کوٹ ادو: یوم مئی کی ریلی

رپورٹ:  علی اکبر

کوٹ ادو میں یوم مئی کی مرکزی ریلی  پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین اور پیپلز لیبربیورو کے زیر اہتمام صبح نو بجے ریلوے اسٹیشن سے شروع ہوئی۔  ریلی میں الفتح  کیپکو ایمپلائز یونین ،  پیرا وٹرنری سٹاف یونین، اریگیشن پاور ایمپلائز فیڈریشن، واپڈا ہائیڈرو یونین، پنجاب ٹیچرز یونین، مزدور یونین اوجی ڈی سی، جدوجہد مزدور یونین ٹی ایم اے، مزدور انصاف یونین پارکو، ریلوے ورکرز یونین، ریڑھی بان یونین، رکشہ یونین، ہیئرڈریسرز ایسوسی ایشن، ایپکا کے سمیت سینکڑوں سیاسی و سماجی کارکنان نے شرکت کی۔ ریلی کی قیادت غضنفرعلی شاہ چیئرمین الفتح  کیپکو ایمپلائز یونین، ضلعی صدر پیپلزپارٹی انجنئیر بلال کھر، سینیٹر امجدعباس قریشی، مہر ارشاد سیال سابق ایم پی اے، نوابزادہ افتخار احمد خان، عبدالرحمن چئیرمین واپڈا ہائیڈرو یونین، حمید اختر جنرل سیکرٹری ایپکا ضلع مظفر گڑھ نے کی۔

ریلی کے شرکاء نے سرمایہ داری مردہ باد، جاگیرداری مردہ باد، سب دکھوں کا اک علاج  سوشلسٹ انقلاب کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے پریس کلب پہنچے جہاں احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ سرمایہ داری نظام بسترمرگ پرہے لیکن اسکی بدبو دارلاش نے پوری دنیا کو متعفن کردیا ہے۔   جب تک محنت کش طبقہ اکٹھے ہوکر اس لاش کی تدفین کرکے سماجی مساوات پرمبنی معاشرہ نہیں بناتا تب تک دنیا کو اس لاش کے تعفن کو جھیلنا پڑے گا۔ ہر گزرنے والا دن سرمایہ داری کی لاش کے زہریلے اثرات کو بڑھارہاہے، ہر طرف بے روزگاری، غربت، کرپشن،  دہشت گردی اور لوٹ مار کا راج ہے اور سیاستدانوں کے بے معنی تماشے عوام کی اکثریت کے دکھوں کو مزید مشتعل کررہے ہیں۔  

آج کا یوم مئی شکاگو کے شہدا کی ناصرف یاد دلاتا ہے بلکہ آج حالات  اس وقت سے بھی زیادہ مخدوش ہیں، آج پھر محنت کشوں کو ایک مضبوط تحریک کی ضرورت ہے۔  پوری دنیا کا مزدور طبقہ اس نظام کی جمہوریتوں اور آمریتوں کو جھیل چکا ہے،  اب ان کو کسی طریقہ سے بہلانا ناممکن ہے۔ اب صرف انقلاب اور صرف انقلاب ہی ان کے دکھوں کا مداوا ہے جس کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ وہ وقت قریب تر ہے جس کے لئے شکاگو کے مزدوروں سمیت آ ج تک مزدوروں نے قربانیاں دی ہیں۔ آنے والا کل صرف سوشلزم کا ہے،  محنت کشوں کو آگے بڑھ کر اس کو برپاکرنا ہے۔  

احتجاجی ریلی میں میونسپل کمیٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا۔ آخر میں مزدورایکشن کمیٹی کی تنظیم نو کرنے کا فیصلہ کیاگیا جسے تمام شرکاء نے بھرپور نعرے لگاتے ہوئے منظورکیا۔