آل پاکستان آئل اینڈ گیس ایمپلائز فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل سید اعجاز بخاری کی مزدور نامہ کے ساتھ نشست

اہتمام: PTUDC شمالی پنجاب

سید اعجاز بخاری عرصہ 15سال سے مزدور جدوجہد میں سرگرم عمل ہیں، وہ OGDCL کی CBA یونین کے فنانس سیکرٹری اور آل پاکستان آئل اینڈ گیس ایمپلائز فیڈریشن کے نومنتخب مرکزی سیکرٹری جنرل ہیں۔ مزدور نامہ نے ان کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا جس انہوں نے محنت کشوں بالخصو ص آئل اینڈ گیس کے شعبے سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں کے مسائل اور ان کے حل پر سیر حاصل گفتگو کی۔ ہم اپنے قارئین کے لئے انکا انٹرویو شائع کر رہے ہیں تاکہ اس اہم شعبے کے محنت کشوں کے مسائل سے آگائی حاصل کی جا سکے۔

آپ مزدور سیاست کب سے کر رہے ہیں؟
میں گزشتہ 15سال سے محنت کشوں کی سیاست کر رہا ہوں۔ اپنی بساط کے مطابق کوشش کرتے ہیں کہ محنت کشوں کے مسائل حل کر سکیں ۔

اس سارے عرصہ میں کس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
میں بنیادی طور پر OGDCL میں ملازمت کرتا ہوں اور ادارہ ہذا کی موجودہ CBA کا فنانس سیکرٹری ہوں۔ ہماری یونین کی پوری کوشش رہی ہے کہ ہم اپنے محنت کش ساتھیوں کے مسائل حل کریں۔ بہت حد تک ہم اس میں کامیاب رہے ہیں ، لیکن انتظامیہ روڑے اٹکاتی رہتی ہے۔

کیا نجکاری مسائل کا حل ہے ؟
یقینا نہیں، اس سے پہلے جن اداروں کی نجکاری کی گئی ہے ، ان ادارے کو خریدنے والے سرمایہ داروں نے سب سے پہلے ادارے میں ڈاﺅن سائزنگ کی۔ ان اداروں میں ملنے والی مراعات فوری طور پر محنت کشوں سے چھین لی گئیں۔ پی ٹی سی ایل، ایم سی بی اور کراچی الیکٹرک کارپوریشن کی مثالیں اس کا واضح ثبوت ہیں۔

اس وقت آئل اینڈ گیس سے منسلک محنت کشوں کا سب سے بنیادی مسئلہ کیا ہے؟
دیگر اداروں کی طرح ہمارا سب سے بڑامسئلہ ٹھیکیداری یعنی تھرڈپارٹی ٹھیکیدار ہے، 12سال سے بھی زیادہ محنت کش دیہاڑی دار یا کنٹریکٹ لیبر ہیں جنہیں ابھی تک ایگولرائز نہیں کیا جا رہا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے فیڈریشن بنائی تاکہ سب سے پہلے آئل اینڈ گیس شعبے کے محنت کشوں کو متحد کیا جائے اور پھر اسے دیگر اداروں کے ساتھ جوڑ کر طبقاتی یک جہتیکی بنیاد رکھی جا سکے۔

تیل کی قیمتوں کی عالمی منڈی میں گراوٹ نے محنت کشوں پر کیا اثرات مرتب کئے؟
سب سے پہلے تو ہمارے ادارے OGDCLکی شرح منافع میں کمی واقع ہوئی جس کا براہ راست اثر محنت کشوں پر پڑا، جس میں سالانہ ملنے والے انکریمنٹ کی شر ح میں کمی واقع ہوئی اور بنیادی تنخواہ میں اضافہ کو روک دیا گیا ہے۔ جس سے آنے والے دنوں میں ایک ہزار سے زائد محنت کش متاثر ہونگے، یہی آئل اینڈ گیس صنعت میں موجود تمام محنت کشوں کی ہے۔

محنت کشوں کو درپیش دیگر مسائل کیا ہیں؟
ہر حکومت کی کوشش رہی ہے کہ کسی طرح سے digging/partiesکے شعبہ کو پرائیویٹائز کیا جائے تاکہ اپنے مرہون منت افراد کو نوازا جا سکے۔ جب کہ حقائق یہ ہیں کہ ہمارے پاس ہنر مند افراد موجود ہیں جو کہ اپنی شب روز محنت جانفشانی سے بہترین کارکردگی کے ساتھ Rigsپر کام کر رہے ہیں۔ ہم نے نجکاری و دیگر مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف پہلے بھی جدوجہد کی ہے اور اب اسے مزید منظم کرنے کی طرف جا رہے ہیں۔

پاکستان میں مزدور تحریک کو کیسے زندہ کیا جا سکتا ہے؟
اس کا طریقہ نہایت آسان ہے، لیکن موجودہ کیفیت میں تھوڑا کٹھن بھی ہے ۔ اگر تمام بڑی فیدریشنز، کنفیڈریشنز، ایسو سی ایشنز تمام تر فروعی مسائل کو بالا طاق رکھتے ہوئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم بناتے ہوئے ’ایک کا زخم ، سب کا زخم‘ کے نعرے کے ساتھ سب متحد ہو جائیں تو یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جس کے ذریعے ہم تمام مزدور دشمن اقدامات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*