لازمی سروسز ایکٹ کا نفاذ، ظلمتوں کا نیا راج

تحریر: لال خان

وفاقی کابینہ کے ایک تازہ فیصلے کے مطابق ’’لازمی خدمات ایکٹ 1952ء‘‘ کو دوبارہ لاگو کر کے اِس کالے قانون کے ذریعے پی آئی اے اور پرنٹنگ کارپوریشن میں یونین سازی پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ یوں تحریک انصاف حکومت کے اِس نام نہاد نئے پاکستان میں محنت کشوں کے لئے ظلمتوں کا نیا راج شروع ہو گیا ہے۔ طاقت کے سرچشموں (جو عمران خان کے بقول تحریک انصاف کے ’’منشور‘‘ کے پیروکار ہیں) کی حمایت یافتہ یہ اِس ’جمہوری حکومت‘ کا یہ اقدام براہِ راست فوجی آمریتوں سے بھی زیادہ جابرانہ اور سیاہ ہے۔ ماضی کی کوئی جمہوری یا آمرانہ حکومت محنت کشوں پر حملوں کی اِس نہج تک نہیں گئی۔ لیکن کون پوچھنے والا ہے؟ طاقت والوں کو ایک مطیع حکومت مل گئی ہے۔ کالے دھن والوں کو بھی مکمل معاونت حاصل ہو گئی ہے۔ حکومت کے اندر بیٹھے اور ارد گرد منڈلانے والے نودولتیے بھی خوب مال بنا رہے ہیں۔ ویسے ساری سیاست ہی دولت کی بنیاد پر اور دولت کے حصول کے لئے ہو رہی ہے۔ خود عمران خان نے اپنی حالیہ تقریروں میں پیسے کی ہوس اور بے لگام منافع خوری کو معیشت کی ترقی کی بنیادی شرط قرار دیا ہے۔ مروجہ فکر و دانش نے بھی سرمایہ داری کے حتمی و ابدی ہونے کے نظریے پر تکیہ کر رکھا ہے۔ اس سوچ کے تحت ہر ترقی پسندانہ اور انقلابی رجحان کو متروک قرار دے کے مین سٹریم میڈیا اور سیاست سے خارج کر دیا گیا ہے۔ ملت کے اِن پاسبانوں نے طے کر لیا ہے کہ محنت کشوں کی کوئی اہمیت کوئی حیثیت نہیں ہے۔ سرمائے کی طاقت ہی سب کچھ ہے۔ اِن کے نزدیک طبقاتی کشمکش ختم ہو چکی ہے اور دولت کی سیاست، ثقافت، صحافت اور ریاست کا راج ہی صدا جاری رہے گا۔ جبر و استحصال کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ ماضی کے کئی بڑے انقلابی اِس وقت کے رجعتی کردار کی جارحیت سے لڑتے لڑتے تھک اور بِک گئے ہیں۔ لیکن استحصالی طبقات اور سرکاری ڈھانچوں کے خلاف مزاحمت کو نہ تو مکمل طور پہ دبایا جا سکتا ہے نہ سماج کی کوکھ سے نکال باہر کیا جا سکتا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور محرومی سے بھرا کوئی معاشرہ بالادست طبقات کے لئے بھی مستحکم اور پرسکون نہیں ہو سکتا۔ اوپر حکمرانوں کی نوراکشتیوں کے نیچے امارت اور غربت کا مسلسل بڑھتا ہوا تضاد جس غیض و غضب اور سلگتی ہوئی بغاوت کو جنم دے رہا ہے وہ صدا خاموش نہیں رہے گی۔

جدید ٹیکنالوجی کے اِس دور میں بھی محنت کشوں کے بغیر سماج نہیں چل سکتا۔ انسانی محنت ہی سماج کو زندگانی دیتی ہے۔ لیکن محنت کرنے والوں کو دیوار سے لگا کے یہ حکمران بڑے خوش ہیں۔ جشن مناتے پھر رہے ہیں۔ پاکستان میں ٹریڈ یونین کم و بیش ہر عہد میں ہی کمزوری اور بحران کا شکار رہی ہے لیکن آج جس سرکاری عتاب اور داخلی گراوٹ کا شکار ہے اِس کی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی۔ ملک میں موجود تقریباً سات کروڑ مزدوروں میں سے ایک فیصد سے بھی کم ٹریڈ یونینوں میں منظم ہیں۔ یہ تنظیمیں بھی زیادہ تر سرکاری اداروں میں ہی باقی بچی ہیں جہاں ان کی قیادتوں کے مصالحتی کردار کو مزدوروں کو کنٹرول کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ نجی شعبے میں یونین سازی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ٹھیکیداری نظام کے تحت مستقل ملازمتوں، پنشنوں اور سوشل سکیورٹی جیسی مراعات کے خاتمے کی جارحانہ مہم جاری ہے۔ بیشتر فیکٹریوں اور خدمات کے شعبوں میں سرکاری طور پر متعین انتہائی قلیل بنیادی اجرت بھی نہیں دی جاتی ہے۔ لیکن اب سرکاری اداروں کی بچی کھچی یونینوں پر بھی یہ حکومت حملہ آور ہو رہی ہے۔ یہ واردات نجکاری کے اُس عمل کو آگے بڑھانے کے لئے جاری ہے جو موجودہ حکومت ماضی کی نسبت کہیں زیادہ بڑے پیمانے پہ کرنے کے لئے پر تول رہی ہے۔ لیکن اب کی بار عیاری بھی پہلے سے بڑھ کے ہے۔ اس سارے کھلواڑ میں میڈیا کی مکمل حمایت بھی انہیں حاصل ہے۔ اوپر نان ایشوز اور نوراکشتیوں کی بھرمار ہے، نیچے بڑی مکاری سے سبسڈیوں کے خاتمے، نجکاری اور مہنگائی کے زہریلے حملے جاری ہیں۔ ایک تاثر بنا دیا گیا ہے کہ مزدور کاہل اور کام چور ہیں، اداروں میں بھرتیاں ضرورت سے زیادہ ہیں، مزدور ہی اداروں کے خساروں کے ذمہ دار ہیں وغیرہ۔ لیکن اگر پی آئی اے میں ہی دیکھا جائے تو کُل تنخواہوں کا صرف 18 فیصد محنت کشوں (جن میں سے بہت سے ’وائٹ کالر‘ سمجھے جاتے ہیں) کو ملتا ہے۔ باقی 82 فیصد ادارے کی افسر شاہی کی نذر ہو جاتا ہے۔ بدانتظامیوں کی بھرمار ہے جن کے عوض یہ بڑے بڑے منیجر اور افسر بھاری تنخواہیں وصولتے ہیں۔ ان کی عیاشیاں ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔ لیکن سارا ملبہ عام ملازمین اور محنت کشوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔

غریبوں پر الزامات اور بہتان تو ہر طبقاتی سماج میں لگتے رہے ہیں۔ لیکن آج یہ شور زیادہ ہو گیا ہے۔ اِن حکمرانوں کو پچھلے طویل عرصے سے کسی ملک گیر مزدور تحریک یا عوامی بغاوت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ آخری بڑی اور جارحانہ ہڑتال پی آئی اے میں ہی 2016ء میں ہوئی تھی جو محنت کشوں کی انتہائی جرات، قربانی اور بے باکی کے باوجود کچھ اپنی تنہائی اور کچھ داخلی کمزوریوں کا شکار ہو گئی اور اسے پر فریب طریقے سے زائل کر دیا گیا۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ فی الوقت کوئی بڑی مزاحمت نہ ہونے کے باوجود بھی یہ نظام شدید بحران کا شکار ہے۔ ملکی معیشت کا زوال بڑھتا جا رہا ہے۔ تمام تر جبر کے باوجود شرح منافع بتدریج گراوٹ کا شکار ہے۔ اور جنگلی جانوروں کی طرح حکمران باہم دست و گریبان ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ سرمایہ داری تاریخی طور پر اس قدر متروک ہو چکی ہے کہ نہ سماج کو کوئی ترقی دے سکتی ہے نہ کسی استحکام کی حامل ہو سکتی ہے؟ ایسے سوالوں کا ابھرنا ہی حکمران طبقات کے لئے موت کا پیغام ہے۔ ان کی حالت بلی کو دیکھ کے آنکھیں بند کر لینے والے کبوتر کی ہے۔ لیکن آنکھیں بند کر لینے سے حقیقت تو نہیں بدل سکتی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ بالخصوص 2008ء کے کریش کے بعد عالمی سرمایہ داری سنبھل نہیں سکی ہے۔ یہ کیفیت، جس کا اظہار بین الاقوامی سطح پر بھی مسلسل انتشار، بڑی طاقتوں کی آپسی کھینچا تانی، تجارتی جنگوں، سفارتی تناؤ اور معاشی گراوٹ وغیرہ کی صورت میں ہو رہا ہے، اِس نظام کی موضوعی بیماری اور تاریخی زوال پذیری کی غمازی کرتی ہے۔ لیکن سرمایہ داری کی حدود قیود سے آگے دیکھنا اور سوچنا ہی حکمران طبقات اور ان کے مفکروں کے لئے گناہ ہے۔ کیونکہ ان کی مراعات، عیاشیاں اور بدقماشیاں اِسی نظام سے مشروط ہیں۔

پچھلے ایک سال کے دوران عالمی سطح پر سرمایہ کاری میں 19 سے 29 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ کیونکہ سرمایہ داروں کو مطلوبہ شرح منافع نہیں مل پا رہی ہے۔ اگر مطلوبہ منافع نہیں ملے گا تو سرمایہ کاری نہیں ہو گی اور سرمایہ کاری نہیں ہو گی تو ساری معیشت گراوٹ کا شکار ہوجائے گی۔ اِس عالمی صورتحال میں سرمایہ کاری کے لئے جو ’موافق حالات‘ عمران خان پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ محنت کشوں کی معاشی ہلاکت پر مبنی ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ کر کے بھی سرمایہ کاری آ رہی ہے نہ آئے گی۔ کیونکہ نظام میں کھپت اور نمو کی گنجائش نہیں ہے۔ بس ریاست کو ہی بیرونی اور مقامی سرمایہ داروں کے ہاتھوں لٹوانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ریکارڈ خسارے اور قرضے ہیں۔ ترقیاتی اخراجات تقریباً ختم کر دئیے گئے ہیں۔ ایک کروڑ نوکریاں دینے والوں نے چھ ماہ میں لاکھوں کو بیروزگار کر دیا ہے۔ نام نہاد حزب اختلاف والے بھی اِسی نظام کے حواری اور پجاری ہیں۔ اس لئے حاوی سیاست میں کوئی حقیقی مزاحمت نہیں ہے۔ لیکن کٹھ پتلیوں کو کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئے۔ 1968ء میں ایوب خان بھی یونینوں کو کچلنے کے درپے تھا۔ پھر جو ہوا وہ سب جانتے ہیں۔ اس انقلاب کا تجزیہ کرنے والے سرمایہ دارانہ ماہرین نے درست لکھا تھا کہ ٹریڈ یونینوں کے نہ ہونے کی وجہ سے تحریک زیادہ شدت اور برق رفتاری سے بھڑکی تھی‘ اگر یونینیں ہوتیں تو حکمرانوں کا ’مذاکرات‘ کا موقع مل سکتا تھا۔ لیکن ایوب خان کی طرح شاید آج کے حکمران بھی ’مذاکرات‘ کا موقع پیشگی گنوا چکے ہیں!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*