڈی ایچ کیو کے ٹھیکوں کی آڈٹ رپورٹ سمیت دیگر معاہدوں و قانونی دستاویزات کو منظر عام پہ لایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*