کراچی: کسانوں کے خلاف پولیس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہیں، مزدور رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس

رپورٹ: عباس حیدر

کراچی پریس کلب میں کل مورخہ 9 نومبر کو مختلف ٹریڈ یونینز اور سول سوسائٹی تنظیموں کی جانب سے پنجاب میں احتجاج کرنے والے کسانوں سے اظہار یکجہتی کا اظہار کرنے اورپاکستان تحریک انصاف پنجاب حکومت کی جانب سے پاکستان کسان اتحاد کےکارکنان اور حامیوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی مذمت کرنے کی غرض سے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ پریس کانفرنس میں کرامت علی، کنونیئر نیشنل لیبر کونسل، اسد اقبال بٹ، ایچ آر سی پی، حبیب الدین جنیدی، پیپلز لیبر بیورو، لیاقت ساہی، ڈیمو کریٹک یونین آف سٹیٹ بینک، مہناز رحمان، عورت فاونڈیشن، ناصر منصور، این ٹی یو ایف، فہیم صدیقی، کے یو جے، فرحت پروین، ناو کمیونیٹیز، جنت حسین، ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین، عبد الروف، ایم ایل ایف اور محبوب عالم پی سی ہوٹلز ایمپلائز یونین شریک ہوئے۔

پریس کانفرنس کا متن ذیل میں دیا جا رہا ہے۔

پہلے ہم 4 نومبر 2020 کو لاہور میں احتجاج کرنے والے کسانوں کے خلاف پولیس کی اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہیں جس میں درجنوں پُر امن کسان زخمی ہوئے، لاتعداد گرفتار ہوئے اور ایک کسان رہنما بعد میں اسپتال میں دم توڑ گیا۔ کیونکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین پر واٹر کینن کے ذریعے مہلک کیمیکل استعمال کیا گیا۔ یہ پولیس کی جانب سے یہ زور آوری کی انتہا ہے اور اس بات کی عکاسی ہے کہ کس قسم کی طرز حکمرانی اختیار کی جارہی ہے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پولیس کی جانب سے گرفتار کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور گمشدہ افراد کے بارے معلومات فراہم کی جائیں مزید یہ کہ احتجاج کرنے والےکسانوں کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں ۔

یہ ستم ظریفی کی بات ہے کہ طاقت کا استعمال ان پرامن مظاہرین کے خلاف کیا گیا جومحض گندم کی سپورٹ پرائس 2000 روپے فی 40 کلو گرام طے کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔ کوئی بھی مہذب معاشرہ یا حکومت اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ طاقت کا اس طرح سے استعمال کیا جائے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت ، جو خود آٹے ، چینی اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کی ذمہ دار ہے ، وہ بجائے اس کے کہ کسانوں کے جائز مطالبے کو تسلیم کرے اور ان سے معافی مانگے، ان پر تشدد کر رہی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ کسانوں کے معاملات حکومت کی فوری توجہ کے منتظر ہیں جبکہ حکومت اپوزیشن کے خلاف کرپشن کا راگ الاپ رہی ہے اور غریب عوام کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے کوئی عمل قدم نہیں اٹھا رہی ۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت عام شہریوں کی مشکلات پر توجہ دے، جو قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے شد ید پریشانی کا شکار ہیں۔ کسان رہنماؤں کی مشاورت سے امدادی قیمت طے کرنے کے معاملے کا حل اس کی سمت میں پہلا قدم ہونا چاہئے۔

زراعت معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور پاکستان کی 65 ملین افرادی قوت میں سے 44 فیصد اسی شعبے میں کام کرتے ہیں ، لیکن اس شعبے کو طویل عرصے سے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ہم ایک ایسی جامع زرعی پالیسی کا مطالبہ کرتے ہیں، جس میں روئی، گندم، چین اور دیگر اجناس کی امدادی قیمتوں کا تعین، آمرانہ فیصلو ں کی بجائے مشاورت سے کیا جائے۔

ہم یہاں یہ بھی کہنا چاہیں گے کہ زرعی اصلاحات کے اہم مسئلے بشمول تقسیم اراضی پر بات کی جائے اور وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں سے مطالبہ کیا جائے کہ بے زمین کسانوں اور ہاریوں میں ریاستی اراضی کی تقسیم کا فوری طور پر آغاز کیا جائے ۔

اگر 4 نومبر کے واقعات کی مناسب تفتیش نہ کی گئی اور مجرموں کو قرار واقعی سزا نہ دی گئی تو، ہم کسان اتحاد اور دیگر تنظیموں کی جانب سے دی گئی احتجاج کی دعوت میں عملی طور پر شریک ہوں گے اور ان کی بھرپور حمایت کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*