افضل شاہین مرکزی صدر ہیلتھ ایمپلائزآرگنائزیشن آزادکشمیرکا انٹرویو

اہتمام: PTUDC پلندری، آزادکشمیر

ہیلتھ ایمپلائزآرگنائزیشن کے اغراض ومقاصد کیا ہیں ؟
آزادکشمیر میں تمام ملازمین کی پہلے پہل تنظیم غیرجریدہ تھی جوکہ تمام ادارہ جات کے ملازمین کی نمائندہ تنظیم تھی ۔غیر جریدہ کی قیادت سے مایوس ہو کر ملازمین نے اپنے اپنے ادارہ جات کی تنظیمیں رجسٹرڈ کروائیں ۔اس طرح محکمہ صحت کے ملازمین کی نان گزیٹڈ میڈیکل ایسوسی ایشن نامی تنظیم معرض وجود میں آئی۔ جس کا بعدازاں نام تبدیل کر کے پیرامیڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن رکھا گیا جو کہ سکیل نمبر 1 سے سکیل نمبر 16 تک محکمہ صحت عامہ کے ملازمین کی نمائندہ تنظیم تھی۔ پیرا میڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن کی کوششوں سے 2009ء میں پیرا میڈیکل کا سروس سٹرکچر منظور کروایا گیا جس کے بعد تنظیم کے نمائندگان نے تنظیم کا آئین مرتب کرتے ہوئے تنظیم کا نام ہیلتھ ایمپلائز آرگنائزیشن رکھا جو کہ محکمہ صحت کے ملازمین کی نمائندہ تنظیم ہے۔ ہیلتھ آرگنائزیشن کا مقصد محکمہ صحت کے ملازمین کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا۔ سروس سٹرکچر، سکیل اپ گریڈیشن ، تنخواہوں میں اضافہ، محکمہ صحت کے اندر انتظامی پوسٹیں ، پیرامیڈیکل کا الگ سے ڈائریکٹر یٹ، ملازمین کے پروموشن، مسنگ کیڈر ز کے رولز، آر ایم اے کی پوسٹیں ، لیڈی ہیلتھ ورکرز کو نارمل میزانیے پر لانا وغیرہ کے لیے جدوجہد کو منظم کرناشامل ہیں۔ ہیلتھ ایمپلائز آرگنائزیشن کا مقصد ہے کہ تمام ملازمین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے یونین سازی کے عمل کی طرف لے جایا جائے۔ پھر یونین سے فیڈریشن اور پھر کنفیڈریشن کی طرف بڑھا جائے جس طرح پوری دنیا کے اندر لیبر قوانین کے مطابق تنظیم سازی کا حق موجو دہے ۔

محکمہ صحت کے ملازمین کے مسائل کیا ہیں ؟
٭ ہیلتھ ایمپلائزآرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے 2009 ءمیں جو سروس سٹرکچر منظور کروایا گیا تھا اُس پر مکمل طو رپر عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔ سروس سٹرکچر میں طے شُدہ فارمولے کے تحت تخلیق شُدہ آسامیوں کو سروس سٹرکچر کے تحت انڈکٹ کیا جانا تھا جبکہ 2009ء سے 2017ء آزادکشمیر میں 361 آسامیاں تخلیق ہوئیں جن کی انڈکشن تاحال باقی ہے۔
٭ ملازمین کے پروموشن کے لیے ہیلتھ ایمپلائز آرگنائزیشن نے ہڑتال کا راستہ اپنایا جس پر وزیر اعظم آزادکشمیر اور بیوروکریسی کے تمام نمائندگان سے مذکرات ہوئے۔ میٹنگ کے باقاعدہ مینٹس جاری ہوئے جس میں پروموشن کے مطالبے کو جائز اورعمل درآمد
کو یقینی بنانے کاوعدہ کیا گیا تھا۔ جس کا تاحال نوٹیفکیشن جاری نہ ہوسکا۔
٭ ریاست کی طرف سے وعدہ کیا گیا تھا کہ RMA کی پوسٹیں محکمہ صحت کے ملازمین کو دی جا ئے گی جس کابھی نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں ہوسکا۔
٭ 2014ء کی ہڑتالی تحریک کے دوران ہیلتھ ایمپلائز آرگنائزیشن نے ملازمین کے لیے ہیلتھ الاﺅنس کی لڑائی جیتی تھی ۔جس
کے تحت تقریباً آٹھ ہزار ملازمین کو ہیلتھ الاﺅنس کی فراہمی ممکن ہوئی لیکن 454 ملازمین کو تاحال ہیلتھ الاﺅنس نہیں مل سکا جو کہ
ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہے۔
٭ مسنگ کیڈرز کے رولز پہ تا حال عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔ملاز مین کی سروس کا دورانیہ مکمل ہو جاتا ہے جب کہ سالوں تک ان ملازمین کی پروموشن نہیں ہو پاتی ہے۔
٭ لیڈی ہیلتھ ورکرز کا نوٹیفکیشن ہونے کے باوجود ان کو نارمل میزانیے پر لانے کا عمل مکمل نہیں ہو سکا۔ جب کہ ان گنت ہڑتالوں اور احتجاجوں کے باعث ان کو چھ سے سات ماہ کی تنخواہ کی فراہمی ممکن ہوئی۔ جب کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی پانچ ماہ کی تنخواہ ادا کرنا ابھی بھی بقایا ہے۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو کئی کئی مہینے تک تنخواہ کا نہ ملنا زیادتی ہے۔
٭ آئے روز بڑھتی مہنگائی کے تناسب سے تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا جاتا ۔ کئی ملازمین کو ان کی دس ہزار کی تنخواہ بھی کئی ماہ تک نہیں ملتی۔ ہیلتھ ایمپلائز آرگنائزیشن مطالبہ کرتی ہے کہ تمام محنت کشوں کی تنخواہیں کم از کم ایک تولہ سونے کے برابر کی جائیں ۔

ایکٹ 2013ء کے بارے میں ہیلتھ ایمپلائز آرگنائزیشن کیا سوچتی ہے؟
ہیلتھ ایمپلائز آرگنائزیشن یہ سمجھتی ہے کہ لیبرقوانین کے مطابق ملازمین کو جو تنظیم سازی کا حق دیا گیا تھا۔ ایکٹ 2013ءملازمین کی تنظیموں کی زبان بندی کر کے ان کو بیوروکریسی کے تابع کرنا چاہتی ہے۔ ہیلتھ ایمپلائز آرگنائزیشن ایکٹ 2013ءکو کالا قانون سمجھتی ہے اور حکمرانوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس کالے قانون کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ ورنہ ریاست کے خلاف تحریک چلائی جائے گی۔

آپ کے خیال میں دیگر اداروں کے محنت کشوں کی تحریکوں سے جڑت کیوں ضروری ہے؟
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عالمی سرمایہ داری کے بحران کے باعث پوری دنیا میں محنت کشوں کی مراعات جو انہوں نے جدوجہد کے ذریعے حاصل کی تھیں ، ان مراعات پہ کٹوتیاں کی جار ہی ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ محنت کش طبقہ طبقاتی بنیادوں پر منظم ہو کر جدو جہد کا آغاز کرے تاکہ محنت کرنے والوں پہ سرمائے کی حاکمیت کا خاتمہ کیا جاسکے۔ ہیلتھ ایمپلائز آرگنائزیشن نجکاری ، ڈاﺅن سائزنگ ، ری کنڈیشننگ جیسی ملازمین مخالف پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے تمام محنت کشوں کی تمام ٹریڈ یونینوں کو متحد کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ ہیلتھ ایمپلائز آرگنائزیشن یہ سمجھتی ہے کہ تمام تنظیموں کو متحد ہو کر ایک فیڈریشن بنائی جائے تاکہ محنت کشوں کی چھوٹی چھوٹی انفرادی تحریکوں کو آپس میں جوڑ کر فیصلہ کن لڑائی لڑی جائے۔

ہیلتھ ایمپلائز آرگنائزیشن اور دیگر اداروں کی ٹریڈ یونینوں و ملازمین کے لئے کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
ہیلتھ ایمپلائز آرگنائزیشن یہ سمجھتی ہے کہ ریاست کے اندر موجود تمام محکموں کی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پہ متحد کر کے ایسوسی ایشن سے آرگنائزیشن ، آرگنائزیشن سے یونین ، یونین سے فیڈریشن اور کنفڈریشن کی طرف جانے کا پیغام دیتی ہے۔ ہم ہیلتھ ایمپلائز آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے پورے پاکستان کے تمام صوبوں، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر کے اندر جاری محنت کشوں کی تحریکوں کی مکمل طور پر حمایت کرتے ہوئے تمام تنظیموں کی قیادت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ پرنٹ میڈیا و الیکٹرانک میڈیا کے اندر محنت کشوں کی جاری تحریکوں کی حمایت کا اعلان کیا جائے۔ ہیلتھ ایمپلائز آرگنائزیشن پوری دنیا کے محنت کشوں کو “دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاﺅ”کے نعرے کو اپنانے کا پیغام دیتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*