آئی ایم ایف کی ظالمانہ پالیسیاں: پی آئی اے، ریلوے اورسی اے اے سمیت تمام وفاقی اداروں کی تنظیم نو کا فیصلہ

تحریر: عمر شاہد

سویت یونین کے زوال کے بعد سے عالمی پیمانے پرسرمایہ داری نے اپنے خونخوار پنجے عیاں کرنا شروع کر دیے۔ ریاستی کنٹرول کے ذریعے عوامی فلاح و بہبود کے فلسفے کی جگہ آزاد منڈی کے فضائل گنوائے جانے لگے۔ سرمایہ داری کے بڑے بڑے مبلغین نے دنیا کو سمجھانا شروع کیا کہ اب جدید ریاست کی ذمہ داری سازگار سیاسی، قانونی اور معاشی ماحول پیدا کرنے اورانفرادی صلاحیتوں کی تعمیر اور نجی اقدامات کی حوصلہ افزائی ہے۔آزاد منڈی کے فروغ کے ساتھ ریاست کا فرض ہے کہ مواقع پیدا کرنے کے لئے، سول سوسائٹی کا کردار آسان بنایا جائے۔تنظیم نو، ادارہ جاتی اصلاحات، عدالتی اصلاحات، امن و امان، پیشہ ورانہ ترقی اور خدمات کی فراہمی جیسے عوامل پائیدار ترقی اورغربت کے خاتمے کے لئے اہم ہیں۔ دلکش الفاظ کے طلسم کو استعمال کرتے ہوئے سرمایہ داری کے استحصال میں مزید شدت لائی گئی، بڑے پیمانے پر عوامی اداروں کی نجکاری کرتے ہوئے ریاستی کنٹرول کو محدود کیا جانے لگا اور نجی سرمایہ داروں کے منافعوں میں بلند ترین اضافہ ہوتا چلا گیا دوسری طرف عوام کی بڑی اکثریت غربت کی گہرائیوں میں غرق ہوتی چلی گئی۔ اسی صورتحال کو مزید وسعت دینے کے لئے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے عالمی مالیاتی ادارے 1990ء کے بعد سے تنظیم نو، اصلاحات جیسے لفاظی استعمال کرتے ہوئے نام نہاد تیسری دنیا کے ممالک میں عالمی سرمائے کے پنجوں کوگھاڑنے کا کام کرتے رہے۔ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کو دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کی خاطر وجود میں لایا گیا تھا، جس کا مقصد اقتصادی طور پر تباہ ہونے والے ممالک کو عارضی قرضے فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اپنی اپنی معیشتوں کو بہتر بنا سکیں۔ساتھ ہی یہ لازمی تھا کہ وہ ان قرضوں کو ایک نظام الاوقات کے تحت واپس بھی کریں۔ اپنے قرضوں کی واپسی کو یقینی بنانے کے لئے ان ممالک میں عالمی مالیاتی ادارے اپنی مرتب شدہ پالیسیاں لاگو کرتے ہیں اور اب تو حکموتیں بنانے اور گرانے کا کام بھی کر رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کا جزو بھی اہم ہے کہ پوری دنیا میں سرمائے کی حاکمیت کو یقینی بنایا جا ئے۔ اس صورتحال میں ہم دیکھتے ہیں کہ لاطینی امریکہ کے ممالک سے لے کر افریقہ اور ایشیاتک بد ترین استحصال کی شکلیں متعارف کروائیں گئیں۔ ان ممالک کو قرضوں کی فراہمی کے نام پر ان کے خام مال اور افرادی قوت کا استحصال کرتے ہوئے کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے منافعوں کے انبار لگائے جبکہ وہاں کی عوام غربت، بیروزگاری اور لاعلاجی کی دلدل میں دھنستی چلی گئی۔ پاکستان میں بھی پچھلے 70سالوں سے ان مالیاتی اداروں کے استحصال میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہی ہوا ہے۔ تعلیم، صحت، رہائش، پانی جیسی ضروریات زندگیوں کو اب منڈی کی شے بنا کر رکھ دیا گیا ہے کہ ان سے بھی منافع کمایا جا رہا ہے۔

مملکت خداداد پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کی پالیسیوں پر بڑے بے رحمانہ انداز میں عمل پیرا ہوتے ہوئے ادارہ جاتی اصلاحاتی پالیسی پر کام تیز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے وفاقی حکومت کے مختلف محکموں میں ایک سال سے خالی 71ہزار آسامیوں کو ختم کرنے کی منظوری دے دی۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین کے مطابق وفاقی حکومت نے پہلے ہی 441 تنظیمی اداروں میں سے 324 کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، باقی میں سے 10 اداروں کو صوبوں اور متعلقہ ڈویژنوں میں منتقل کیا جارہا ہے جبکہ 9 اداروں کو ختم یا تحلیل کردیا جائے گا اور 17 کو دیگر میں ضم کردیا گیا ہے۔ حکومت کے نجکاری پروگرام میں مجموعی طور پر 43 اداروں کی نجکاری یا سرمایہ پاکستان میں منتقل کیا جائے گا اور کابینہ کی ایک عمل درآمد کمیٹی ہفتہ وار بنیادوں پر اس عمل کی نگرانی کر رہی ہے۔

ذیل میں تحریک انصاف حکومتی تنظیم نو کے منصوبوں کا مفصل جائزہ لیں گے۔

پاکستان ریلوے
برصغیر میں ریلوے کے نظام کی بنیاد 19ویں صدی عیسوی میں برطانوی سامراج نے رکھی تقسیم کے بعد پاکستان میں حکمرانوں نے ریلوے کو ترقی دینے کی بجائے اس کو تاراج کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تاہم موجودہ حکومت ریلوے کی تنظیم نو کرنے کی جانب جا رہی ہے۔ حالیہ کابینہ اجلاس میں ویزاعظم نے پاکستان ریلوے کی تنظیم نو کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ریلوے ہولڈنگ کمپنی کو پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کی طرز پر امبریلا آرگنائزیشن کے طور پر فریٹ ٹریفک مینجمنٹ کمپنی، پیسنجر ٹریفک مینجمنٹ کمپنی اور انفراسٹرکچر مینجمنٹ کمپنی کے ساتھ ساتھ تشکیل دیا جائے گا۔یعنی واپڈا کی طرح پاکستان ریلوے کی وحدت کو ختم کرتے ہوئے اسے مختلف کمپنیوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ساتھ ہی چینی حکام کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے حامل روابط کے لیے ایک مکمل طور پر علیحدہ ML-1 اتھارٹی بھی قائم کی جائے گی۔ اس امر کا اظہار بھی کیا گیا کہ تنظیم نو کی یہ مشق چار ماہ میں یعنی دسمبر 2020ء تک مکمل ہوجائے گی۔ جبکہ ریلوے بورڈ کو نجی شعبے سے اراکین کو شامل کر کے دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہے اور ریلوے ہیڈ کوارٹر میں چار ماہرین کو مینجمنٹ کی تنخواہوں پر بھرتی کر کے مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ حکومت نے 15 مسافروں اور دو مال بردار ٹرینوں کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ریلوے کی اراضی اور اسٹیشنوں کی ترقی اور انتظام کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے منصوبے جلد ہی شروع کیے جائیں گے۔ آسان الفاظ میں ریلوے کے قیمتی اثاثوں کو ٹکڑوں میں بیچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ واپڈا کی مثال یہاں دہرائی جا رہی ہے جہاں پہلے واپڈا کی وحدت کو تحلیل کرتے ہوئے اس کے مختلف شعبوں پر علیحدہ کمپنیاں بنائی گئیں اور ان کمپنیوں کے بورڈآف ڈائریکٹر میں سرمایہ داروں کو بٹھا کر اداروں کو برباد کیا گیا۔تاریخی اعتبار سے رکھا جائے تو پاکستان ریلوے ایک مکمل خود مختار ادارہ ہے جس کی اپنی رہا ئشی کا لونیاں و فلیٹ، پولیس،ہسپتا ل، سکول،کھیل کے میدان، زرخیز و کمرشل کھربوں روپے کی زمینیں ہیں -آج پاکستان ریلوے‘جو ہزاروں خا ندانوں کے روزگار اور لاکھوں غریبوں کے لئے سستی ترین سفری سہو لیات مہیا کرتا تھا‘ حکمرانوں کی لوٹ مار کے نتیجے میں تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے اور یہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا، 1960ء سے 1977ء تک سا لانہ 487ملین روپے منافع کمانے والا ادارہ تھا اور 1,30,000 خا ندانوں کو براہ راست اور تقریباََ 40ہزار دوسرے لوگوں کو روزگار مہیا کرتا تھا جوآج کم ہو کر 75000 براہ راست اور تقریباََ 20,00 دوسرے یعنی قلی ٹھیلے والے اور گاڑیوں میں کھانے پینے اور دوسری اشیا بیچنے والے اپنا روزگار پیدا کرتے ہیں۔ تبدیلی کے سرکار کے دور میں ریلوے کی صورتحال بد تر ہو رہی ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے گز شتہ دو برسوں میں 34 نئی مسافر ٹرینوں اور 8 مال گاڑیوں کا اضافہ کیا اور سال 2018 کے بجٹ ٹارگٹ سے 4 ارب روپے زیادہ کمائے لیکن اگلے ہی برس ادارہ مالی بحران کا شکار ہو گیا۔ 2018 میں ہدف سے چار ارب زیادہ کمانے والے ریلوے نے 2019 میں 7 ارب روپے کم کمائے، ملازمین اپنے واجبات کے لیے در بدر ہورہے ہیں۔ریلوے حکام کہتے ہیں کہ ترقی کی طرف گامزن ریلوے کی سالانہ آمدن 7 ارب کم اور خسارہ 9 ارب روپے بڑھ گیا۔ دوبرسوں میں ٹرین حادثات بھی بے قابو ہوگئے اور چھوٹے بڑے ایک سو سے زائد حادثات نے ٹرین کے محفوظ سفر پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے-ریلوے حکام کہتے ہیں کہ صرف تنخواہ، پنشن اور فیول کی مد میں سالانہ اخراجات تقریباً 40 ارب ہیں۔ریلوے نے آمدنی میں کمی اور خسارے میں اضافے کی ذمہ داری گزشتہ حکومت کے بعد اب کورونا وبا پر ڈال دی ہے۔ ریلوے بحران کے ذمہ دار پھر یہی حکمران اوربیوروکریسی ہے، اس تنظیم نو کے ساتھ ہی ریلوے میں جبری بر طرفیوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا اس سلسلے میں سپریم کورٹ پہلے ہی حکم جاری کر چکی ہے۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن، پی آئی اے کی تنظیم نو کے منصوبے کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے جس کے تحت رواں ماہ کے اندر کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے ذریعے اسٹریٹیجک بزنس پلان کی منظوری دی جائے گی، پی آئی اے ملازمین کو رضاکارانہ طور پر نوکری سے علیحدگی کی اسکیم کی پیشکش سے قبل رواں ماہ ہیومن ریسورس ریشنلائزیشن پلان بھی منظوری کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سامنے لایا جائے گا۔ اس کے علاوہ، سیکرٹری خزانہ نوید کامران بلوچ کی سربراہی میں ایک کمیٹی کو پی آئی اے کی بیلنس شیٹ کی مالی تنظیم نو کو اس ماہ کے اندر حتمی شکل دینے کا اختیار سونپا گیا ہے جو سرکاری ضمانتوں اور مقامی اور بین الاقوامی قرضوں سے بھری ہوئی ہے، اس کے علاوہ دسمبر 2020 تک ایئر لائن کے غیراہم افعال کو مکمل طور پر الگ کردیا جائے گا۔ کبھی گراؤنڈ سروسز سے لے کرکیٹرنگ تک، پی آئی اے ہوائی سفر سے متعلق تمام خدمات میں خود کفیل تھی مگر اس کی خدمات کو آؤٹ سورس یعنی نجی شعبے کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ ادارے میں خسارے کی بڑی وجہ ان مزدوروں کی’بھاری‘ اجرتیں بتائی جاتی ہیں۔ لیکن حقیقی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ پی آئی اے لوئر سٹاف کی اجرتیں پی آئی اے کی کل تنخواہوں کا صرف 18 فیصد بنتی ہیں جبکہ82 فیصد خطیر رقوم مینجمنٹ کے موٹے بیوروکرویٹوں پر خرچ ہوتی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں پی آئی اے کو چلاتے مزدور ہیں اور کمائی یہ منیجر اور پی آئی اے سے منسلک نجی کمپنیاں لے جاتی ہیں جن کو ادارے کے بہت سے شعبوں کے ٹھیکے دیئے جاتے ہیں۔ پچھلے 40 سال نے یہ ثابت کیا ہے کہ سماجی سہولیات، صنعت اور سروسز کے شعبوں کی نجکاری نے محنت کشوں کے مسائل کو گھمبیر ہی کیا ہے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی
پاکستان کے منافع بخش ادارے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو بھی تنظیم نو کے نام پرسرمایہ داروں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق حکومت مختلف مرحلوں میں ملک کے مختلف ایئرپورٹس کو ٹھیکے پر دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس ضمن میں پہلے مرحلے میں سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے کارپوریٹائزیشن کی جائے گی اور دوسرے مرحلے میں نجکاری کمیشن کو شامل کر کے، مشیران خزانہ اور سرمایہ کار بینکنگ کمپنیوں کو تعینات کر کے اس منتقلی کو مکمل کیا جائے گا۔ قانون سازی کے 2 مسودے تیار ہیں جس میں سے ایک کا مقصد سی اے اے آرڈیننس 1960 کو تبدیل کرنا اور دوسرا ایئرپورٹ کمپنی کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے سی اے اے آرڈیننس 1982 میں ترامیم سے متعلق ہے۔ اس قانون کے تحت حکومت کمپنی کے شیئرز نجی شعبے کو منتقل کرسکے گی اور اسی شرائط و ضوابط پر سی اے اے کے ملازمین کو کمپنی کو منتقل کیا جاسکے گا۔

پاکستان ٹورزم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن
حکومت کی جانب ادارے کی تنظم نو کے سلسلے میں پاکستان ٹورزم ڈیویلپمنٹ کارپوریشنPTDC کے شمالی علاقہ جات میں تمام موٹلز بند کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی400 سے زائد ملازمین کو بھی بر طرف کر دیا گیا ہے۔ان ملازمین کو واجبات کی ادائیگی بھی نہیں کی گئی۔ PTDC ادارے کا بنیادی مقصد پاکستان میں سیاحت کے شعبے کوفروغ دینے کے ساتھ سیاحوں کو سستی اور معیاری سہولیات کی فراہمی ہے۔اس وقت ادارے کے موٹلز پور ے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں اورملک کے اندر جو بھی سیاحت کا ڈھانچہ موجود ہے اس میں PTDC کا بہت بڑا اوراہم کردار رہا ہے۔ آج جو بھی مشہور سیاحتی مقامات ان علاقوں میں PTDC نے کیمپنگ سائیٹ سے آغاز کیا تھا اور آج ان علاقوں میں سینکڑوں کی تعداد میں ہوٹل بن گئے ہیں اور لاکھوں لوگ برسر روزگارہیں جو کہ PTDCکی مرہونِ مِنت ہے۔ لیکن اپنی لوٹ مار کے لئے ان موٹلز کو اب نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا۔

پاکستان سٹیل ملز
پاکستان سٹیل ملز میں 9300ملازمین کو بر طرف کرنے کے بعد اب اسے نجی شعبے کے تعاون سے چلایا جائے گا۔ عین ممکن ہے کہ سٹیل ملز کی اراضی اور مختلف پلانٹس کو چھوٹے اداروں میں تحلیل کرتے ہوئے اس کو بھی ٹکڑوں میں بیچ دیا جائے۔

او جی ڈی سی ایل
پاکستان میں تیل اور گیس کی حوالے سے او جی ڈی سی ایل اہم ادارہ ہے جو کہ ہر سال ملکی خزانے میں اربوں روپے جمع کروا رہا ہے۔ حالیہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ادارے کے منافعوں میں بڑی کمی واقع نہیں ہوئی۔ یہ ادارہ اپنے فنڈ سے ہی نئی دریافتوں کر رہا ہے مگر اب اس کے 10فیصد حصص کو سٹاک مارکیٹ میں بیچنے کی منظوری دی جا چکی ہے۔ یہاں بھی پی ٹی سی ایل والا معاملہ دہرایا جا رہا ہے جب حصص کو بڑی تعداد میں نجی شعبے کے حوالے کر کے کنٹرول بھی انہی کو دیا جانے کی سازش کی جا رہی ہے۔

تنظیم نوکے نقصانات؟
تنظیم نو کی پالیسیوں سے سب سے زیادہ متاثر اداروں میں کام کرنے والے محنت کش اور عوام ہونگے۔ واپڈاکی مثال واضح ہے جہاں پر ادارے کی وحدت کو توڑ کر ذیلی کمپنیاں بنائی گئیں اور انہیں ٹکڑوں میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ صرف اگر کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی مثال لی جائے توحقیقت واضح ہو جائے گی۔ کراچی میں واپڈا سے سستی بجلی، ادھار تیل حاصل کرکے اور حکومت سے سبسڈی حال کرنے کے باوجود کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن آج ایک شہر کو بھی پوری بجلی مہیا کرنے سے قاصر ہے۔ عوام لوڈ شیڈنگ اور زائد بلنگ کے مسائل سے دوچار ہیں۔ یہی کیفیت پی ٹی سی ایل کی ہے جہاں پر اتصلات کمپنی نے لوٹ مار مچائی ہوئی ہے۔ اتصالات کی ناقص پالیسیوں کے باعث پی ٹی سی ایل گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل نقصان برداشت کرنے پر مجبور ہے جبکہ محکمے کے مجموعی منافع میں بھی اربوں روپے کی کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کی تصدیق پی ٹی سی ایل حکام کی جانب سے کر دی گئی ہے۔اکثریتی حصص کی حامل حکومت پاکستان پی ٹی سی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بطور اقلیت شامل ہے اور کوئی بھی کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔پی ٹی سی ایل بورڈ آف ڈائریکٹرز میں اپنی عددی اکثریت کے بل بوتے پر عدالتی فیصلوں، حکومتی اقدامات کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہے۔ جبکہ عوام کو ملنے والی سروسز کا معیار بد تر ہو رہا ہے۔

کیسے لڑا جائے؟
پاکستان سرمایہ داری جس نہج پر آچکی ہے اس میں یہاں کے حکمرانوں کو آئی ایم ایف کے نسخوں پر عمل کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آتا۔ ملک میں اداروں کی لوٹ سیل لگائی ہوئی ہے جب ریاست اپنے تمام اداروں کے سرمایہ داروں کے حوالے کر دے تو لامحالہ طور پر ریاستی پالیسوں پر بھی ان کا کنٹرول آنا ناگزیر عمل ہے۔ ساری صورتحال میں اصل مسائل کی نشادہی اور ان کا سد باب کرنے کی بجائے، حکومت وقت سارا بوجھ محنت کشوں اور غریب عوام پر منتقل کر رہی ہے۔ اس کیفیت میں متحد ہو کر جدوجہد ہی واحد راستہ ہے۔ حالیہ دنوں میں مختلف ٹریڈ یونینز کی جانب سے آل پاکستان ایمپلائز لیبر تحریک اور صوبائی بنیادوں پر گرینڈ الائنسز کی تعمیر ایک آگے کا قدم ہے۔ اسی کرب اور تکلیف میں پاکستان ریلوے، سول ایوی ایشن اور دیگر اداروں کے محنت کشوں کی جدوجہد ہوا کے تازہ جھونکے کے مانند ہیں۔ انہی جدوجہد کو یکجا کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہی وقت کا اہم تقاضہ ہے۔ مزدور جدوجہد اپنے تمام تر نشیب و فراز کے ساتھ جاری ہے، محنت کش اپنے حقوق کی خاطر جدوجہد جاری رکھیں ہوئے ہیں۔ تمام تر حملوں کے باوجود آنے والے دنوں میں مزدور تحریک مزید مضبوط ہو گی۔ اس صورتحال میں مزدور تحریک کا اہم فریضہ دیگر عوامی تحریکوں سے جڑتے ہوئے اس سرمایہ داری کے خلاف وسیع جدوجہد کا آغاز ہے۔ سرمایہ داری کے خاتمے کا تاریخی فریضہ صرف یہاں کے محنت کش ہی ادا کر سکتے ہیں۔