ہندوستان: مطالبات کی منظوری کے بعد مہاراشتر کے کسانوں کی ہڑتال ختم

رپورٹ :  مزدور مورچہ،  ہندوستان

مہاراشتر کی تاریخ میں پہلی بار اپنے مطالبات پورا نہ ہونے پر یکم جون کوپوری ریاست کے کسانوں نے ہڑتال کر دی تھی۔  آزاد ہندوستان میں یہ پہلا موقع ہے جب کسانوں نےاس طرح ہڑتال کر کے پوری ریاست کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس ہڑتال نے ریاست میں شہروں کو زرعی اجناس کی رسد کے نظام کو بھی مکمل طور پر مفلوج کر دیا تھا۔  جہاں کسانوں نے مکمل طور پر اپنی اجناس کو منڈی تک لے جانے کا بائیکاٹ کیا وہی پر انہوں نے زراعت سے منسلک مصنوعات کو لے جانے والی گاڑیوں کا پہیہ جام کیا جس کی وجہ سے سبزیاں،  پھل،  دودھ،  پولٹری سے منسلک اشیا اور گوشت لے کر ممبئی،  پونے،  ناسک اور اورنگ آباد جانے والی گاڑیوں کو کسانوں کے غصے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔  یہ ہڑتال ہر لحاظ سے کامیاب رہی جس میں پانچ لاکھ سے زائد کسانو ں نے حصہ لیا۔  صرف دو دنوں میں زرعی پیداوار مارکیٹنگ کمیٹی کے مطابق ممبئی اور پونے سمیت ریاست کےبڑے شہروں میں زرعی اجناس کی رسد میں 40 فیصد  سے زائد کمی کا سامنا رہا جس کی وجہ سے  پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں 30 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔  احتجاج کے دوران کئی ایک جگہوں پر پر تشدد واقعا ت دیکھے گئے، ناسک ضلع میں مین شاہراہ پر 500 سے زائد کسان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے چارج لاٹھی کیا جس کی وجہ سے ایک کسان دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا۔  احمد نگر میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد کسانوں نے ٹرکوں پر پتھراؤ شروع کر دیا اور ایک ٹرک کو آگ لگا دی جس کے جواب میں پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس سے کئی ایک کسان زخمی ہو گئے۔ جس کے بعد احتجاج میں زیادہ شدت آگئی اور حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے سرکار نے علاقہ میں کرفیو نافذ کر دیا۔  کئی ایک مقامات پر کسانوں نے احتجاجاً  سڑکوں پر دودھ، پیاز، آلو اور بہت سے پھل پھینک دیے۔

کسانوں نے  ا پنے 18 نکاتی مطالبات پر مبنی چارٹر آف ڈیمانڈ کے حق میں 2 اپریل سے جدوجہد کا آغاز کیا۔  ان مطالبات میں مکمل قرض کی معافی،  بجلی کے بل میں چھوٹ،  خود کشی کرنے والے کسان کے لواحقین کے لئے بینک اور ساہوکار قرضوں کی چھوٹ،  سوامیناتھن کمیشن کی سفارشات کا نفاذ، زرعی پیداوار کے لئے مناسب منافع قیمت،  دودھ کی قیمت میں فی لیٹر 50 روپے مقرر کیا جانا،  سال کی عمر کے بعد کسانوں کے لئے پنشن،   ڈرپ آب پاشی کے لئے 100 فیصد گرانٹ اور  پانی کے انتظام پر مبنی کورسز کو اسکول کے نصاب کا حصہ بنانا شامل ہیں۔  کسانوں نےاپنے نمائندگان کے ذریعے مطالبات ریاستی حکومت کو پیش کئے۔  ریاستی حکومت نے کسانوں کے مطالبات پر سرے سے ہی کوئی توجہ نہیں دی گئی جس پر کسانوں نے مجبور ہر کر ہڑتال کا اعلان کر دیا،  ہڑتال کے اعلامیہ میں واضح طور پر کہا گیا کہ ہم اس اشرافیہ کے لئے فصل نہیں اگائیں گے اور کوئی کسان بھی شہروں کو زرعی پیداوار فراہم نہیں کرے گا،  اس بار ہم صرف اپنے دیہات کی ضروریات کے لئے ہی فصل کاشت کریں گے۔ کسان رہنماؤں کے مطابق مون سون اچھا ہوتا ہے تو فصل اچھی ہوتی ہے۔  لیکن فصل اچھی ہوئی تو قیمت بھی اچھی ملنی چاہیے تاہم کسانوں کو قیمت اچھی نہیں ملتی ہے۔  سبزیوں کے معاملے میں تو کسان بری طرح پریشان ہیں اور ٹماٹر تو کوڑیوں کے دام بک رہے ہیں۔  مہاراشٹر پیاز کی پیداوار کے معاملے میں اوّل نمبر ہے۔  ناشك ضلع میں سب سے زیادہ پیاز پیدا ہوتا ہے جہاں پیاز چار روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔ ایسی صورت حال سے کسان ناراض ہیں۔

مورخہ 30  مئی کوکسان کرانتی مورچہ اور وزیر اعلیٰ دیوندرفرنویس کے مابین وزیراعلیٰ کی سرکاری رہائش میں مذاکرات ہوئے۔  مذاکرات کے دوران کسان رہنماؤں نے مکمل قرضوں کی معافی سمیت اپنے دیگر 18 مطالبات پیش کئےجس پر وزیر اعلیٰ نے ایک ماہ کا وقت مانگا۔  اس اجلاس میں  وزیر اعلیٰ اپنی کامیابیاں گنواتا رہا جس کے جواب میں کسان رہنماؤں نے مطالبات کے حوالے پر ٹھوس جواب طلب کیا،  جب کوئی جواب نہ ملا تو  کسان رہنما اٹھ کر باہر چلے گئے اور ہڑتال کا اعلان کر دیا۔  آج ہڑتال کے چوتھے روز وزیر اعلیٰ اور کسان کرانتی مورچہ کی کور کمیٹی کے مابین دوبارہ مذاکرات ہونے جس کے نتیجے میں سرکار نے کسانوں کے 70 فیصد مطالبات تسلیم کر لئے ہیں اور اعلان کیا ہے کہ 31 اکتوبر تک تمام چھوٹے کسانو ں کے مکمل قرضے معاف کر دیے جائیں گے۔  اس فیصلے کے بعد کسان کرانتی مورچہ نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا۔  کسان کرانتی موچہ کے  شانتا رام کونجیر نے کہا کہ ہم اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں لیکن اگر حکومت اپنے وعدے سے مکر گئی تو اس بار مہاراشتر کے ساتھ پورا ہندوستان بھی بند ہو گا۔  

فیصلے کے بعد چند ایک تنظیموں نے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔  ان کے خیال سے حکومت  اور کسان کرانتی مورچہ نے آپسی گٹھ بندھن سے ہڑتال ختم کروائی ہے حالانکہ کسان کرانتی مورچہ کی کور کمیٹی سمجھتی ہے کہ کسانوں کے اجتماعی مفادات کے لئے اس نے بہتر قدم اٹھایا اور کور کمیٹی کے اکثریتی ممبران نے اس فیصلہ کی تائید کی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل  ثابت ہو گا، جو کہ آگے چل کر کسانوں کی تحریک کو زیادہ مضبوط کرے گا۔