کوئٹہ: ’’لازمی سروس ایکٹ‘‘ کے خلاف محکمہ تعلیم کے ملازمین کا احتجاج

رپورٹ:PTUDC کوئٹہ

بلوچستان حکومت نے محکمہ تعلیم کو ’’لازمی سروس ایکٹ‘‘ کے دائرے میں لانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس ایکٹ کو اسمبلی کے اجلاس میں پاس کر کے قانون کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس قانون کے تحت محکمہ تعلیم کی تمام تنظیمیں ختم ہوجائیں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں تعلیم کی زبوں حالی کی وجہ سے یہ ایکٹ نافذ کیا جا رہا ہے کیونکہ اساتذہ کی تنظیمیں تعلیمی زبوں حالی کی ذمہ دار ہیں۔ دوسری طرف اساتذہ کی تمام تنظیموں جن میں پروفیسرز، لیکچررز اور کلرکس ایسوسی ایشنز شامل ہیں نے اس ایکٹ کو مسترد کر دیا ہے اور اسے کالا قانون قرار دیا ہے۔ اس ایکٹ کے ذریعے اساتذہ اور دیگر ملازمین کے تمام حقوق بشمول ہڑتال اور تنظیم سازی کا حق ختم ہوجائے گا۔ اس لیے پورے بلوچستان کے تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور ملازمین نے اس ایکٹ کے خلاف جدوجہد کے لیے بلوچستان ایمپلائز ایکشن کمیٹی بنائی۔ ایکشن کمیٹی نے بلوچستان حکومت کے ملازمین اور تعلیم دشمن ایکٹ کے خلاف عملی جدوجہد کا اعلان کردیا ہے۔

اس ضمن میں 24دسمبر کو ایمپلائز ایکشن کمیٹی کی جانب سے کوئٹہ میں ایک احتجاجی جلسہ میٹروپولیٹن کے سبزہ زار میں منعقد کیا گیا۔ اس احتجاجی جلسے میں کوئٹہ کے علاوہ لورالائی، پشین، چمن، کچلاک، مستونگ، مچھ، نوشکی اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے اساتذہ اور ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کے کامریڈز نے بھی شرکت کی۔ جلسہ شروع ہونے سے پہلے احتجاجی شرکا نے بلوچستان حکومت کی کابینہ کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور ایکٹ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اس احتجاجی جلسے کی صدارت بلوچستان ایمپلائز ایکشن کمیٹی کے صدر حبیب الرحمان خان کر رہے تھے۔ مقررین میں وائس چیئرمین آغا زاہد، حاجی یوسف کاکڑ، قاسم کاکڑ، در محمد لانگو، امیر شاہ، نواز جتک، عبدالہادی اچکزئی، رحمت اللہ، عبداللہ اور گل خان شامل تھے۔

مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ حکمران اپنے مذموم مقاصد کی خاطر محکمہ تعلیم میں لازمی سروس ایکٹ لانا چاہتے ہیں تاکہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرسکے اور لاقانونیت اور لوٹ کھسوٹ کے خلاف کوئی آواز بلند نہ کرسکے۔ حکومت باقی اداروں میں بھی مزدور تنظیموں پر پابندی لگانا چاہتی ہے۔ یہ حکمران ایک طرف سے تعلیمی زبوں حالی کو ختم کرنے لیے یہ ایکٹ لانے کا دعویٰ کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف تعلیم کے بجٹ میں کٹوتیاں کر رہے ہیں۔ اس وقت تعلیم اور صحت کے شعبے میں سب سے کم بجٹ مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان کا وزیر تعلیم ایک انگوٹھا چھاپ خان محمد لہڑی کو بنایا گیا ہے۔ مقررین نے مزید بتایا کہ اس وقت بلوچستان میں اٹھارہ سو اسکول بغیر بلڈنگ کے چل رہے ہیں۔ 800 سکولوں پر بالادست قوتوں نے قبضہ کیے رکھا ہے۔ گیارہ سو ہائی سکول بغیر سربراہ کے چل رہے ہیں۔ 3500 نان ٹیچنگ پوسٹیں خالی ہیں۔ اسکولوں میں اکثر اساتذہ خود صفائی کا کام انجام دیتے ہیں۔ گریڈ 17اور گریڈ 19کی تیرہ سو پوسٹیں خالی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی زبوں حالی حکمرانوں اور بیوروکریسی کی نااہلی اور بجٹ میں کمی کی وجہ سے ہے۔ مقررین نے کہا کہ آج بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے۔ اپوزیشن اور حکومت کے کچھ وزرا نے ہماری حمایت کا اعلان کیا ہے۔ بی این پی مینگل، بی این پی عوامی، جمعیت، عوامی نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے یقین دلایا ہے کہ وہ اس ایکٹ کی مخالفت کریں گے اور اسے کسی صورت پاس نہیں ہونے دیں گے۔ اس دوران PTUDC کی جانب سے یکجہتی پیغام اسٹیج سیکرٹری نے پڑھ کر سنایا۔

بعد میں بلوچستان ایمپلائز ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکومتی وزرا نے بلایا اور یقین دہائی کرائی کہ حکومت محکمہ تعلیم میں لازمی سروس ایکٹ نہیں لائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*