جکارتہ کی واپسی: لیبرقوانین میں اصلاحات کے خلاف شانداراحتجاجی تحریک

رپورٹ: PTUDC

انڈونیشیا کے سیاسی وسماجی منظرنامہ پر اس وقت طلبہ اور محنت کشوں کی بغاوت کے آثارمنڈلا رہے ہیں، 5 اکتوبرکو قانون ساز اسمبلی نے بھاری اکثریت سے 905 صفحات پر مشتمل ’اصلاحاتی بل کو منظورکیا، اس ہمہ گیر اصلاحاتی بل میں لیبر، ماحولیات، صحافت اور ٹیکس سمیت معیشت کے کلیدی شعبوں میں موجودہ 79 قوانین میں بڑے پیمانے پر ترامیم شامل ہیں۔ حکمرانوں کے مطابق اس بل کا مقصد معاشی نمو میں اہم حوصلہ افزائی کے لئے چین سے نقل مکانی کرنے والی عالمی کمپنیوں کو یہاں سرمایہ کاری کے لئے راغب کرنا ہے۔ بڑے پیمانے پر’اومنی بس بل‘ کے نام سے نئی قانون سازی کا مقصد معیشت میں موجودہ قواعد و ضوابط میں نرمی اور دیگربیوروکریٹ کنٹرول کو بتدریج ختم کرتے ہوئے سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے، تاہم اس کا اصل مقصد لیبر قوانین کو مزید نرم کرتے ہوئے سرمایہ داروں کے لئے پرکشش ماحول کی فراہمی ہے تاکہ اپنے منافعوں میں بے پناہ اضافے کے لئے محنت کا بدترین استحصال کر سکیں۔تاہم اس متنازعہ قانون کی پارلیمنٹ سے منظوری کے خلاف انڈونیشیا بھر میں طلبہ اور مزدور سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور پورے ملک میں احتجاجات اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری ہے۔

پورا ملک اس وقت میدان جنگ بنا ہوا ہے جہاں پر طلبہ اور مزدور نئے قانون کے خلاف سخت مزاحمت کر رہے ہیں۔مزدور رہنما نئے قانون کو مزدوروں کے حقوق سلب کرنے اور ماحولیات کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔ انڈونیشیا کے صحافیوں کی تنظیموں کے اتحاد نے بھی اس بل کو مستردکر دیا ہے۔ ان کی جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ کہ،’انڈونیشیا کے صدر جوکو ودودو کی جانب سے نئے قوانین سے معیشت ترقی کرے گی اور نئی ملازمتوں کے مواقع ملیں گے تاہم حقیقت میں کئی برسر روزگار محنت کش ان قوانین سے شدید متاثر ہونگے۔ ان قوانین کے مطابق برطرفیوں اور کم از کم اجرت سے متعلق تمام قوانین کو ختم کیا جا رہا ہے اور محنت کشوں کو سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر چھوڑا جا رہا ہے۔نئے قوانین کی روشنی میں ہفتہ وار رخصت کو کم کر کے ایک یوم کیا جا رہا ہے اور چھٹیوں کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔‘ انڈونیشیا کی ٹریڈ یونین کنفیڈریشن نے 6 تا 8 اکتوبر کو پورے ملک میں ہڑتال کا اعلان کیا، اس ہڑتال میں 5000سے زائد فیکٹریوں کے لاکھوں محنت کشوں نے حصہ لیا۔ اس دوران جکارتہ کا صنعتی ایریا مکمل طور پر مفلوج ہوا اور 7000محنت کشوں نے شاندار ریلی نکالی۔ خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق مورخہ 8 اکتوبرکو مظاہرین نے صدارتی محل کی جانب بڑھنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے اُنہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے بعد جھڑپوں کا آغاز ہوا۔ ان جھڑپوں میں مزدوروں کے ساتھ ساتھ جامعات اور کالجز کے طلبہ بھی شریک تھے۔اس دوران صدارتی محل کے اطراف شاہراہوں پر آنسو گیس کا دھواں پھیل گیا جب کہ سڑکوں پر جگہ جگہ پتھر اور بوتلوں کے ٹوٹنے سے کانچ بکھر گئے۔ مظاہرین نے پر تشدد احتجاج کے دوران کئی سرکاری دفاتر کو بھی نقصان پہنچایا جب کہ شاہراہوں پر موجود رکاوٹوں، متعدد گاڑیوں اور ایک سنیما گھر کو بھی آگ لگا دی۔انڈونیشیا کے نئے لیبر قانون کے خلاف جکارتہ کی طرح دیگر کئی بڑے شہروں میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ یوگیا کارتا، مدان، ماکاسار، مانادو اور بندونگ میں بھی بڑی تعداد میں مظاہرین احتجاج میں شریک ہوئے جب کہ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ اس دوران سینکڑوں گرفتاریوں کی خبریں بھی آرہی ہیں، ملک میں جگہ جگہ محنت کشوں کے جلوسوں کو منتشر کرنے کے لئے ریاست کی جانب سے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، مگر پھر بھی وہ محنت کشوں کی تحریک کو کچلنے میں ناکام رہے۔ احتجاج کے منتظمین میں شامل ’انڈونیشین الائنس‘ کی ایگزیکٹو باڈی کے رکن خیر اللہ کا کہنا ہے کہ احتجاج کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت نیا قانون واپس نہیں لے لیتی۔دوسری جانب حکومتی ترجمان محمد محفوظ نے فوج کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہنگامہ آرائی کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی اور اُن عناصر کے خلاف بھی کارروائی ہو گی جو انتشار اور مجرمانہ اقدامات کے اصل ذمے دار ہیں۔

متنازع قانون انڈونیشیا کی حکومت نے رواں ہفتے ہی پارلیمان سے منظور کرایا ہے۔ اس قانون کے تحت انڈونیشیا میں مزدوری کا نظام اور قدرتی وسائل کے انتظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متوقع ہیں۔ قانون کے مطابق ’سرمایہ کاری کو راغب کرنے‘ اور ’معیشت کو سہارا دینے‘ کے لئے خودمختار دولت فنڈ میں 75 کھرب (5.1 بلین امریکی ڈالر) قائم کیا جائے گا۔جس کے لئے بڑے پیمانے پر عوامی اداروں کی نجکاری کی جائے گی۔ اس قانون نے ’کم سے کم اجرت‘ کی پابندی ختم کر دی ہے اورسرما یہ داروں کی صوابدید پر افراط زر اور معاشی نمو پر مبنی ایک فارمولا فراہم کیا، ساتھ ہی سیکٹرل کم سے کم اجرتوں کی حد بندیان ختم کردی گئیں۔ ’کم سے کم اجرت‘ ضوابط کو پورا نہ کرنے پر جرمانے ختم کردیئے گئے۔ قانون نے ہر سال 1 ماہ کی تنخواہ کو بھی کم از کم تنخواہ سے لے کر حد تک تنخواہ دینے کے معیار میں تبدیل کردیا۔ اوور ٹائم حد میں چار گھنٹے اور ہفتے میں 18 گھنٹے اضافہ کیا گیاہے اور لازمی تعطیلات ہفتے میں دو دن سے کم کرکے صرف ایک کردی گئی ہے۔ اس قانون نے 6 سال سے زیادہ عرصے سے کام کرنے والے کارکنوں کے لئے 2 ماہ کی طویل اجرتی رخصت کو بھی ختم کردیا۔سرمایہ داروں کے لئے کارپوریٹ انکم ٹیکس آہستہ آہستہ فی الحال 25٪ سے کم کرکے 22٪ (2022 سے شروع) اور آخر میں 20٪ (2025 سے شروع) کردیا جائے گا جبکہ صارفین پر 10٪ ویلیو ایڈڈ ٹیکس وصول لگایا گیا ہے۔غیر ملکی مزدوروں کی خدمات حاصل کرنے میں آسانی پیدا کرنے کے لئے، غیر ملکی محنت کشوں کے لئے قواعد میں نرمی کی گئی۔ قانون پاس ہونے سے پہلے آؤٹ سورسنگ صرف ان ملازمتوں میں اجازت تھی جن براہ راست پیداوار سے متعلق نہیں تھا۔ کاروباری اداروں کے لئے ماحولیاتی ضوابط کو ’ہائی رسک‘ کے درجہ بند منصوبوں میں نرمی کی گئی ہے، حالانکہ اس طرح کے اعلی رسک کمپنیوں کو ابھی بھی ماحولیاتی اثرات کا تجزیہ درج کرنا تھا۔ ملازمین کو برطرف کرنے کے قواعد میں نرمی کی گئی اورمحنت کشوں کو برطرف کرتے وقت کسی ادارے میں درخواست دینے کا مطلوبہ عمل ختم کردیا گیا ہے۔

انڈونیشیا جنوب مشرقی ایشیا کا ایک بڑا ملک اور دنیا کا سب سے گنجان مسلمان ملک ہے، ملک کی کل آبادی 27 کروڑ ہے جن میں سے تقریباََ نصف آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بیروزگاری کی شرح 17.04%سے بھی زیاد ہ ہے، دوسری جانب غربت اور امارت کی خلیج میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ صحت کا شعبہ ابتر حالت میں ہے،ابھی تک انڈونیشیا میں کورونا وائرس کے تین لاکھ 30 ہزار سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ جبکہ حکام نے اب تک 11 ہزار 600 کے لگ بھگ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ موجود ہ کورونا وبا کے دوران بیروزگاری میں شدید ترین اضافہ دیکھا گیا، حکومت کے اپنے اعدادو شمار کے مطابق پیداواری شعبے میں 30فیصد محنت کش بیروزگار ہوئے جبکہ نوجوانوں میں اضطراب بڑھ رہا ہے۔لیکن حکومت نیو لبرل معاشی پالیسیوں کا نفاذ بڑی بے رحمانہ طریقے سے کر رہی ہے۔ امریکہ کے تربیت یافتہ ماہر معاشیات سری مولانی، جو کہ ورلڈ بینک کا سابق منیجنگ ڈائریکٹر رہ چکا ہے اب ملک کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے ملک میں آئی ایم ایف کی بے رحمانہ پالیسیوں لاگو کر رہا ہے۔1960 کی دہائی کے آخر میں، پہلی مرتبہ ملک میں نیو لبرل معاشی پالیسی کا نفاذسیو ہارٹو فوجی آمر کے دور حکومت میں فورڈ فاؤنڈیشن کی مالی اعانت کے ذریعہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے تربیت یافتہ انڈونیشیا کے ماہرین اقتصادیات نے کیا۔ اب دوبارہ ان سامراجی نسخوں کو نئے لیبل کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔

تاہم محنت کش اور طلبہ ان قوانین کے خلاف میدان عمل ہیں۔ ہم انڈونیشیا کے محنت کشوں اور طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، پاکستان اور انڈونیشیا کے محنت کش اور عوام اپنے مشترکہ دشمن آئی ایم ایف اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف صف آراں ہیں۔ انڈونیشیا کے محنت کشوں اور طلبہ نے آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے خلاف جوعلم بغاوت بلند کیا ہے اس علم کو پاکستان کے محنت کش آگے لے کر جائیں گے اور جکارتہ سے اسلام آباد تک ہمارا ایک ہی نعرہ ہے،

’آئی ایم ایف مردہ باد‘

’سرمایہ داری مردہ باد‘

آگے بڑھو، آخری فتح ہماری ہو گی!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*