فیصل آباد: ابراہیم فائبر کے مزدوروں کی جدوجہد جاری

تحریر: PTUDC فیصل آباد

ابراہیم فائبر کے مزدوروں کی جبری برطرفیوں کے خلاف جدوجہد جاری ہے، اس سلسلے میں لاہور میں احتجاج کیا گیا جس کے بعد مورخہ 30جون کو فیکٹری انتظامیہ اور مزدوروں کے نمائندگان کے مابین لیبر آفس فیصل آباد میں مذاکرات ہوئے۔ ملز انتظامیہ کی جانب سے فیکٹری کے چیف ایگزیکٹو محمد نعیم اصغر، ایڈمن مینیجر محمد ندیم اشرف اور مزدوروں کی جانب سے عمران، جہانزیب شہباز، شہزاد علی، محمد دلشاد اور دیگر نے شرکت کی۔ مذاکرات کے دوران دونوں فریقین نے اپنا موقف رکھا۔ تاہم لیبر ڈیپارٹمنٹ نے روایتی کردار ادا کرتے ہوئے فیکٹری مالکان کو محض تجویز کیا کہ مزدوروں کو بحال کیا جائے اور مزدوروں کو عدالت کا راستہ دکھایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مزدوروں کے احتجاج کی وجہ سے فیکٹری انتظامیہ جو کہ پچھلے چار ماہ سے مزدوروں کی بات سننے کو تیار نہیں تھی وہ اب  خود مذاکرات کے لئے خود آئے۔ طویل مذاکرات کے دوران فیکٹری انتظامیہ اپنے ہر موقف پر جھوٹی ثابت ہوئی۔ تاہم تمام تر معاہدے میں فیکٹری انتظامیہ کی جانب سے برطرف ملازمین کو بحال کرنے کی کوئی تاریخ تک نہیں دی گئی اور مزدوروں کے مسائل حل کرنے کی بجائے ان کو عدالت کا راستہ دکھانے کا مقصد ان کی جدوجہد کو سبوتاج کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کے کامریڈزعلی تراب اور دیگر سمیت لیبر قومی موومنٹ کے بابا لطیف انصاری   فیصل آباد میں بھی ان محنت کشوں کے ساتھ کھڑے رہے۔ محنت کش بحالی کے لئے پرعزم ہیں اور اپنے اتحاد کو مضبوط کرتے ہوئے بحالی تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

 

ہمارا واضح موقف ہے کہ فیکٹری گیٹ بند کئے بغیر بحالی ناممکن ہے۔ مزدور کی اصل طاقت فیکٹری پراڈکشن ہے جس کے بل بوتے پر یہ سرمایہ دار منافع کماتے ہیں۔اس لئے فیکٹری گیٹ ہی ہماری عدالت ہے جہاں ہم لڑکر جیت سکتے ہیں۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ سرمایہ داروں کی مفادات کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل ہے۔ عدلیہ کا کردار ہمارے سامنے واضح ہے جب اعلیٰ عدلیہ ہی ٹریڈ یونینز اور مزدوروں کے خلاف ریمارکس دے تو ماتحت عدالتوں سے مزدوروں کے لئے انصاف کی توقع رکھنا ہی خام خیالی ہے۔ اس عدلیہ میں چینی چوروں کو انصاف مل سکتا ہے مگر مزدوروں کو صرف تاریخ پہ تاریخ دی جاتی ہے۔ یہ لڑائی صرف محنت کشوں کے زور بازو پر ہی جیتی جا سکتی ہے۔ اس لڑائی میں دیگر محنت کشوں کا شامل ہونا ناگزیرہے، تمام محنت کش متحد ہو کر ہی سرمائے کو شکست دے سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*