کراچی: لیبر کانفرنس کا انعقاد

رپورٹ: PTUDC کراچی

پاکستان ٹریڈیونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کراچی کے زیراہتمام پنوراما سینٹر ورکرز ہال کراچی صدر میں لیبر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت PTUDC کے مرکزی صدر کامریڈ نذر مینگل نے کی۔ اسٹیج سیکریٹری کے فرائض کامریڈ جنت حسین نے ادا کئے اس کانفرنس میں 45 کے قریب ٹریڈ یونینز فیڈریشن اور دیگرمزدور تنظیموں کو مدعو کیا گیا تھا جس میں سے 30 تنظیموں نے شرکت کی۔ مقررین میں پیپلز لیبر بیورو سندھ کے صدرحبیب الدین جنیدی، نیشنل لیبر کونسل کے جنرل سیکریٹری کرامت علی، ڈیمو کریٹک ورکرز یونین آف اسٹیٹ بنک کے جنرل سیکریٹری لیاقت علی ساہی، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے رہنما ناصر منصور، ہوم بیسڈوومن ورکرز فیڈریشن کی رہنما کامریڈزارا اکبر، مارٹن ڈاؤ ورکرزیونین کے صدر منظوربلوچ، پاکستان ورکرزفیڈریشن بلوچستان ریجن کے چیئرمین عبدالسلام بلوچ، پیرا میڈیکل اسٹاف بلوچستان کے رہنما علی رضا منگول، پی سی ہوٹل ورکرزیونین کے جنرل سیکریٹری غلام محبوب، ریلوے ورکر یونین کے چیئرمین منظور احمد رضی، پاکستان اسٹیل ورکرز یونین کے رہنما نذیر جان، جوائنٹ ایکشن کمیٹی آف پاکستان اسٹیل کے رہنما اکبر میمن، آل پاکستان ورکرز ویلفیئر بورڈ ایمپلائز یونین CBA کے چیئر مین منتخب عالم، IUF کےعثمان، فیشر فوک فورم کے سعید بلوچ PIA اسکائی ویز یونین کے رہنما شیخ مجیب، KPT سے کامریڈ الطاف حسین، KICT سے کامریڈ نذیرعالم، ریلوے لیبریونین سے مقدرزمان، پیپلزپیرامیڈیکل اسٹاف کے مرکزی صدرامیرحسین شاہ پاکستان پیرا میڈیکل کے رہنما حق نواز سیال، لندن سے آئے ہوئے مزدوررہنما ممبر لیبر پارٹی مشتاق لاشاری، کیمونسٹ مزدور رہنما صوفی خالق، PTUDC سندھ کے صدر کامریڈ انور پنہور، PTUDC سندھ کے جنرل سیکریٹری نثار چانڈیو ایڈوکیٹ، راولپنڈی سے آئے ہوئے PTUDC کے رہنما ڈاکٹر حسیب شامل تھے۔ کانفرنس میں کراچی کے علاوہ کوئٹہ ،حب، حیدرآباد اور دادوسے محنت کشوں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

مہنگائی نجکاری بے روزگاری، تھرڈ پارٹی کنٹرکٹ/ٹھیکیداری اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان کیا۔ تمام مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ آج جس طرح محنت کشوں پرحملے ہورہے ہیں اس کا جواب مل کر ہی دیا جاسکتا ہے، ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔ پاکستان کے حکمران عالمی حکمرانوں اور مالیاتی اداروں کی پالیسیوں کو جبری طور پر مسلط کررہے ہیں۔ ان پالیسیوں کے خلاف مشترکہ طور پر لڑا جاسکتا ہے، تعلیم اورعلاج عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہورہا ہے۔ کارخانے بند ہورہے ہیں لوگ اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کی بجائے مزدوری پر بھیج رہے ہیں۔ بلوچستان ہائی کورٹ نے مزدور تنظیموں پر پابندی لگا کر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔ ہم اس کی بھر پورمذمت کرتے ہیں۔ صدارتی تقریر میں کامریڈ نذر مینگل نے تمام شرکا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس کانفرنس کے بعد ہم دیگر صوبوں اور کشمیر میں لیبر کانفرنسز کرنے کے بعد ایک مرکزی کانفرنس کا انعقاد کریں گے۔ جس میں ملک بھر سے محنت کشوں کے رہنماؤ ں کو بلا کر مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ مزدور رہنما فقیربلوچ نے انقلابی نظم سنا کر حاضرین کا جوش بڑھایا۔

آخر میں PTUDC کے رہنما کامریڈ ماجد میمن نے تمام شرکا کی مشاورت سے قراردادیں پیش کیں۔ جنہیں متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔

قراردادیں
1) تمام قومی اداروں کی نجکاری ختم کرکے ان اداروں کو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے۔
2) تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ/ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کیا جائے۔
3) تمام ڈیلی ویجیز اورکنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے۔
4) پاکستان اسٹیل کے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات ادا کئے جائیں۔
5) تمام محنت کشوں کی اجرتوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔
6) محنت کشوں کے حقیقی نمائندوں کامریڈ علی وزیر اور محسن داوڑ پر قائم جھوٹے مقدمات ختم کرکے ان کو فوری رہا کیا جائے۔
7) تمام گمشدہ شہریوں کو باز یاب کیا جائے۔
8) بلوچستان ہائی کورٹ کے ماورائے آئین و قانون ٹریڈ یونین پر پابندی کو مستر دکرتے ہیں۔
9) تمام اداروں میں یونین سازی کا حق دیا جائے۔
10) PCہوٹل کے محنت کشوں کے تمام مطالبات پورے کرکے ان کو نوکری پر بحال کیا جائے۔
11) تعلیم اور صحت کا بجٹ دفاعی بجٹ کے برابر کیا جائے۔
12) پورٹ قاسم ڈاک ورکرزکے مطالبات تسلیم کیئے جائیں۔
13) اظہار رائے پرغیراعلانیہ پابندی ختم کی جائے۔
14) اسٹوڈنٹس یونین کو بحال کیا جائے۔
15) فشرمینزکو آپریٹیوسوسائٹی سے نکالے گئے 335 ملازمین کو بحال کیا جائے۔
16) پاکستان کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں پبلک،پرائیوٹ پارٹنر شپ کا خاتمہ کرکے ان کو وزارت صحت کے ماتحت رکھا جائے۔
17) تمام محنت کشوں کی یونینز کو اجتماعی مفادات کے تحت کسی ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے عملی جدوجہد کا آغاز کیا جائے۔
18) حکمران جو محنت کشوں کو باٹنے کیلئے قانونی و ادارتی ڈھانچے بناتے ہیں، ہم انہیں مسترد کرتے ہیں۔
19) صنعت / سیکٹرمیں صرف ایک یونین بنانے کا عمل شروع کیا جائے۔
20) ہم PIAکی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور PIA میں ائیرمارشل کی سربراہی میں جو اپنے ساتھ فضائیہ کے افسران لائے ہیں انہوں نے نجکاری کی طرف قدم بڑھا دیا ہے۔ PIA کا ہیڈ آفس اسلام آباد منتقل کی جارہا ہے۔ ہم اس سارے عمل کو مسترد کرتے ہیں۔
21) اسلام آباد ورکرزویلفیئر فنڈ کے ملازمین کو جو سہولتیں دی جارہی ہیں وہ تمام سہولتیں چارو ں صوبوں کے ملازمین کو بھی دی جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*