فیصل آباد: صداقت ٹیکسٹائل مل کی مزدورخاتون کا انٹرویو!

اہتمام: PTUDCفیصل آباد

PTUDCفیصل آباد نے صداقت ٹیکسٹائل مل کے ایک خاتون مزدورکے حالات زندگی جاننے کے لئے ان کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا، تاہم خاتون مزدور نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات چیت کی،  لہٰذا  ہم اس انٹرویوکی اشاعت میں خاتون کا فرضی نام استعمال کر رہے ہیں۔

آپکو کام کرتے ہوئے کتنا عرصہ ہوا؟
مجھے تین سال ہو رہے ہیں ،اس سے پہلے میں نے معصود ٹیکسٹائل مل میں چار سال کام کیا۔

آپکے گھر میں کتنے افراد ہیں؟
ہم گھر میں کل چار افراد ہیں۔ میرے گھر میں میری امی ہیں جو کہ ضعیف العمر ہیں ۔اسکے علاوہ میرے دو بھائی ہیں ،جن میں سے ایک کا ذہنی توازن درست نہیں، جبکہ دوسرا ایک شاپنگ مال میں سیلزمین ہے۔

آپکے بھائی کو کتنی تنخواہ ملتی ہے؟
اسے ماہانہ آٹھ ہزار روپے ملتے ہیں۔

آپکی تنخواہ کتنی ہے؟
میری تنخواہ گیارہ ہزار روپے ہے۔

آپکا ذاتی گھر ہے؟
نہیں ہم دو کمروں پر مشتمل ایک کرائے کے مکان میں رہتے ہیں جس کا ماہانہ کرایہ پینتالیس سو ہے

آپکے گھر کے کل ماہانہ آمدن میں آپکا باآسانی گزارا ہوجاتا ہے؟
نہیں ہرگز نہیں۔ گھر کے بجلی کا بل ہزار سے پندرہ سو ہے ، جبکہ گیس کا بل دو سو کے قریب آتا ہے۔ صرف امی اور بھائی (ذہنی توازن بگڑا ہوا) کی ادویات کا ماہانہ خرچہ چار سے چھ ہزار ہے ۔ جبکہ میں خود ڈیپریشن کی مریضہ ہوں ۔ اکثر اوقات ہمارے پاس کھانہ کھانے کے پیسے بھی نہیں بچتے ۔ محلے والے اور دیگر آس پاس کے لوگ ہمیں پرانے کپڑے دے دیتے ہیں ، جن سے ہم گزارا کر لیتے ہیں۔

آپکی عمر اس وقت انتالیس سال ہے اورآپ غیرشادی شدہ ہیں۔ اسکی وجہ کیا ہے؟
میں گھر میں بھائی،بہنوں میں سب سے بڑی ہوں اور ہمارے والد اس وقت انتقال کر گے جب ہم بچے تھے۔ امی نے محنت مزدوری کرکے ہمیں پال پوس کے بڑا کیا ۔ اسکے بعد ہم نے خود کام کرنا شروع کیا۔ میں نے شروع میں کئی سال تک لوگوں کے گھروں میں کپڑے اور برتن دھونے کا کام کیا۔ اس کے بعد سے میں مِلوں میں کام کررہی ہوں۔

جن لوگوں کے گھروں میں آپ کام کرتے تھے، ان کا رویہ کیسا تھا؟
بہت سے لوگ خیال رکھنے والے تھے، مگر زیادہ تر لوگوں کا رویہ ہتک آمیز ہوتا تھا ۔

اس مِل میں لوگ آپ سے کیا برتاﺅ رکھتے ہیں؟
ساتھ کام کرنیوالے مزدور تو کچھ نہیں کہتے ، البتہ انتظامیہ کے لوگوں رویہ بہت سخت ہے ، مالک بات بات پر گالیاں نکالتا ہے ۔ ضرورت کے وقت پیسے نہیں دیتے۔

کیا آپکو ان حالات کے ہوتے ہوئے کوئی بہتری کی امید ہے؟
یہ کس کو خبر ہے زندگی کتنے دن کی ہے ۔ اب تک تو جتنا گزارا ہے اس سے نہیں لگتا آگے کوئی بہتری ہو سکتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب حالات جیسے ہیں ویسے ہی رہیں گے۔

آپکے قیمتی وقت کا شکریہ ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*