یوم مئی اور محنت کش طبقے کی تحریک

تحریر: نذر مینگل

آج ہم ایک ایسے عہد میں مزدوروں کا عالمی دن شہدائے شکاگو کی یاد میں منا رہے ہیں، جہاں کورونا کی عالمی وبا نے دنیا کی تمام ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ لاکھوں انسان اس موذی وبا کا شکار ہو رہے ہیں اور دنیا کی تمام معیشتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کروڑوں مزدور بے روزگار ہوچکے ہیں اور وسیع تر لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد بھی بے روزگار ہی ہیں۔ بظاہر وبا کی وجہ سے معیشتیں زوال پذیر ہوئیں دوسری طرف سرمایہ داروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے منافعوں میں اس وبا کے دوران بے تحاشا اضافہ ہوا۔ کورونا وبا نے پوری انسانیت کے سامنے سرمایہ دارانہ نظام کی لوٹ کھسوٹ اور وحشت کو آشکار کردیا ہے۔ امریکہ، یورپ اور دیگر بڑی معیشتوں کے پاس انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے ہتھیار موجود ہیں لیکن ان کے پاس ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر اور آکسیجن کا فقدان ہے۔ ویکسین ابھی تک وسیع تر آبادی بالخصوص تیسری دنیا کے عوام کی پہنچ سے دور ہے اور آئے دن ہزاروں لوگ اسی وبا سے متاثر ہو رہے ہیں جبکہ نجی شعبہ ویکسینیشن کی آڑ میں لوٹ مار میں مصروف ہے۔

پاکستان میں تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے اصلاحاتی پروگرام کے بلند و بانگ دعوے کیے تھے۔ لیکن مسند اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد اپنے تمام تر دعوؤں کے برعکس، آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے ڈھیر ہوگئی۔ ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر تعمیر کرنے کے تمام تر وعدے ہوا میں اڑ گئے۔ حکمران اشرافیہ، وزرا اور مشیر سب بدعنوانی اور لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ آئے دن چینی اور آٹا مافیہ کے اسکینڈل سامنے آرہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے مزدور دشمن شرائط کو لاگو کرتے ہوئے تمام تر بچے کچھے قومی اداروں کی نجکاری کو دسمبر تک مکمل کرنے کے لیے اقدامات کو تیز کیا جارہا ہے۔ بعض اداروں کو مکمل طور پر ختم کر رہے ہیں۔ ملازمین کے پنشن کو بھی ختم کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ ڈاؤن سائزنگ کے نام پر بڑے پیمانے پر محنت کشوں کو ملازمتوں سے برطرف کیا جارہا ہے۔ ہر سطح پر کنٹریکٹ ملازمت کو متعارف کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب مہنگائی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ ٹریڈ یونین سرگرمیوں پر قدغنیں لگائی جارہی ہیں۔ عدالتوں سے ملازمین کو ریلیف حاصل کرنے کے راستے بھی بند کیے جارہے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر میں مزدوروں کو کسی طرح کی سوشل سیکیورٹی حاصل نہیں ہے۔ فیکٹریوں میں مزدوروں سے 12گھنٹے سے زائد کام لیا جاتا ہے، جبکہ ان کی اجرتیں متعین کردہ کم سے کم اجرت سے بھی قلیل ہیں۔ سالانہ بجٹ میں عوام اور ملازمین کے کوئی مالی پیکج نہیں دیا جاتا جبکہ سرمایہ داروں اور استحصالی قوتوں کو خوب نوازا جاتا ہے۔ کورونا وبا کی حالیہ لہر زیادہ مہلک ثابت ہورہی ہے اور حکمران مفت ویکسینیشن کی بجائے لاک ڈاؤن پر تکیہ کر رہے ہیں جس سے بے روزگاری اور معاشی بربادی کا ایک اور دور آئے گا۔

دوسری طرف محنت کشوں میں حکمرانوں کی ظالمانہ مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف ایک شدید غم و غصہ بھی موجود ہے۔ اکتوبر 2020ء اسلام آباد میں ہونے والا ملازمین کا احتجاجی دھرنا اور 10فروری 2021ء کا دھرنا اسی غم و غصے کا واضح اظہار تھا جس میں ملازمین حکومتی پالیسیوں نجکاری، ڈاؤن سائزنگ، ٹھیکیداری نظام وغیرہ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ تمام تر لاٹھی چارج، شیلنگ اور گرفتاریوں کے باوجود حکومت کو ملازمین کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور 25فیصد عبوری الاؤنس کا اعلان کیا گیا۔ اسی طرح بلوچستان میں گرینڈ الائنس نے 29مارچ کو 19نکاتی ایجنڈے پر مبنی چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لیے ہاکی چوک پر 12دنوں تک دھرنا دیا۔ عدالتی مداخلت کی وجہ سے دھرنا مؤخر کیا گیا لیکن اس کے باوجود ملازمین کا یہ دھرنا انتہائی جراتمندانہ اقدام تھا۔ گرینڈ الائنس کی قیادت اور ملازمین اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ ہم دوبارہ احتجاج اور تحریک کی طرف جائیں گے اور اپنے مطالبات سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

آنے والا وقت اس سے بھی زیادہ بھیانک اور خوفناک صورت حال اختیار کرسکتی ہے۔ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام عالمی سطح پر تیز سے گل سڑ رہا ہے جس کے مضمرات پوری انسانی سماج کو بُری طرح متاثر کر رہی ہے۔ ایسے میں ان تمام وحشتوں اور بربادیوں کو ختم کرنے کی تمام تر ذمہ داری محنت کش طبقے کی تحریک پر آن پڑتی ہے کیونکہ تمام تر طاقت محنت کشوں کے ہاتھوں میں ہے۔ انہیں صرف اپنی اس طاقت کا احساس کرنے کی ضرورت ہے اور بلا تفریق رنگ، نسل، مذہب اور قوم کے طبقاتی بنیادوں پر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ نجکاری، مہنگائی، بے روزگاری اور آئی ایم ایف کی ظالمانہ شرائط کے خلاف ایک مشترکہ لڑائی لڑنی پڑے گی اور اس لڑائی کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے اس فرسودہ سرمایہ دارانہ منڈی کے نظام کو اکھاڑ پھینک کر طبقات سے پاک معاشرے کے جدوجہد کرنی پڑے گی۔ یہی محنت کش طبقے کی نجات اور شکاگو کے شہیدوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا واحد راستہ ہے۔