ایران: محنت کشوں، طلبہ اور عوام کے احتجاجات جاری

رپورٹ: نادیان، NCRI تہران

مورخہ 20نومبر منگل کی صبح احواز اسٹیل اور ہفت ٹپئی شوگر مل کے بہادر محنت کشوں کی ہڑتال اور ان کے مظاہرے جاری ہیں۔ایران کے شہر شوش میں ہفت ٹپئی شوگر مل کے محنت کشوں نے اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لئے گورنر ہاؤس سے لے کر شہر کے مرکزی بازار تک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا۔ اس دوران انہوں نے ایرانی ریاست کے خلاف، گرفتار محنت کشوں کو رہا کرو، فتح تک جدوجہد جاری، ہم متحد ہیں اور ہمیں ایسی ذلت قبول نہیں‘ کے نعرے بلند کئے۔

احواز شہر میں حکومتی جبر کے باوجو د مقامی سٹیل مل کے محنت کشوں نے گورنر ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کیا اور ان کی ہڑتال کو گیارہ دن گزر چکے ہیں۔ اس دوران ان کا کہنا تھا کہ، ہم اسٹیل محنت کش ظلم، بیروزگاری، افراط زر اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں، صدر روحانی کو خبردار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم محنت کش ہیں کوئی ٹھگ نہیں، ہم صرف اپنے حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔


مختلف فیکٹریوں کے محنت کشوں نے بھی ہفت ٹپئی شوگر مل سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر مظاہرے منعقد کئے،اس دوران محنت کشوں جاگتے رہنا، استحصال سے نفرت، محنت کش،ا ستاد، کسان اور ڈرائیور اتحادکے بینرز آویزاں کئے گئے۔

تہران میں مختلف فیکٹریوں اور ورکشاپوں کے محنت کشوں نے انقلاب سٹریٹ پر احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا جس کے دوران انہوں نے اپنی مشکلات اور گرتے ہوئے معیار زندگی کو بیان کرتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ان کے بینرز پ،’روزگار اور زندہ رہنے کا حق،اجرت میں اضافہ ہمارا مطلق حق‘ کے نعرے درج تھے۔

اسی وقت میں تہران یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس میں طالب علموں نے محنت کشوں کی جدوجہد سے اظہار یکجہتی کرنے کے لئے مظاہرہ منعقد کیا، طلبا ء کا کہنا تھا کہ، ہفت ٹپئی شوگر مل سے لے کر تہران کے مظلوم اس وقت قید خانہ میں اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم محنت کشوں کے بچے ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مزید پڑھیں:

ایران: سخت مزدور دشمن قوانین اور ریاستی جبر کے باوجود مزدور جدوجہد جاری!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*