لاہور: ابراہیم فائبرفیصل آباد کے مزدوروں کا جبری برطرفیوں کے خلاف احتجاج

رپورٹ: PTUDC لاہور

وقت نے ثابت کیا کہ کورونا وبا صرف محنت کشوں اور عوام کے لئے ہی پریشانیاں اور مصائب لے کرآئی ہے، حکومت کی جانب سے سرمایہ داروں کو ریلیف فراہم کیا گیا لیکن محنت کشوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔پورے ملک میں جبری برطرفیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسا ہی ابراہیم فائبرفیصل آباد میں بھی مالکان کی جانب سے کیا گیا۔ابراہیم فائبر گروپ نے پولیسٹر، ٹیکسٹائل، بجلی پیداواراور بینکنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ابراہیم فائبرگروپ کی شیخوپورہ روڈ فیصل آباد پر واقع فیکٹری سے کورونا وبا کی آڑ میں انتظامیہ نے 25 مارچ کو3800 کے قریب اپنے محنت کشوں کو جبری برطرف کر دیا۔ یہ فیکٹری روزانہ تقریباً 900 ٹن پولیسٹر فائبر بناتی ہے۔ اب 15 جون کو فیکٹری میں دوبارہ کام کا آغاز کیا گیا ہے، لیکن مستقل ملازمین کی بجائے کنٹریکٹ اورعارضی بنیادوں پر مزدوروں کو بلایا گیا ہے۔ فیکٹری کے مزدور جبری برطرفیوں کے خلاف فیصل آباد شہر میں مسلسل احتجاج کر رہے ہیں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فیکٹری انتظامیہ اور مزدوروں کے مابین اجلاس طلب کرکے مسائل حل کروانے کے وعدے کئے گئے جو کہ پورے نہ ہو سکے۔ لہٰذا مزدور اپنے مطالبات کی خاطر مورخہ 29جون کو لاہور صوبائی اسمبلی کے باہر احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے۔ سارا دن جار ی رہنے والے احتجاج صوبائی اسمبلی سے پریس کلب پر جا کر ختم ہوا۔ اس دوران مزدوروں کے ساتھ حکومت پنجاب کی جانب سے ڈائریکٹر لیبر نے مذاکرات کئے اورضلعی لیبر آفس فیصل آباد میں آج 12 بجے فیکٹری انتظامیہ اور مزدوروں کے نمائندگان کے مابین مذاکرات کا وقت طے کیا۔ اس کے ساتھ ہی مزدوروں نے اعلان کیا کہ اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو فیکٹری گیٹ پر مستقل دھرنا دیا جائے گا۔

محنت کشوں سے اظہار یک جہتی کے لئے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن PTUDC سے عمر شاہد اور عامر کریم، حقوق خلق موومنٹ HKM سے عمار علی جان، زاہد علی، لاہور ٹیکسٹائل مزدوروں کے رہنما مرتضی اور حیدر بٹ، پاکستان سٹیل ملز انصاف لیبر یونین CBA کے لاہور صدر محمد عرفان، پراگریسیو لیبر یونین کے نیاز، پیکجز فیکٹری سے عبد الرؤف اور کریسنٹ باہو مان فیکٹری کے مزدور رہنما خضر حیات مزدوروں کے احتجاج میں شامل ہوئے۔رہنماؤں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، فیکٹری مالکان کے رویے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کورونا وبا کی آڑ میں محنت کشوں کوفیکٹریوں سے جبری نکالنے کے عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔کروڑوں نوکریاں دینے کے دعویداروں کی حکومت میں مبینہ طور پر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صنعت کار فیکٹریوں اور ٹیکسٹائل انڈسٹری سے لاکھوں محنت کشوں کو بے روزگار کررہے ہیں۔ ابراہیم فائبرفیصل آباد کے تمام محنت کشوں کو فی الفور بحال کیاجائے اور ان کے واجبات فوری طور پر ادا کئے جائیں۔ آج یہ محنت کش لاہور میں اکٹھے ہوئے ہیں، احتجاج کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اس کا دائرہ کار پورے پاکستان میں پھیلا دیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*