شہداد کوٹ: حیدر بخش جتوئی کی برسی کے موقع پرکسان کانفرنس کا انعقاد

رپورٹ: ایاز چھلگری

کسانوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے مشہور کسان رہنما کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی برسی کے موقع پر مورخہ 21 مئی کو گوٹھ بھرمی شہدادکوٹ میں انقلابی ہاری جدوجہد کے طرف سے کسان کانفرنس منعقد کی گئی۔ جس کی صدارت انقلابی ہاری جدوجہد کے صوبائی صدر کامریڈ غلام اللہ سیلرو نے کی جبکہ مہمان خاص پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کے صوبائی صدر انور پنہور تھے اور دیگر مہمانوں میں کسان ر ہنما قادربخش سیلرو، کامریڈ ستار مگنھار، عبدالوہاب پندھرانی اور سکندر سیلرو، کامریڈ اعجاز بگھیو، کامریڈ حنیف مصرانی اور سعید خاصخیلی تھے۔

اپنے خطاب کے دوران رہنما ؤں نے زراعت کی تباہی اور کسانوں کی حالت زار پرروشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کے حکمران طبقہ ایک ہی وقت میں جاگیر دار بھی ہیں تو سرمایہ دار بھی ہیں۔ وہ لاکھوں ایکڑ اراضی کے مالک ہونے کے ساتھ شگرملز، کاٹن فیکٹری فیکٹریوں اور دھان کے سیلرز کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک کی زراعت تباہ ہو چکی ہے۔ جب گنا تیار ہو تا ہے و ہی ملز مالکان یکم نومبر کو شوگر ملز چلانے سے انکار کر دیتے ہیں اور دو ماہ تک ٹال مٹول کرتے رہتے ہیں تاکہ گنا سکڑ جائے اور ساتھ ہی مناسب قیمت بھی نہیں دیتے۔ جب دھان کی فصل تیار ہوتی تو دھان سیلرزاورملز دھان کی قیمتوں کو گرانے کے ساتھ مختلف غیر قانونی کٹوتیاں کرتے ہیں۔ جب کپاس تیار ہوتی ہے تو کاٹن فیکٹریز مناسب قیمتیں نہیں دیتے۔اس سال تو سندھ حکومت نے سرکاری طور پر گندم کی خریداری روک دی ہے۔جس کی وجہ سے کسانوں اور چھوٹے آبادگاروں کے لئے مارکیٹ کے بیوپاریوں نے اپنی پسند کی قیمتیں مقرر کی ہیں جس کی وجہ سے کسانوں کو پانچ ہزار روپے فی ٹن کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ رہنما ؤں نے مزید کہا کہ ملک کے اندر بڑھتی مہنگائی نے تمام محنت کش طبقہ کے ساتھ کسانوں کی بھی کمر توڑ دی ہے۔ ایک طرف زرعی اخراجات کی مہنگائی کی وجہ سے سالانہ بچت میں 70 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے اور دوسری طرف گھر کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کسان قرض اٹھانے پر مجبور ہیں۔ جب کہ جاگیرداروں اور زمینداروں کی طرف سے کسانوں کے اوپر مظالم اپنی جگہ جاری و ساری ہیں۔ اس لئے کسانوں کے حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ اس ملک میں محنت کشوں کے انقلاب سوشلسٹ انقلاب کے بغیر کسانوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اس لئے کسانوں کو بھی ملک کے تمام محنت کشوں کے ساتھ انقلابی جدوجہد کرنی پڑے گی جوکہ تمام مسائل کا حل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*