سکھر: چیف انجنیئر سکھر بیراج کے دفتر کے سامنے ملازمین کا زبردست احتجاجی دھرنا

رپورٹ: سعید خاصخیلی

مورخہ 7 اکتوبر2020ء کو آل سندھ ایریگیشن ٹریڈ یونین فیڈریشن سندھ کی جانب سے چیف انجنیئر ایریگیشن سکھر بیراج کے دفتر کے سامنے انجنیئرخوشی محمد اس کے پروردہ ملازم عنایت چنہ اور پولیس کے خلاف زبردست احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ انجنیئر خوشی محمد کے حکم پر سندھ پولیس نے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے بے رحمانہ انداز سے ایریگیشن ورکر امتیاز ملکانی کے گھر پر دھاوا بول کران کے بیوی بچوں پر تشدد کرتے ہوئے پہلے سے الاٹ شدہ گھر سے نکال باہر کیا۔ ایسے دہشت گردانہ عمل کے خلاف پوری سندھ سے آئے ہوئے ایریگیشن ملازمین نے احتجاج کیا، اس سلسلے میں پورے سندھ کے ایریگیشن ملازمین کی قلم چھوڑ ہڑتال بھی جاری ہے۔

صوبائی صدر میاں عبدالرحیم بھارو، صوبائی جنرل سیکریٹری اقبال احمد لاڑک کی قیادت میں مرکزی عہدیدارن سرپرست اعلیٰ شعیب بلر، سینیئر نائب صدر محمد عثمان ڈاہری، محمد خان شورو، محمد صفر رڈ، اربیلو خان اجن، مومن منگریو، عنایت اللہ سومرو، محمد یعقوب وگن، وحید علی عالمانی، عرفان احمد رند، حبیب اللہ وسان، ارشاد علی پنہیار، علی بخش وگھیو، شہباز علی پھلپوٹو، یاسر اقبال لاڑک، لیاقت علی باچکانی اور محمد اسماعیل چنہ سینکڑوں ورکرز کے قافلوں کے ساتھ چیف انجنیئرایریگیشن سکھر لیف بینک کے آفس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا اور رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ امتیاز ملکانی کے ساتھ کی گئی ناجائزی کا ازالہ کیا جائے اور الاٹ شدہ گھر واپس دیا جائے۔ انجنیئرخوشی محمد، عنایت چنہ اور دیگر کے خلاف ایکشن لیا جائے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں گورنمنٹ آف سندھ سیکریٹری ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھیجے گئے، مندرجہ ذیل چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل کیا جائے اور جلد ورکرز کے مسائل حل کیے جائیں۔ بصورت دیگر 21اکتوبر 2020ء سے کموں شہید سے کراچی پریس کلب تک لانگ مارچ کیا جائے گا اس دوران کسی بھی نقصان کے ذمہ دار سیکریٹری ایریگیشن سندھ اور چیف انجنیئر لیف بنک سکھر ریجن ہونگے۔

چارٹر آف ڈیمانڈ:

• ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ سے ریٹائرڈ ملازمین کے لیے بھرتیوں میں سن کوٹا دیا جائے۔

• ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کو ہیلتھ کارڈ جاری کیا جائیں۔

• پروموشن پوسٹوں پر کام کرنے والے ملازمین کو بھی ٹائم اسکیل دیا جائے۔

• 1932ء سے اب تک لوئر گریڈ اسٹاف کی پوسٹوں کے کوئی بھی بھرتی رولز نہیں ہیں، ریکروٹمنٹ رولز جاری کیے جائیں۔

• آر بی او ڈی کے کانٹریکٹ ملازمین کو ریگیولر کیا جائے اور سیلاب کے دوران آر بی او ڈی کے بند پر کام کرنے والے سینئر کانٹریکٹ ملازمین کو ترجیح دی جائے۔

• ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ میں سرکاری پلاٹوں، لینڈ اور سرکاری کواٹررز سے غیر قانونی قبضوں سے ہٹائے جائیں۔

• کورٹ کے حکم تحت رٹائرڈ ملازمین کو دوسرے صوبوں کی طرح ریٹائرمنٹ کے دوران گروپ انشورنس دی جائے اور اس پچھلے ایک سال سے فوت ہوئے ملازمین کے انشورنس کیسز ڈیپارٹمنٹ کو بھیجے جائیں۔

• اپگریڈیشن ڈیپارٹمنٹ اور مکینیکل ڈویژن کے ایکٹو کرکے گیٹ ورک، ڈی سلٹنگاور کھدائی کا کام، بندوں کی مرمت اور ارتھ ورک کے کام مکینیکل ڈویژن سے کروائے جائیں۔ جیسا کہ اس وقت مکینیکل ڈویزن کے اندر کروڑوں کی مشینری تباہ ہو رہی ہے اور ملازمین فاقہ کشی میں مبتلا ہیں۔

• ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈپلومہ پاس آل کیٹگری ملازمین کو 20فیصد کوٹا دے کر سب انجنیئر مقرر کیے جائیں۔

• جس طرح سندھ سیکریٹریٹ ملازمین کو یوٹیلٹی الاؤنس دیا جاتا ہے اسی طرح ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے تمام ملازمین کو یوٹیلٹی الاؤنس دیے جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*