حیدر آباد: سندھ کے سرکاری ملازمین اور محنت کشوں کی مشترکہ جدوجہد کے لئے مشاورتی اجلاس کا انعقاد

رپورٹ: ایسر داس، PTUDC حیدرآباد

سندھ کی بنیاد پرسرکاری ملازمین اور محنت کشوں کی مشترکہ جدوجہد کے آغاز کے لئے مورخہ 18ستمبر بروز جمعہ کو حیدر آباد میں آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن (ایپکا پاکستان) کی میزبانی میں مختلف تنظیموں کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلا س میں ایپکا کے قائدین داود انڑ، اشرف بوزئی، نظر حسین جلالانی، مخدوم ولی محمد، سیکریٹریٹ ایمپلائز نان گزیٹیٹیڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن(سینیوا)، واپڈا یونین کے مرکزی سیکریٹری جنرل ساجن پنھور، حاجی اشرف خاصخیلی، محمود چوھان گورنمنٹ سیکنڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن(گسٹا)، انتظار چھلگری، پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن، یعقوب چانڈیو سندھ پروفیسر لیکچرر ایسوسی ایشن(سپلا)پرویز ابڑو، محمد وسیم اے۔ جی۔ سندھ، سید توقیر شاہ مرکزی رہنما وفاقی ادارہ شماریات، سید سردار شاہ مرکزی صدرریونیو ایمپلائز ایسوسی ایشن سندھ، احمد رضا صدیقی پبلک پراسیکیوٹرز کے رہنما، محمد اکرم راجپوت لوکل گورنمنٹ یونینز الائنس، شاہنواز قریشی، سید آفتاب علی ایچ ڈی اے آفیسرز ایسوسی ایشن، نثار چانڈیو پاکستان ٹریڈ یونینزڈیفنس کمپئینPTUDC، اشرف کولاچی، نواز شورو، مظفر شر ایریگیشن الشہباز لیبر فیڈریشن، عبدالمجید راجپوت لوکل گورنمنٹ آفیسرز ایسوسی ایشن، محمد عیسی کورائی لوئر اسٹاف ایسو سی ایشن، دولہا دریا جتوئی مہران ٹیچرز ایسوسی ایشن، اسلم بھٹی پاکستان ورکرِ فیڈریشن، قمبر مری آبدار ویلفئر ایسوسی ایشن، نور احمد بروہی آل یونینز کونسل سیکریٹریز ایسو سی ایشن اور دیگر تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کی کاروائی کو اشرف خان بوزئی جنرل سیکریٹری ایپکا سندھ نے کنڈکٹ کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ آج کے حالا ت میں ہم سب کو اکھٹا ہونا پڑے گا، اس کے علاوہ کوئی حل نہیں۔ حکومت کے پاس ملازمین اور محنت کشوں کی بہبود کا کوئی پروگرام نہیں ہے لہٰذا ماضی کی کوتاہیوں سے سیکھتے ہوئے ہمیں ناگزیر طور پر جدوجہد کا ہی راستہ اپنانا ہو گا۔ملازمین کے دیرینہ مسائل جیسے’کورٹ آف ٹرن پروموشن“ کے لئے سپریم کورٹ نے حکم دیا جس پر عمل درآمد نہیں ہوا، یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عدالتوں کے علاوہ بھی راستہ ہے، وہ راستہ جدوجہد کا ہے۔ ہمیں سیاسی پارٹیوں اور بڑے ناموں کی بجائے اپنے زور بازو کے سر پر لڑنا ہو گا۔مثال کے طور پر اگر بلدیہ کے ملازم کام چھوڑ دیں، ٹیچرز اسکول بند کر دیں،کلرک آفس بند کر دیں تو کوئی ایسی بات نہیں کہ ہمارے مسائل حل نہ ہو سکیں۔ سندھ سیکرٹریٹ میں بھی ملازمین سے ناروا سلوک رکھا جاتا ہے۔ ابھی تک سرکاری اداروں میں ملازمین کی اکثریت ڈیلی ویجز یا کنٹرکٹ پر کام کرنے پر مجبور ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پورے ملک میں ملازمین کی تنخواہیں گلگت بلتستان کے علاوہ باقی صوبوں سے سندھ کے ملازمین کی تنخواہیں زیادہ بڑھی ہیں۔ اگر ہم چالیس ہزار ملازمین اکٹھے ہو جائیں تو سب مسئلے حل ہو جائیں گے۔ مگر اس وقت آئی ایم ایف کی ظالمانہ پالیسیاں لاگو کیں جارہی ہیں۔ جس کے تحت ماہانہ پینشن اور سالانہ اینکریمنٹ بھی ختم کرنے کی طرف جا رہے ہیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر ملازمین کی حد عمر 56سال کر رہے ہیں تو وزیرِ اعلیٰ اور صدر کی عمر حد بھی اتنی کی جائے۔نجکاری کی بے رحمانہ پالیسی کے تحت ہسپتال اور سکول کو بھی نہیں بخشا جا رہا۔ اب ہم جو اکٹھے ہوئے ہیں اس میں کسی کو بھی اپناذاتی مفاد نہیں رکھنا چاہئے بلکہ اجتماعی مسائل کے لئے جدوجہد کو بڑھانا ہو گا۔

آخرمیں مشترکہ چارٹرآف ڈیمانڈ کی تشکیل کے لئے اگلا اجلاس بلوانے کافیصلہ کیا گیا۔ اجلا س میں آل پاکستان ایمپلائز‘ پنشنرز اینڈ لیبر تحریک کے 14اکتوبر کواسلام آباد میں ہونے والے آئی ایم ایف کے خلاف احتجاج میں شامل ہونے کے لئے مشاورت کی گئی تاہم فیصلے کو اگلے اجلاس تک موخر کر دیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*