اسلام آباد: آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے دباؤ پر بجلی کی منافع بخش کمپنیوں کی نجکاری نامنظور

رپورٹ: PTUDC اسلام آباد

ہم نہیں چاہتے کہ ہم بجلی بند کرنے والے آپشن کی طرف جائیں۔ لیکن اگر حکومت نے نجکاری کی کوشش کی تو پھر ہم حکمرانوں کی بجلی بند کر دیں گے، خورشید احمد

واپڈا ہائیڈروالیکٹرک ورکرز یونین (CBA)آئیسکو کے زیر اہتمام اسلام آباد آئیسکو ہیڈ کواٹر میں بجلی کی منافع بخش کمپنی آئیسکو کی نجکاری کے خلاف مورخہ 3 اکتوبر2019ء کواحتجاج منظم کیا گیا۔ اس احتجاج میں واپڈا ہائیڈروالیکٹرک ورکرز یونین کی مرکزی قیادت کے علاوہ آئیسکو کے تمام سرکلز سے ہزاروں کی تعداد میں مزدوروں نے شرکت کی۔ اس احتجاج میں انجینئرنگ ایسوسی ایشن کی قیادت اور مزدوروں نے بھی شرکت کی۔ مختلف علاقوں سے آنے والے مزدوروں نے ریلیوں کی شکل میں جلسہ گاہ میں شرکت کی۔

مقررین کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت اپنی ناکامی اور آئی ایم ایف کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ملک کے منافع بخش اداروں کی نجکاری کرنے جا رہی ہے۔ اس سے پہلے والی حکومتوں نے بھی نجکاری کی کوشش کی تھی جس کو واپڈا کے محنت کشوں نے ناکام بنایا تھا۔ جب فیسکو کو پرائیوٹائز کرنے کی کوشش کی گئی تھی تو ہم نے بجلی کے بل بنانا بند کر دیا تھا اور حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا تھا۔ مرکزی سیکرٹری جنرل واپڈا ہائیڈروالیکٹرک ورکرز یونین خورشید احمد نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ہم بجلی بند کرنے والے آپشن کی طرف جائیں۔ لیکن اگر حکومت نے نجکاری کی کوشش کی تو پھر ہم بجلی بند کر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی الیکٹرک کی جو حالت ہے اس سے مزدوروں کی سمجھ جانا چاہیے کہ نجکاری مسائل حل نہیں کرتی بلکہ ان میں اضافہ کرتی ہے۔ واپڈا کے ایک لاکھ تیس ہزار مزدور دن رات کی محنت سے ان اداروں کو چلا رہے ہیں۔ آئے روز مزدور اپنی جانیں قربان کر کہ ان اداروں کو منافع بخش بنیاد پر چلا رہے ہیں۔ ہم اپنے مزدوروں کے خون کا سودا نہیں کرنے دیں گے۔آخر میں مرکزی چئیرمین واپڈا ہائیڈروالیکٹرک ورکرز یونین نظامانی خان نے کہا کہ احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ تمام مزدور متحد ہو کر نجکاری کے اس حملے کو ناکام بنائیں۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن (PTUDC) کے وفد نے اس مظاہرے میں شرکت کی اور واپڈا ہائیڈروالیکٹرک ورکرز یونین کی قیادت کو اپنی یکجہتی کا پیغام دیا اور نجکاری کے خلاف پورے پاکستان میں مل کر جدوجہد کرنے کا اعادہ کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*