یوم مئی 2020ء: کورونا کے خلاف لڑائی کو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جنگ میں بدلو!

تحریر: مرکزی انفارمیشن بیورو

یوم مئی تاریخی طور پر شکاگو کے محنت کشوں کی 8 گھنٹے اوقا ت کار کی جدوجہد کی یاد میں منایا جاتا ہے، تاہم اس سال یوم مئی تاریخی حوالوں سے کافی اہمیت کا حامل ہے۔ 2008ء کے معاشی بحران سے دنیا ابھی تک باہر نہیں آسکی، تمام ممالک میں محنت کشوں اورعوام پر نئے معاشی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ محنت کشوں کی جانب سے طویل جدوجہد کے بعد حاصل کی گئی حاصلات کو بڑی بے دردی سے چھینا جا رہا ہے۔ اس تمام منظر نامہ میں کورونا وائرس کی وبا نے سرمایہ دارانہ نظام کے نامیاتی بحران کو مزید عیاں کیا ہے۔ ایک چھوٹے سے وائرس کے سامنے امریکہ، یورپ جیسی بڑی معیشتیں سجدہ ریز نظرآرہی ہیں۔ اس وبا نے منافع پر مبنی معاشرے کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ صحت جیسے شعبے کا مقصد بھی انسانی جانوں کو بچانے کی بجائے منافع خوری ہے۔ تمام تر ٹیکنالوجی اور جدت کے باوجود ابھی تک کورونا سے نبٹنے کے لئے کوئی کارگر ویکسین دریافت نہیں ہو سکی۔ امریکہ جیسا ملک اس وقت سرمایہ دارانہ بربریت کا عملی نمونہ پیش کر رہا ہے، دنیا کے بہترین سائنسدانوں، ٹیکنالوجی اور وبا کنٹرول کرنے کے ماہرین کے باوجود امریکہ میں روزانہ کورونا کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پوری دنیا میں وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لئے لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کئے گئے تاہم ان لاک ڈاؤن کے باعث معاشی سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ گئیں اور سرمایہ داروں نے اپنا تمام بوجھ پھر محنت کشوں کے کندھوں پر لاد دیا ہے۔

پی ٹی یو ڈی کی جانب سے شائع کردہ یوم مئی کا پوسٹر

پاکستان میں ریاستی نااہلی اور بوسیدہ سرمایہ داری کے باعث مزدوروں، کسانوں اور غریب لوگوں کی زندگیاں موت سے بھی بد تر ہو چکی ہیں آبادی کی اکثریت بھوک یا وائرس سے مرنے کی کشمکش میں مبتلا ہو چکی ہے۔ تجارتی سرگرمیوں کی بندش سے جہاں ذرائع آمدن بند ہو گئے ہیں وہیں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کی بجائے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ریاست کی جانب سے معاشی بحران کا رونا رورتے ہوئے ایک بار پھر محنت کشوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، فیکٹریوں کی بندش کی وجہ سے جبری بر طرفیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ اب کرونا وائرس کو ایک پردہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے محنت کشوں کو تیزی سے بیروزگار کیا جا رہا ہے۔ پرہیز کے طور پر ’سماجی دوری‘ کو ہڑتالوں کو کچلنے کے لئے احسن طریقے سے استعمال کرتے ہوئے پہلے سے موجود تحریکوں کو بھی وقتی کچل دیا گیا ہے۔ یونینز جو کہ آگے ہی سرمایہ دارانہ جبر کے باعث اپنا وجود برقرار رکھنے کی کوشش میں مگن ہیں ان پر نئی قد غنیں عائد کی جا رہی ہے، مالکان نے وائرس کا سہارا لیتے ہوئے چارٹر آف ڈیمانڈ پر گفت و شنید بند کر دی ہے، حالانکہ فیکٹروں میں محنت کشوں کو رخصت بہ سالم تنخواہ نہیں دی گئی۔ فیکٹریوں کو قید خانہ میں تبدیل کرتے ہوئے بیرونی عناصر کا داخلہ ممنوع کر دیا گیا ہے۔ جو محنت کشوں کے پاس روزگار باقی ہے ان کی تنخواہوں میں کمی، الاؤنسز کی بندش اور بونسز ادا نہیں کئے جا رہے۔ اِس بد ترین صورتحال میں جہاں عوام کو بے روزگاری، مہنگائی اور جان لیوا وبا کا سامنا ہے وہیں حکومتی وزرا اور اُن کے ذاتی دوستوں کی چینی اور آٹے جیسی بنیادی ضروریات کی مَد میں کی گئی کرپشن نے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے۔

یوم مئی کا لیف لیٹ

سرمائے کے تحفظ کی حکمرانوں کی پالیسی کی وجہ سے کورونا وبا کے خلاف صف اول دستوں کے طور پر لڑنے والے شعبہ صحت کے محنت کش سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے سخت اضطراب میں مبتلا ہو چکے ہیں، یہاں کے طبی عملے کو بھی میڈیا ہیرو بنا کر پیش کیاجاتا رہا۔ کہیں انہیں سلیوٹ دیے گئے تو کہیں پر پھول، مگر ان کا بنیادی مطالبہ حفاظتی سامان کی فراہمی پورا نہیں کیا گیا۔ بلکہ بلوچستان میں ان ہیروز کوآواز اٹھانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تو لاہورمیں پنجاب حکومت سے ہسپتالوں میں حفاظتی سامان کا مطالبہ کرتے ڈاکٹروں کو پولیس کے ساتھ دست و گریباں دیکھا گیا۔ حکومت کے اقدامات محض کاغذی ثابت ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں پنجاب میں طبی عملے کے اتحاد گرینڈ ہیلتھ الائنس نے اپنے مطالبات کی خاطر بھوک ہڑتال کا آغاز کیا اور محنت کشوں کی مختلف پرتیں بھی لاک ڈاؤن کے باوجود مظاہرے کرنے پر مجبور ہیں۔

محنت کش ساتھیو!

موجودہ صورتحال میں مایوس یا پریشان ہونے کی بجائے متحد ہو کر جدوجہد ہی واحد راستہ ہے۔ آج یوم مئی کا پیغام یہی ہے کہ جہاں ایک جانب حکمرانوں کی جانب سے نئے حملے کئے جا رہے ہیں ان کا جواب دینے کی اشد ضرورت ہے، ہمارا اصل دشمن یہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جس نظام کے رکھوالے زندگیوں کی بجائے منافعوں کے دفاع کے لئے سر گرم عمل ہیں۔ آؤ کہ اس درد اور کرب کو ایک انقلابی اوزار کے طور رپر استعمال کرتے ہوئے اس ظالم نظام کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا آغاز کریں۔ محنت کشوں کا اتحاد ہی موجود ہ کورونا بحران کو شکست دے سکتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں وبا کی وجہ سے یوم مئی روایتی طریقے سے منایا ممکن نہیں تاہم اس صورتحال میں موجودہ دور کی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے ’ورچیول یوم مئی ریلی‘ کا انعقا د کیا جا رہا ہے۔ ریلی سے مختلف محنت کشوں کے نمائندگان، ٹریڈ یونین رہنما، طلبہ اور ترقی پسند سیاسی کارکنان خطاب کریں گے۔ تمام ترقی پسند قوتوں سے اپیل ہے کہ اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*