کسان لانگ مارچ: نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی!

تحریر: اکھڑ بینڈیو پارے

مورخہ 7مارچ کو ناسک سے شروع ہونے والے کسان لانگ مارچ کے شرکا 180کلومیٹر کا فاصلہ تپتی راہوں پر پیدل طے کرنے کے بعد 11مارچ کو ممبئی میں پہنچے۔ یہ کسان مارچ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسٹ کے کسان ونگز آل انڈیا کسان سبھا (AIKS)اور اکھل بھارتیہ کسان سبھا(ABKS)کی کال پرشروع کیا گیا تھا۔ اس مارچ میں پچاس ہزار سے زائد کسانو ں نے شرکت کی جنہوں نے ممبئی پہنچ کر مہاراشتر قانون ساز اسمبلی کے سامنے اپنے مطالبات کے حصول تک دھرنا دینے کا اعلان کیا۔ مہاراشتر حکومت کو پیش کئے گئے مطالبات میں چند ذیل میں دیے گئے ہیں؛

٭تمام قرضوں کی منسوخی کے ساتھ مفت بجلی کی فراہمی
٭ کسانوں کی زرعی پیداوار کے لئے فکس اور مستحکم قیمتیں
٭ سوامی ناتھ کمیشن (2004-2006) رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد
٭جنگلات کی اراضی پر مزارعین کو مالکانہ حقوق
٭ترقیاتی پراجیکٹس کے نام پر ریاستی حکومت کی جانب سے کسانوں کی اراضی کو ہتھیانے کے سلسلے کی بندش
٭موسمی آفات کی وجہ سے کاشت کاری کی تباہی پر کسانوں کو فی ایکڑ 40ہزار روپے معاوضہ کی ادائیگی
٭مہاراشتر ریاست کے تمام گاﺅں کو ان کی ضرورت کے مطابق پانی کی یقینی فراہمی

اس مارچ میں خواتین سمیت بزرگ افراد کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ لانگ مارچ کوبڑی سیاسی جماعتیں مثلاً کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، کانگریس اور شیو سینا کی حمایت بھی حاصل رہی۔ ڈیوندرا فیڈنویس کی مہاراشتر حکومت کے کسانوں پرظلم و ستم کی وجہ سے کسان لانگ مارچ کرنے پر مجبور ہوئے۔ ہندوستان میں سرکاری اعدادو شمار کے مطابق کسانوں کی خود کشیوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2013-14ءسے اب تک ان خودکشیوں کے سالانہ 12000کیس ریکارڈ کئے گئے ہیں جن میں زیادہ تر کیسز مہاراشتر ریاست میں ہوئے۔ مودی کے حکومت میں آنے کے بعد کسانو ں کی خودکشیوں میں 40فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے رحجان کا اہم سبب قرضوں کی شرح میں بتدریج اضافہ ہے، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے عروج کے عہد میں ہندوستان میں زرعی شعبے کی گراوٹ کی وجہ سے کسان زندہ رہنے کے لئے بھی قرضے لینے پر مجبور ہیں۔ 1960-70 ءکے زرعی انقلاب نے زرعی شعبے کو تاراج کر دیا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے کسانوں کو بہتر پیداوا ر کے نام پر مہنگے فرٹیلائزر، کھاد اور بیج فراہم کئے گئے ۔ کسان بھی اس سامراجی یلغار میں زراعت کو سرمایہ دارانہ اصولوں پر مرتب کرنے پر مجبور ہوئے جس کا خمیازہ انہیں سخت مالی پریشانی ، بنجر زمینیں اور خود کشیوں کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی پالیسیوں میں کسانوں کے مسائل کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ 2018ءکے بجٹ میں بھی کسانوں کوریلیف دینے کی جانب کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ حالانکہ بجٹ میں کسانوں کو کم از کم سپورٹ قیمت (MSP)دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اس پر ابھی تک کوئی کام نہیں کیا گیا۔ کسانوں کے لئے پنشنز ایک اور اہم مسئلہ ہے جس پر BJPکان بھی نہیں در رہی۔ حکومت کی جانب سے قرضوں میں ریلیف کے بلند دعوے ابھی تک صرف کاغذوں تک ہی محدود ہے لیکن دوسری جانب بڑے سرمایہ داروں کو قرضوں میں ریلیف سمیت کئی ایک پرکشش مراعات سے نوازاجا رہا ہے۔ ترقیاتی پراجیکٹس (بلٹ ٹرین وغیرہ) اور پرکشش سکیموں (رائیو لینکن سکیم ) کے نام پر عوام دشمن پالیسیوں پر عمل پیرا ہو تے ہوئے زرعی شعبے کو تباہ کیا جا رہا ہے۔

لانگ مارچ کے دباﺅ کی وجہ سے مہاراشتر حکومت نے 12مارچ کو کسان نمائندگان اور حکومتی افسران کے مابین ہونے والے مذاکرات میں کسانوں کے زیادہ تر مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہائی کرواتے ہوئے ان کے ساتھ تحریری معاہدہ کیا۔ جس کے بعد قیادت کی جانب سے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسے مارچ کی شاندار کامیابی قرار دیا ۔ لانگ مارچ نے کسانوں میں مشترکہ جدوجہد کا شعور بیدار کرتے ہوئے فاشٹ حکمرانوں کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے تاہم BJPسرکار کی جانب سے اس معاہدے پر عمل درآمد کرنا باقی رہتا ہے۔ اس لئے کسانوں کو جدوجہد جاری رکھنا ہو گی، ان کے مطالبات میں شامل سوامی ناتھ کمیشن کی رپورٹس پر عمل درآمد کی حقیقت بھی جان لینا چاہیے۔ یہی ایم ایس سوامی ناتھ ہندوستان مین سرمایہ دارانہ بنیادوں پر سبز انقلاب لانے کا ذمہ دار تھا جو کہ آج کسانوں کی تکالیف کی بنیاد ہے۔ زراعت پر موسم کی تبدیلیوں کے اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔

یہ وہ سحر نہیں جس کی آرزولے کر کسان نکلے تھے !
اصل مسئلہ، سرما یہ دارانہ طبع پر استوار زراعت ہے !
سرما یہ دارانہ نظام کے خاتمے تک جنگ رہے گی!
حکومت کے کھوکھلے وعدے پر کوئی اعتبار نہیں!
حتمی فتح تک جدوجہد جاری رہے گی !
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی!


 

12مارچ، کلکتہ ہندوستان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*