کراچی: پی ٹی یو ڈی سی کے زیر اہتمام مزدور مشاورتی کانفرنس کا انعقاد

رپورٹ: نواز فتح بلوچ

مورخہ 19 ستمبر 2021ء کو پی ٹی یو ڈی سی (PTUDC) کے زیر اہتمام مزدور تنظیموں کی مشاورتی کانفرنس، آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت سینئر مزدور رہنما، پی ایل بی سندھ کے صدر اور حبیب بینک ورکرز فرنٹ سی بی اے کے سرپرست اعلیٰ حبیب الدین جنیدی نے کی۔ جبکہ نظامت کے فرائض پی ٹی یو ڈی سی کے رہنما جنت حسین نے ادا کیے۔ کانفرنس میں 27 سے زائد مزدور تنظیموں کے رہنما اور وفد شامل تھے۔ مقررین نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی پالیسیوں اور سرمایہ دارانہ نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پالیسیوں کو لاگو کرنے والے حکمرانوں کے خلاف مشترکہ طور پر جدوجہد کرنے کی حکمت عملی واضح کی۔ اس موقع پر تمام تنظیموں پر مشتمل ایک کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کے تحت ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ اور سیمینار منعقد کیا جائے گا اور ملک بھر کے محنت کشوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی جائے گی۔

اس مشاورتی کانفرنس سے واپڈا ہائیڈرو یونین کے محبوب الرحمان، نادرا ایمپلائیز یونین کے رضا خان صواتی، پروفیسرز اینڈ لیکچراز ایسوسی ایشن سندھ کے سابق صدر پروفیسر علی مرتضیٰ، ریلوے ورکرز یونین کے چیئرمین منظور رضی، پاکستان چیمبر آف لیبر کے نفیس حیدر، پروگریسو لیبر یونین پاکستان اسٹیل کے اکبر ناریجو، جوائنٹ ایکشن کمیٹی پاکستان اسٹیل کے نویدآفتاب، پی ٹی یو ڈی سی کے رہنما اکبر میمن، پی ٹی یو ڈی سی کے سابق صدر پروفیسر ریاض حسین لنڈ بلوچ، این ٹی یو ایف سندھ کے صدر گل رحمان، ہوٹل فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ملک غلام محبوب، کراچی یونین آف جنرلسٹ کے جنرل سیکرٹری فہیم صدیقی، نیشنل لیبر کونسل کے جنرل سیکرٹری کرامت علی اور این ٹی یو ایف کے جنرل سیکرٹری ناصر منصور نے خطاب کیا۔ پی ٹی یو ڈی سی کے رہنما ایوب شر ایڈووکیٹ نے نظم سنائی جبکہ پی ٹی یو ڈی سی کے مرکزی فنانس سیکرٹری ماجد میمن نے مندرجہ ذیل مطالبات پر مبنی قرارداد پیش کی گئی، جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔

1۔  آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سمیت دیگر تمام سامراجی اداروں کی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہیں۔
2۔  پاکستان اسٹیل، ریلوے، پی آئی اے، واپڈا اور دیگر قومی اداروں کی نجکاری فوری ختم کی جائے۔
3۔  پی ایم ڈی اے (PMDA) کے مجوزہ بل کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور صحافیوں کی جد وجہد میں مکمل ساتھ دیں گے۔
4۔  تمام اداروں کے برطرف ملازمین کو بحال کیا جائے۔
5۔  حکومت کی اعلان کردہ کم از کم اجرت 25000 روپے پر فی الفور عمل درآمد کیا جائے۔
6۔  پی سی ہوٹل کے مزدوروں کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔
7۔  ٹھیکہ داری نظام ختم کیا جائے۔
8۔  کارگاہوں میں مزدروں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
9۔  نادرا سمیت تمام اداروں میں یونین سازی کا حق بحال کیا جائے۔
10۔ ای او بی آئی (EOBI) کی پنشن میں اضافہ کیا جائے۔
11۔ 16 ہزار نکالے گئے ملازمین کو بحال کیا جائے۔

پروگرام میں نیشنل ریفائنری ایمپلائیز یونین کے رہنما دلنواز خان، نیشنل بینک یونین/ارتقا سے نجم جعفری، پاکستان عوامی سنگت سے محمد یوسف، پیٹرول پمپ یونین کے مزدور رہنما جاوید شاہ، نادرا یونین کا ایک وفد جس میں سید امین زیدی، بختیار احمد، حامد محی الدین، رانا فیصل و دیگر شامل تھے، پی سی ہوٹل مرکزی یونین کے صدر عبید الرحمان، این ٹی یو ایف کے ریاض عباسی، زہرا خان ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی چیئرپرسن، مزدور رہنما گلزار خان، شاہد جعفری، افضل علی رند، سید مظہر شاہ اور ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ(RSF) اورپی ٹی یو ڈی سی کے کارکنان نے شرکت کی۔