سانحہ گڈانی: اسباب، اسباق اور کام کے بہتر حالات کی جدوجہد

تحریر: قمرالزماں خاں

گڈانی شپ بریکنگ یارڈ نمبر 54 پر حادثے کی انکوائری کے لئے قائم کمیٹی کے سربراہ و وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین نے بتایا ہے کہ ’’بحری جہاز ’ایم ٹی ایس ایس‘ کے اندر 132 میٹر ک ٹن فرنس آئل، 27 میٹرک ٹن ڈیزل، 30 ہزار لیٹر لبریکینٹ، 11 ہزار میٹرک ٹن کروڈ آئل موجود تھا۔ جبکہ جہاز کو توڑنے سے قبل بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی، کسٹم، لیبر ڈیپارٹمنٹ اور دیگر اداروں کا این او سی درکار ہوتا ہے لیکن اس جہاز کو توڑنے کے لئے کوئی این او سی جاری نہیں ہوا۔ صرف این او سی کے لئے درخواست دی گئی جو ابھی پراسیس میں تھی لیکن این او سی نہ ہونے کے باوجود جہاز توڑنا متعلقہ اداروں کی غفلت اور لا پرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے‘‘۔ اس حادثے میں 28 مزدورجان کی بازی ہار گئے، جبکہ 56 زخمی ہوئے، ایک تعدا د لاپتہ مزدوروں کی بھی ہے جن کی مصدقہ تفصیلات کہیں سے میسر نہیں ہیں۔ اسکی وجہ دس کلو میٹر طویل ساحلی پٹی پر پھیلی شپ بریکنگ انڈسٹری کا بنائے گئے قوانین سے ماورا ہونا ہے۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ پورے پاکستان کی طرح یہاں بھی صرف مالکان، سرمایہ داروں اور ٹھیکے داروں سے بھتہ وصولی کے علاوہ کوئی کام سرانجام نہیں دیتا۔ مزدورمخالف ماحول، قوانین اور ٹھیکے داروں کی دھونس دھاندلی کی وجہ سے اس ’گڈانی شپ بریکنگ‘ کے سارے علاقے میں جہاں اب کم ہوکر کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد 12 ہزار رہ گئی ہے، کوئی لیبر قانون ہے اور نہ ہی کوئی ادارہ ان قوانین پر عملدآمد کیلئے کوشاں نظر آتا ہے جو قوانین کتابوں میں درج ہیں۔ اسی طرح حقیقی معنوں میں کوئی مزدوریونین بھی یہاں موجود نہیں ہے، اسکی وجہ شپ بریکنگ مافیا کی بدمعاشی، اجارہ داری اور سرکاری محکموں کی رشوت خوری ہے۔
گڈانی شپ یارڈ میں عام طور پر وہ فرسودہ اور خراب جہاز لائے جاتے ہیں جن کو دنیا کی بہترین شپ بریکنگ انڈسٹریز توڑنے سے انکار کرچکی ہوتی ہیں۔ اسکی وجہ وہ خطرناک مادے ہوتے ہیں، جن کا اخراج اورمحفوظ تلفی جہاز توڑنے سے قبل نہیں کیا گیا ہوتا۔ مگر پاکستان میں توڑنے کیلئے لائے گئے بحری جہازہر قسم کے قانون اور بندشوں سے آزاد ہیں کیوں کہ ان جہازوں میں ممنوعہ سامان اوربغیر کسٹم اور ٹیکسوں کے سمگلنگ کا دھندہ بھی کیا جاتا ہے، جس کا ایک اعتراف وفاقی وزیر رانا تنویر نے بھی اپنی انکوائری رپورٹ میں کیا ہے۔ اسی وجہ سے بغیر ’ہارڈ پرمٹ‘ (جس کے تحت زہریلی گیسوں کے مکمل اخراج کی نگرانی کی جاتی ہے اور پھر اس ویسل یا ٹیوب کے قریب کسی بھی قسم کے کام کی اجازت دی جاتی ہے) اور عمومی طور پر مختلف محکموں سے ’رسمی کاروائی‘ کے طور پرلئے جانے والے این او سی بھی حاصل کئے بغیرہی جہاز توڑنا شروع کرادیا جاتا ہے۔ 10 کلو میٹر طویل ساحلی پٹی پر پھیلی ہوئی 132، جہاز توڑنے والی ورکشاپوں میں سیفٹی نام کی چیز رو ز اوّل سے ہی موجود نہیں ہے۔
’ایم ٹی ایس ایس‘ پر بھی کسی حفاظتی تدبیر اورسیفٹی انجینئروں کی نگرانی کے بغیر ہی جہاز توڑنے کا کام شروع کردیا گیا۔ دوران کام یکم اکتوبر کو ویلڈنگ کی ایک چنگاری نے کیمیکل اور بھڑک اٹھنے والی گیسوں سے بھری ہوئی ایک ’ویسل‘ میں بہت بڑے دھماکے کے ساتھ آگ بھڑکا دی۔ یہ خوفناک دھماکہ اور آگ بھڑکنے کا واقعہ بہت سے عوامل کی بنیاد پر فوجی فرٹیلائیزر گوٹھ ماچھی میں بیس سال پہلے ہونے والے اس حادثے سے مماثلت رکھتا ہے، جس میں بھی(وقت اور پیسے بچانے کیلئے) ’ہارڈ پرمٹ‘ لئے بغیر ’ویسل‘ پر کام کرایا جارہا تھا۔ اس حادثے میں آنکھ جھپکنے سے پیشتر ہی دو مزدور جل کر کوئلہ ہوگئے تھے۔ مگر گڈانی کے واقعے کی شدت اس لحاظ سے بہت زیادہ ہے کہ یہاں مرنے والوں کی تسلیم شدہ تعداد 28 ہے اور 56 زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ جبکہ ذرائع کے مطابق 50 سے زائد مزدورابھی تک ’’لاپتہ‘‘ ہیں۔ ذرائع کے مطابق 150 فٹ بلند اور 100 فٹ چوڑے سمندری تیل بردار جہاز پر کام کرنے والے جن 70 مزدوروں نے سمندر میں چھلانگیں لگا کر جان بچائی یا ان زخمی مزدوروں کے ساتھیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ان کو جہاز سے نیچے اتارا، ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کے ہاتھ، پاؤں یا مختلف اعضاہوا میں اڑتے ہوئے لوہے کی بڑے بڑے ٹکڑوں کی زد میں آکر کٹ چکے ہیں۔ ان زخمیوں کی بقیہ زندگی کیسے گزرے گی؟ اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
اس سنگین حادثے کے کئی پہلو پاکستان کے اندر مزدوروں کی زندگی، موت اور حالات کارکی زبوں حالی کو عیاں کرتے ہیں۔ اسی ساحلی پٹی پر ناکارہ بحری جہازوں کو کاٹ کر پاکستان بھرکی 300 سے زائد لوہے کی فونڈریوں کو خام مال، شیر شاہ کے کباڑ بازار اور ملک کے دوسرے حصوں میں مشینری وغیرہ مہیا کی جاتی ہے۔ جہازوں پر دھماکے، حادثات، مزدوروں کی اموات اور زندگی بھر کے لئے معذور ہوجانے کے واقعات ’معمول‘ کی بات ہے۔ دہائیوں پرانے تیل بردارجہازوں میں مضر صحت اور بہت دفعہ انسانی ہلاکت کا باعث بننے والے خطرناک کیمیکل موجود ہوتے ہیں۔ ان کیمیکلز کو طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ’ٹھکانے لگانے‘ کا گڈانی میں کوئی رواج یا مثال موجود نہیں ہے۔ ان خطرناک کیمیائی مادوں سے مزدور کس طرح محفوظ رہیں ؟یہ معاملہ حل کرنے کی بجائے اس کو قدرت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دستانوں، فیس ماسک، یونیفارم اور حفاظتی آلات سے محروم مزدوروں کو ناکارہ جہازوں میں موجود کینسر اور سانس کی مہلک بیماریوں کا سبب بننے والے خطرناک آلودہ تیل کا سامنا کرنا پڑتاہے، ایسبیسٹوس، گلاس وول، پولی کلورینیٹڈ بائی فنائل، بلج اور ڈسٹ واٹر نامی کیمیکلزان مزدوروں کو دمے اور کینسر سمیت کئی مہلک بیماریوں میں مبتلا کر رہے ہیں۔ مزدوروں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ حادثات سے خود بچیں، کیوں کہ قریب قریب کوئی جان بچانے والا اسپتال موجود نہ ہونے کی وجہ سے حادثات سے متاثر ہونے والے مزدور عام طور پرزیادہ خون بہنے کی وجہ سے موت سے ہمکنار ہوجاتے ہیں۔ ہاتھ پیر میں فریکچر کی وجہ سے بھی مزدور کام سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اس پورے علاقے میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے صرف ایک ایمبولینس فراہم کی گئی ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے۔ سرکاری ڈسپنسری کے بارے میں مزدوروں کا کہنا ہے کہ یہاں صرف نزلہ، کھانسی وغیرہ کا علاج ہوتا ہے یا پھر معمولی زخموں کی مرہم پٹی کی جاتی ہے۔ 2009ء میں ہانگ کانگ کنونشن میں طے کردہ اصولوں کی روشنی میں ’شپ بریکنگ‘انڈسٹری کیلئے بہت سے اصول وضع کئے گئے تھے، جن میں فرسودہ بحری جہازوں کو توڑنے سے قبل ان میں سے خطرناک کیمیکل، مواد، دھاتوں اور انسانی جانوں کیلئے مضر ہر قسم کے سامان کی تلفی، شپ بریکنگ ایریا میں حفاظتی اقدامات کا تعین کیا گیا تھا جس کو ہر شپ بریکنگ یارڈ میں لاگو کیا جاناتھا، جہازوں کے توڑے جانے سے قبل ابتدائی اور پھر تفصیلی اور حتمی سروے کیا جانا تھا، جہا زوں کو بریکنگ یارڈ میں لانے سے قبل ان میں موجود ہر قسم کے مادوں، سامان اور املاک کی لسٹیں بنانی ضروری ہیں اور ان کا ایک دفعہ سرسری اور دوسری دفعہ توڑنے سے قبل تفصیلی معائنہ ضروری ہے۔ مگر گڈانی میں ایسارواج نہیں ہے۔ وجہ مزدوروں کی زندگی اور صحت کے بارے میں رویہ ہے، جس میں مزدورکو انسان کی بجائے صرف منافع کماکر دینے والا ایک اوزار سمجھا جاتا ہے، اوزار جب تک کام کرے تو ٹھیک، خراب ہوجائے تو اسکو اور اوزار سے بدل لیا جاتا ہے۔
11 ستمبر2012ء کا بلدیہ ٹاؤن سانحہ، جس میں 259 مزدورزندہ جل گئے تھے، اس سے لیکر یکم نومبر2016ء تک گڈانی میں تیل بردار بحری جہاز میں 28 مزدوروں کے زندہ جل جانے کے المناک واقعے کے درمیان درجنوں چھوٹے بڑے اسی قسم کے واقعات ملک بھر میں رونما ہوچکے ہیں۔ قوائد کے خلاف اور ناقص عمارت میں چلنے والی سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں پلاسٹک بیگ بنانے والی فیکٹری کی چھت گرنے کی وجہ سے 25 سے زائد مزدورملبے تلے دب کر ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی دوران گکھڑ منڈی میں بوائلر پھٹنے کی وجہ سے18 سے زائد مزدوروں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ یہ مزدورزندہ جل گئے تھے۔ درجنوں چھوٹے بڑے واقعات میں مزدوروں کی جلنے، گرنے یاسیفٹی کے اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے اموات پاکستان کا معمول بن چکا ہے۔ کسی بڑے واقعے کے بعد مزدوروں کی حفاظت، نگہداشت اور جان بچانے کیلئے ’حالات کار‘ بدلنے اور حفاظتی اقدامات کو لاگو کرنے کیلئے ایک معمولی سی جنبش بھی نہ ہوسکی۔ تمام حالات پوری وضاحت سے ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان میں ’انٹرنیشنل لیبر آرگنائیزیشن‘کے طے کردہ اصول بے اثر اور غیر موثر ثابت ہوئے ہیں۔
68-69ء میں پاکستان میں مزدوروں اور طلبہ کی بے نظیر انقلابی تحریک چلی تھی۔ اس تحریک کے دباؤ کے باعث بننے والا ’انڈسٹریل ریلیشنز آرڈینس 69ء‘ کسی حد تک مزدوروں کی اشک شوئی کرتا تھا، مگر بعدازاں بننے والے تمام’انڈسٹریل ریلیشنز آرڈینس‘اور اٹھارویں ترمیم کے بعدچاروں ’صوبائی انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ‘ کی دستاویزات کا جائزہ لیا جائے تو وہاں مزدورکی بجائے آجر اور مالکان کے مفادات کو مقدم جانا گیا ہے، اگر کہیں مزدور کے مفادات، حقوق کی بات کی گئی ہے تو پاکستان بھر میں ایسا کوئی مقتدر اور اثرانداز ہونے والا ادارہ موجود نہیں ہے جہاں سے مزدوراپنے ساتھ ہونے والی حق تلفی، زیادتی، استحصال یا ظلم کا تدارک کراسکیں۔ مزدوروں کیلئے علیحدہ سے قائم کی گئی عدالتوں میں عملے کی تعیناتی ایک ناقابل حل مسئلہ بن چکا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد مزدورعدالتوں اور این آئی آر سی کے مابین مزدور فٹ بال بن کر ہلکان ہورہے ہیں۔ مزدوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے اداروں اور ٹریڈ یونینز کو یہ بات تسلیم کرلینی چاہئے کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں ترجیح اقلیتی سرمایہ دار طبقے کے مالیاتی اور طبقاتی مفادات کو دی جاتی ہے نہ کہ اکثریتی محنت کش طبقے کے حقوق کو۔ اس امر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ سویت یونین کے انہدام اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والی شدید مایوسی نے مزدورتحریک کو پسپائی کی طرف دھکیل دیا۔ دوسری طرف سرمایہ داری کی گہری ہوتی زوال پزیری ہے، جس کی وجہ سے ماضی کے وہ طریقہ ہائے کار جن کی بنیاد پر اصلاح پسند ٹریڈ یونینز مزدور حقوق کی جدوجہد کیا کرتی تھیں اورکسی حد تک کامیابی کے امکانات ہوا کرتے تھے، اب وہ غیر مؤثر ہوچکے ہیں۔ 80ء کی دھائی سے ٹریڈ یونین کی ترقی معکوس سمت میں رہی ہے، کل مزدوروں کا محض ایک فیصد سے بھی کم حصہ ٹریڈ یونینوں میں منظم ہے۔ 99 فی صد مزدور، جن کا غالب حصہ نجی شعبے میں کام کررہا ہے، ہر قسم کے صنعتی حقوق، لیبر قوانین، آئی ایل او کے ضابطوں، حتیٰ کہ بنیادی انسانی حقوق کے بغیر ’صنعتی غلامی‘ کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ بڑے پیمانے پر ٹریڈ یونینز اپنا وجود، اثر و رسوخ، طاقت اور باہمی اتحاد کھونے کے بعدنظریاتی بے سمتی کی طرف گامزن ہیں۔ جس کی وجہ سے مزدوروں کی جدوجہد کے معروف طریقہ ہائے کار ترک کردیے گئے ہیں۔ بیشترٹریڈ یونین فیڈریشنز نے ’گیٹ پر جدوجہد‘ کے فیصلہ کن طریقہ کار کی بجائے فرسودہ عدالتی نظام کی طرف رخ کیا، فیڈریشنز کے بالائی ڈھانچوں میں لیبر پریکٹس کرنے والے وکلا کو اعلیٰ عہدے داری میں لایا گیا۔ اس طریقہ کار سے (سوائے وکلا کے) کوئی قابل ذکر فائدہ نہیں ہوا البتہ نقصانات کی فہرست طویل ہے، صرف چند کا ذکر یہاں کیا جارہا ہے:
1۔ مزدوروں کو عملی جدوجہد کی بجائے عدالتوں پر انحصار کرنے کی طرف راغب کیا گیا، بتدریج یونینز گیٹ پر میٹنگ تک سے کترانے لگیں۔
2۔ انتقامی کاروائیوں، چھانٹیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی و مالی استحصال کاشکار مزدوروں سے وکلا کی فیسوں کی مد میں پیسے بٹورنے کا سلسلہ چل پڑا۔ ایک ہی قسم کے استحصال کا شکار کسی صنعتی یونٹوں کے مزدوروں کا اجتماعی مقدمہ لڑنے کی بجائے (زیادہ فیس کی لالچ میں) ایک ایک مزدور کا کیس فائل کیا جانے لگا۔
3۔ عدالتی کاروائیوں کی غیر معمولی طوالت کا نتیجہ عام طور پر مزدوروں کی تھکن، مالی بربادی اور بالآخرکیس سے لاتعلقی کی شکل میں نکلتا ہے۔
4۔ مزدوروں کے عملی جدوجہد سے دورہوتے جانے سے تمام مزدوردشمن قوتیں، ادارے اور مالکان اپنے خلاف فیصلوں میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ اور دباؤ محسوس نہیں کرتے۔
5۔ سب سے زیادہ بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ عدالتی کاروائیوں کے سبب، طبقاتی قوت یا ایک طبقہ ہونے کا احساس باقی نہیں رہتا اور ’دنیا کو بدل دینے کی صلاحیت اور طاقت رکھنے والا طبقہ‘ محض عدالتی ’سائل‘ بن کر رہ جاتا ہے۔
مزدوروں کے ساتھ نظریاتی بددیانتی اور دھوکہ دہی کیلئے حکمران طبقے نے اپنے حاشیہ برداروں کے ذریعے ایک مجرمانہ ’مغالطہ‘ عام کرنے کی کوشش کی کہ ’’مزدوروں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا‘‘۔ یہ یک طرفہ طور پر نظریاتی شکست کا اعلان تھا، جس کے معنی یہ تھے کہ مزدور اب حکمران طبقے کی سیاست پر ہی اکتفا کریں گے، انکی قانون سازی کو تسلیم کیا جائیگا، سرمایہ دار حکمران ہی اب اکثریتی طبقے کے مقدر کا تعین کریں گے اور مزدوروں کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا کیوں کہ انہوں نے تو خود سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کردیا ہوا ہے۔ مزدوراشرافیہ کے ایک قابل ذکر حصے کے سیاست سے خودکو الگ کرنے کے بعدیا دوسرے لفظوں میں ’مزدورنظریات‘ سے لاتعلقی کے بعد حکمرانوں کی طرف سے پبلک سیکٹر کی نجکاری کے خلاف مؤثردلائل یا موقف اختیار کرنا ممکن نہیں رہتا۔ منڈی کی معیشت کا تقاضا ہے کہ ’نجی شعبے کی آزادانہ لوٹ کھسوٹ اور من مانیوں‘کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ رہنے دی جائے، سرکاری اداروں کی کم سے کم منافع پر مہیا کردہ مصنوعات اور خدمات، استحصالی آزاد منڈی کی معیشت کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہیں، اسلئے ’’پبلک سیکٹر‘‘ کی نجکاری کے زہر کو ’’ملک وقوم‘‘ کیلئے تریاق بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ نجکاری سے قبل سرمایہ داروں کیلئے زیادہ منافع بخش بنانے کیلئے اداروں سے مزدوروں کی چھانٹیاں کی جاتی ہیں، جن کو ’گولڈن ہینڈ شیک‘ جیسے مکارانہ عنوان دیے جاتے ہیں۔ ’غیر سیاسی‘ مزدورراہنماؤں کی ’نظریاتی چُپ سادھنے‘ کے نتیجے میں ذرائع ابلاغ پر سرمایہ داروں کے نمائندگان مزدوردشمن موقف کو اتنا بلند کرکے پیش کرتے ہیں جس سے عام لوگوں کی رائے بھی متاثر ہوتی ہے اوروہ بھی حکمرانوں کے پروپیگنڈے کو دہرانے لگتے ہیں۔
مزدوروں پر ہر طرف سے حملے جاری ہیں۔ یہ حملے اوقات کار میں بتدریج اضافوں، تیز ترین ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیت کے بڑھنے کے باوجوداس سے مطابقت رکھنے والی اجرتوں کی عد م ادائیگی، کام کی نوعیت کے برعکس دیہاڑی داری کے ذریعے کام کروا کرمزدوروں کو مستقل مزدورکی اجرت اور مراعات سے محروم کئے جانے جیسے اقدامات پر مبنی ہیں۔ دیہاڑی دار مزدور نہ تو اوقات کار میں تبدیلی کا مطالبہ کرسکتا ہے نہ اجرت بڑھانے کی بات کرسکتا ہے اور کام کے ماحول پر تو اسکے منہ سے ایک لفظ نکلنے کی صورت میں اسے باہر کا راستہ دکھا کر کسی دوسرے بے روزگار کو اس اذیت گاہ یا متقل گاہ میں لے آیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے پے درپے حادثات ہورہے ہیں اور مزدور جل کر، دب کر، کٹ کرہلاک ہورہے ہیں۔ سرمایہ داروں کیلئے بنائے گئے نظام میں پہلا اور حتمی تحفظ سرمایہ داروں کے منافعوں اور اثاثوں کا کیا جاتا ہے، اس حقیقت کا ادراک ہوجائے تو پھر اکثریتی محنت کش طبقے کی بقا کے لئے موجودہ نظام کے خاتمے کا نقطہ نظر مزدورسیاست کا بنیادی محور بن جاتا ہے۔