سوچو انسانو، امیر اورغریب کے شہر میں تفریق کیوں؟

تحریر: قمرالزماں خاں

حکمرانوں کے شوق بھی عجیب وغریب ہوتے ہیں جب یہ ایک دوسرے سے لڑنے پر آتے ہیں تو روایتی اسلحے کے ساتھ ایٹمی اسلحہ تک استعمال کر جاتے ہیں مگر پھر بھی اس سے حکمران طبقے کا کوئی فرد براہ راست متاثر نہیں ہوتا، عام طور پر وہی مرتے ہیں جن کے گرد وپیش موت کی اڑان، حالت امن میں بھی جاری ہوتی ہے۔ حکمران جب دوستی کرنے پر آتے ہیں تو انتہائی خوشی میں یہ شہروں کی کنجیاں باہم تبدیل کرلیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ حکمران اس دو ران مختلف ممالک کے دو شہروں کو جڑواں شہرتک قراردے دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ اس طرح دو مختلف خطوں، براعظموں یا دو الگ الگ ممالک میں واقع دونوں شہر ان کی خیر سگالی اور نیک خواہشات کے تابع”جڑواں“ شہر قرار پانے پر ایک جیسے ہی سمجھے جائیں گے۔ حکمران ایسا کرتے ہوئے ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ کبھی کوئی ایک شہر بھی سارے کاسارا ایک جیسا نہیں ہوتا، بلکہ ہرشہر کے اندر دو شہر ہوتے ہیں۔ شہر کے اندر ایک شہر حکمرانوں کا ہوتا ہے جب کہ اسی شہر کے اندر دوسرا شہر عوام الناس یا محکوموں کا ہوتا ہے۔ ایک ہی محل وقوع کے اندر جس شہر میں حکمران رہتے ہیں وہاں طبقہ امرا، معززین اور شرفا کا بسیرا ہوتا ہے۔ یہ شہر، ہرشہر میں بحریہ ٹاؤن، ڈیفنس، گلبرگ جیسے کسی ملتے جلتے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اسی طرح سے ہر شہر میں دوسرا شہرپیپلز کالونی، غریب آباد، بھٹو نگرجیسے ناموں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس شہر میں مزدور، ریڑھی لگانے والے، ورکشاپوں میں کام کرنے والے، دیہاڑی دار اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے سر چھپائے ہوتے ہیں۔

ہر شہر کے اندر دونوں قسم کے شہروں کا سب کچھ ہی مختلف ہوتا ہے۔ گویا ایک ہی شہر کے اندر بسنے والے دو شہر، دو مختلف قطبوں پر قائم ہوں۔ نہ تو ان کی تاریخ ملتی ہے، ان کا جغرافیہ بھی مختلف ہوتا ہے اور ثقافت بھی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ نہ ان کے رسم و رواج ایک جیسے ہوتے ہیں اور نہ ہی یہاں رہنے والوں کی عادتیں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ دونوں شہروں کے مکینوں کی بیماریاں بھی جد اجد ہوتی ہیں، موت دونوں جگہ آتی ہے مگر موت پر ردعمل دونوں جگہ ہی مختلف ہوتا ہے، ایک شہر میں جائیداد، بنک بیلنس اور وصیت کے مسائل ہوتے ہیں تو دوسری طرف بھوک کی وراثت کا معاملہ نوحوں اورسینہ کوبی کے ردھم میں اٹھ رہا ہوتا ہے۔ اور تو اور ایک ہی شہر میں وقوع پذیر دونوں شہروں کے موسم تک مختلف ہوتے ہیں، یہاں کے ماحول الگ الگ ہوتے ہیں۔ ایک شہر گرد وغبار اور دھویں میں اٹا ہوتا ہے تو دوسرادرختوں، پھول پھلواریوں اور بیلوں سے لدھا ہوتا ہے۔ ایک شہرمیں بجلی کبھی نہیں جاتی کہ ہر اک اک گھر بجلی بنانے والی مشینوں سے مزین نظر آتا ہے تو دوسرے شہر میں بجلی کاکبھی آنا ہی قسمت کی شناوری گردانا جاتا ہے۔ ایک شہر تنگ و تاریک، بدبودار گلیوں، سیلن زدہ پلاسٹر اکھڑی دیواروں اور شکستہ حال مکانوں کے ساتھ، وہاں بسنے والی زندگیوں کے درگور ہونے پر ماتم کناں دکھائی دیتا ہے تو دوسرے شہر کا ہر دن عید سے بھی زیادہ خوشیوں میں ڈوبا ہوا اور ہر رات شب برات ہوتی ہے۔ پہلا شہر دور سے دیکھنے پر ہی کسی کھدائی سے نکلا کھنڈر نما قبرستان نظر آتا ہے جبکہ دوسرے شہر کا نظارہ دیدنی ہوتا ہے۔ کھلی کھلی، کشادہ سڑکیں، ترتیب سے استادہ بنگلے، سنگ مرمر اور قیمتی پتھروں کی آرائش کی نمائش اورفن تعمیر کے مقابلے، چمکتی دمکتی لمبی لمبی کاروں کے اندر سے صحت مند اور فربہ جسم، آسودہ پیشانیاں، کھلتے ہوئے رنگ، قہقہے لگاتے ہوئے چہرے، کلف سے سرسراتے ملبوسات، فراوانی کی چغلی کھاتی ہوئی ادھ کھلی تفاخر آمیز آنکھیں، مدھوش کردینے والی خوشبو‘ کہ جس کا ایک جھونکا ہی پہلے شہر کے کسی گھرانے کے مہینہ بھر سے مہنگا ہو۔ اس شہر کا دن ہوش ربا ہوتا ہے تو رات سحر انگیز۔ مہکتی شاموں کو مدھوش کردینے والی بوتلوں کے جسم سے نکلنے والی رقاصہ، جسکے تھرکنے سے آبگینے جلترنگ بجانے لگیں۔ جہاں زندگی تھکنے کی بجائے سر شام کسی خوبرو دوشیزہ کی طرح انگڑائی لیکر اٹھتی ہے اور وادی طلسم کے درو دیوار‘ وا کرتی نظر آتی ہے۔

رات اسی شہر سے ملحق دوسرے شہر میں رات کائنات کے سارے غم اپنی جھولی میں ڈالے گھر گھر بانٹتی پھرتی ہے۔ یہ صدیوں سے لمبی رات، دکھوں سے بھرے جسموں کے سارے زخم ننگے کرتی ہے۔ یہ رات غربت کے الاؤ میں دہکنے والے جذبوں کی راکھ کریدتی ہے اور دیوانہ وار ہنستی ہے۔ سوچوں کے شراروں سے احساسات کی شمع روشن کرتی ہے اور پھر مایوسی کے پروانوں سے پرستش کرواتی ہے۔ ناتمام خواہشات کے انگنت انگارے تمام رات جلتے بجھتے ہیں۔ یہ رات ہر خواب کی پیٹھ پر محرومی کا کوڑا برساتی ہے اور زخموں پر ناکامیوں کا نمک چھڑکتی ہے۔ اس شہر کی ہر رات اور دن کے بیابان آنگن میں ذلتوں کے طوق گلے میں لٹکائے روحیں، اک دوجے سے نظر ملانے سے بھی ڈرتی ہیں کہ کہیں زندگی کے گہرے گھاؤ پورے کے پورے باہم نظر نہ آجائیں۔ اٹھتی جوانیوں کے مدقوق چہرے، والدین کے حوصلے پست کرتے رہتے ہیں۔ یہاں ہر ہر رات بھوک کی فصل اگتی ہے اور مکینوں کی ہمت اور جذبے سے بڑا قد نکال لیتی ہے۔ اس شہر کے تمام مکینوں کے رنگ ایک جیسے ہوتے ہیں، شکلیں اور وضع قطع ملتی جلتی ہے۔ ساتھ والے شہر سے دیکھنے پر یہ میلے کچیلے رنگوں والے بدصورت اور لاغر انسان، جنکے بدبودار جسم ”مہذب انسانیت“ اور اشرافیہ کی دنیا کے لئے کسی بدنما دھبے سے کم نہیں ہوں گے، دوسرے شہر والوں کو یہ سارے کے سارے زمین پر بوجھ دکھائی دیتے ہیں۔ اگر ان غلیظ اور متعفن گھروں میں کالے اور ڈھب کھڑبے رنگوں کے درمیان کوئی گورے رنگ کا پیدا بھی ہو جائے تو ساتھ والے شہرکے مکینوں کے ”ائیر کنڈیشنڈ کلر“ کے سامنے میلا ٹھہرتا ہے۔

دو مختلف خطوں، براعظموں اور ممالک کے دو مختلف شہروں کو جڑواں شہر قرار دینے والو! بتاؤ……یہ کیسے شہر ہیں! ایک ساتھ اور بالکل جدا جدا! یہ کیسی تقسیم ہے اور کس نے کی ہے؟ اُس شہر کے رہنے والوں کو کس چیز کا صلہ ملا ہے اور اِس شہر کے باسیوں کو کن کرموں کی سزا دی جارہی ہے؟ کیا یہ نصیبوں کا لکھا ہے؟ کیا یہ قسمت کا کیا دھرا ہے؟ کیا قدرت اتنی بے انصاف ہے؟…………اتنی امتیاز! ایسی بے توجہگی! …………نہیں نہیں یہ نہیں ہوسکتا۔ قدرت تو مہربانی کا نام ہے۔ اس کی فراخ دلی تو لازوال ہے۔ وہ تو یہ ظلم اور انیائے نہیں کرسکتی، قدرت تو زمین پر بسنے والوں شفیق ترہے!پھر یہ کیاہے؟ سوچو انسانو ……سوچو!

غور کرو، سمجھنے کی کوشش کرو، شہر تو ایک ہی ہونا چاہئے۔ ایک شہر میں دو شہر آخر کیوں؟ سب انسان ہیں تو پھر ان کے درمیان اتنا فرق کیوں؟ سوچو انسانو! اگر سارا شہر پھولوں، سے‘ خوشبو سے‘رنگوں سے سج جائے تو کتنا بھلالگے! خوشیوں کے گیت سارے شہر کی رِیت بن جائیں تو یہ کتنا سندر ہوجائے۔ ایسا کیوں نہ ہو؟ امنگیں اور جذبے سب کے ہوتے ہیں تو پھر سب جذبے پروان کیوں نہ چڑھیں! اولاد تو سب کی پیاری ہوتی ہے۔ پھر سب کی آنکھوں میں زندگی کے دیپ کیوں نہ جلیں! خواب تو سب کے سہانے ہوتے ہیں، پھر ہر کسی کو تعبیر کیوں نہ ملے!

سوچو! انسانو……سوچو، انسانوں کی اس بستی میں انسانوں کے درمیان اس فرق کو مٹانے میں حرج ہی کیا ہے؟ دھرتی کے بے پناہ
وسائل سب میں تقسیم ہو جائیں تو کسی کاگھاٹا ہی کیا ہے؟ دریدہ بدن انسانوں کے زخموں پر مرحم رکھ دیا جائے تو کسی کا جائے گا ہی کیا؟ ایک ہی شہر میں دو شہروں کی غیرفطری تعمیر پر آخر اسرار کیوں؟ شہر تو ایک ہی ہونا چاہئے، دوشہروں تقسیم کیوں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*