یوم مئی: ایک کا زخم، سب کا زخم

تحریر:  لال خان

ہرسال یوم مئی ان شہید امریکی محنت کشوں کی یاد میں منایاجاتا ہے جنہیں یکم مئی 1886ء  میں امریکہ کے شہرشکاگومیں پولیس نے وحشیانہ فائرنگ کرکے قتل کردیاتھا۔  یہ مزدورسفید جھنڈے تھامے یومیہ آٹھ گھنٹے کے اوقات کارکامطالبہ کررہے تھے۔  جب وہ’ہے مارکیٹ‘پہنچے تو پولیس نے ان پرفائرنگ کردی اورسفیدپرچم ان مزدوروں کے خون سے سرخ ہوگئے۔  تاہم اس دن کو مزدوروں کے عالمی دن کے طورپرمنانے کافیصلہ جولائی 1889ء میں پیرس میں دوسری انٹرنیشنل کی تاسیسی کانگریس کے موقع پرعظیم مارکسی استاد فریڈرک اینگلزکی قیادت میں لیاگیا۔  دوسری انٹرنیشنل کی کانگریس نے فیصلہ کیاکہ یہ دن پرولتاری بین الاقوامیت کی ایک علامت بنے گا۔  یوم مئی وہ واحد تہوارہے جورنگ، نسل، مذہب، زبان، قوم، خطے اورعلاقے کے تعصبات کوچیرتے ہوئے سماج کوطبقاتی جدوجہدکی بنیادپریکجا کرتا ہے۔ اس دن کوکرہ ارض کے کونے کونے میں محنت کش طبقات مناتے ہیں۔

یوم مئی 2017ء ایک ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب پوری دنیا میں شدیدعدم استحکام، انتشار اور خونی جنگیں ہورہی ہیں۔ 2008ء کے مالیاتی زوال کے نتیجے میں جنم لینے والاسرمایہ داری کا بحران بحالی کانام نہیں لے رہا۔  اس بحران کے نتیجے میں پورے سیارے میں محنت کشوں پرتابڑتوڑحملے ہو رہے ہیں۔  اگر معیشت میں ریاستی مداخلت کاسرمایہ داری کا کینشین ماڈل ناکامی سے دوچار ہواہے توآزاد منڈی کی نیولبرل معیشت اس سے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ اس نیولبرل نسخے کو سترکی دہائی میں ناکام ہونے والے بعد ازجنگ کے کینشین معاشی ماڈل کے نعم البدل کے طورپرپیش کیاگیا۔  یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس ٹریکل ڈاؤن ماڈل سے بلند شرح نمو، سرمایہ کاری، زیادہ پیداواریت اورامیروں سے غریبوں کی طرف دولت کابہاؤہوگا لیکن ان میں سے ایک بھی کام نہیں ہوا۔

ڈی ریگولیشن، نجکاری، ری سٹرکچرنگ، ڈاؤ ن سائزنگ اورلبرلائزیشن کی پالیسیوں نے پوری دنیا میں محنت کشوں پرقہر نازل کردیا۔  امریکی معیشت دان جیمز مونٹیر اور فلپ پلکنگٹن کے مطابق، ’’ستر کی دہائی میں ابھرنے والے نظام کی معاشی پالیسیوں کی چاراہم خصوصیات تھیں:مکمل روزگارکاخاتمہ اوراس کی جگہ افراط زرکاتعین کرنا، تجارت، سرمایہ اورلوگوں کے بہاؤکی گلوبلائزیشن میں اضافہ، دوبارہ سرمایہ کاری اورنموکی بجائے شیئرہولڈرزکے منافعوں کو ترجیح دینااورٹریڈ یونین اورمزدوروں کی تنظیموں کو کچلنا۔‘‘

سرمایہ دارانہ معاشیات پرمبنی تمام حکومتیں ان پالیسیوں پرعمل پیراہیں جنہیں آئی ایم ایف جیسے سامراجی مالیاتی ادارے پاکستان جیسے ملکوں پرسخت ترین شرائط کے ساتھ لاگوکرتے ہیں۔ سیاسی افق پرحاوی تمام سیاسی پارٹیاں اورقیادتیں سرمایہ داری کے آگے سربسجود ہیں، جو کہ محکوم طبقات پرمعاشی حملے کررہی ہیں اور ساتھ ہی یہ یونینوں اورمنظم مزدوروں کو کچل رہی ہیں۔ پچھلی چار دہائیوں کی اسی سیاست اورٹریڈ یونین اوربائیں بازو کی قیادت کی مصالحانہ پالیسیوں کی وجہ سے ہی آج یونینوں میں منظم مزدوروں کی تعدادملکی تاریخ کی سب سے نچلی سطح یعنی ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ تضادیہ ہے کہ عالمی سطح پرسرمایہ داری میں کسی طرح کی صحت مند نمواورسماجی ترقی کے آثارنظرنہیں آرہے۔ سامراجی آقاؤ ں کے اعلیٰ کارپوریٹ اداروں کی بیٹھکوں میں مایوسی چھائی ہوئی ہے۔  آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر’ کیتھرن لاگارڈ‘ نے امریکن انٹرپرائز انسٹیٹیوٹ میں اپنی ایک تقریرمیں کہا، ’’اگرپیداواریت میں کمزورنموایک دہائی مزیدجاری رہی توعالمی سطح پرمعیارزندگی شدیدمتاثرہوگا۔ کمزورنمو مالیاتی اورسماجی استحکام کوبھی بگاڑدے گی جس سے بے انتہا نابرابری اورنجی وحکومتی قرضوں کوکم کرنامزید مشکل ہوجائے گا۔ آرام سے بیٹھنا اورمصنوعی ذہانت یا دوسری ٹیکنالوجی کے ذریعے پیداواریت کو بڑھانے کے لیے انتظارکرنا کوئی حل نہیں ہے۔‘‘

سب سے بڑی سرمایہ دارانہ معیشت ’امریکہ‘ میں سماجی نابرابری اوراستحصال پچھلی چار دہائیوں سے مسلسل بڑھ رہاہے۔ 1950ء سے 1980ء کے دوران آبادی کے نچلے 90 فیصد کا امریکی آمدنی میں حصہ 66 فیصد کے آس پاس رہا۔ 1961ء سے 1969ء کے دوران سرمایہ دارانہ معاشی عروج کے سالوں میں ان 90 فیصدامریکیوں کا آمدنی میں حصہ 67 فیصد تھا۔ تاہم 1980ء کی دہائی میں رونلڈریگن کے دورمیں ان کاحصہ 20 فیصد تک سکڑگیا۔ گرینسپان کے 2001ء سے 2007ء کے ہاؤسنگ کے بلبلے کے وقت قومی آمدنی کے ہرایک اضافی ڈالرمیں انکا حصہ دوسینٹ تھاجبکہ باقی امیرترین 10 فیصد کے حصے میں آئے۔ دوسرے ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں بھی استحصال اورآمدنی میں فرق کی حالت کم و بیش اسی طرح ہے۔ سابقہ نو آبادیاتی ممالک میں نسل انسان کی اکثریت بربادی اورشدیدنابسامانی کی زندگی گزاررہے ہیں۔

اس کیفیت نے دنیا کے بیشترحصوں میں جنگوں، دہشت گردی، غربت اورخون ریزی کوجنم دیاہے۔ لیکن ہرجگہ کاپوریٹ منافعوں کی ظالمانہ دوڑمیں مزدوروں کوہی کچلاجارہاہے۔ انتشاراورغداریوں کے باوجود اس وحشیانہ نظام کے خلاف مزدوروں،نوجوانوں اورمحکوم عوام کی متواترتحریکیں ابھرتی رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی میں جدت،نام نہادانفارمیشن ٹیکنالوجی،مصنوعی ذہانت اورروبوٹکس کے باوجودمحنت کش وجودرکھتے ہیں اورجمود کے باوجود طبقاتی جدوجہداب بھی زندہ اورجاری ہے۔ اس وقت طبقاتی کشمکش دوسرے پرآشوب واقعات کے ساتھ ابھررہی ہے۔

سرمایہ دارانہ اصلاح پسندوں کوبھی نظام کے گہرے بحران اورسماج کی کوکھ سے جنم لینے والی بغاوتوں کواکثر وبیشترقبول کرنا پڑتا ہے۔ مالیاتی زوال کے چند سال بعد مشرق وسطیٰ اور وال سٹریٹ کی عوامی تحریکوں کے بارے میں 2012ء میں گارڈین نے لکھا، ’’کمیونزم صرف عوامی احتجاج کا تہوار نہیں جس میں نظام کو مفلوج کیا جاتا ہے۔ کمیونزم سب سے بڑھ کر ایک نئی طرز کی تنظیم، نظم و ضبط اور سخت محنت ہے۔  مارکس کے اہم نظریات آج پہلے سے زیادہ درست ہیں۔ ہم اپنے آپ کو اس لیے آزاد محسوس کرتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس اپنی غلامی کے اظہار کے لیے وہ زبان ہی نہیں ہے۔ آج کے موجودہ تنازعات کو بیان کرنے کے لیے ہماری اصطلاحات جیسے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ ’جمہوریت اور آزادی‘ ’انسانی حقوق‘ وغیرہ وغیرہ سب جھوٹی اصطلاحات ہیں جو ہمیں سوچنے کی بجائے حالات کے بارے میں ہماری سوچ کو دھندلا کرتی ہیں۔‘‘ 

لینن نے 1904ء میں یوم مئی کی اہمیت کے بارے میں ایک مضمون میں لکھا، ’’مزدور ساتھیو! یوم مئی آرہا ہے۔ اس دن کو پوری دنیا کے مزدور مناتے ہیں۔یہ دن‘ طبقاتی شعور سے آراستگی، ہر طرح کے جبر اور انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کے خلاف مشترکہ جدوجہد، محنت کرنے والوں کو بھوک، غربت اور محکومی سے آزادی کے لیے جدوجہد کا دن ہے۔ اس عظیم جدوجہد میں دو دنیا آمنے سامنے ہے: سرمایے کی دنیا اور محنت کی دنیا، استحصال اور غلامی کی دنیا اور بھائی چارے اور آزادی کی دنیا۔‘‘

پیرس میں انٹرنیشنل سوشلسٹ کانگریس کی جانب سے یوم مئی کو دنیا بھر کے محنت کشوں کے اتحاد کے دن کے طور پر مقرر کرنے کا مقصد مزدوروں کے حقوق اور استحصال سے آزادی کے لیے مزدوروں کو ایک واحد عالمی مزدور تحریک کے لیے متحد اور تیار کرنا ہے تاکہ انقلابی سوشلزم کی فتح ہو۔  آج کل کے جدید مواصلاتی ذرائع کی وجہ سے ایک خطے میں ہونے والی جدوجہد کو بیک وقت دنیا کے دوسرے حصوں میں دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یوم مئی اس طبقاتی جدوجہد میں سماج کو تبدیل کرنے کے لیے محنت کشوں کا تجدید عہد ہے۔ ’ایک کا زخم‘ سب کا زخم‘ محنت کشوں کی یکجہتی کی بنیادہے۔

جب سے طبقاتی سماج وجود میں آیا ہے اس وقت سے طبقاتی کشمکش اور حکمران طبقات کے استحصال، ظلم و جبر کے خلاف تحریک چلتی رہی ہے۔  کارل مارکس نے 1848ء میں کمیونسٹ مینو فیسٹو میں لکھا ، ’’آج تک کے تمام سماجوں کی تاریخ طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے۔ آزاد اور غلام، پتریشین اور پلے بین، جاگیر دارآقا اور زرعی غلام، گلڈ ماسٹر اور مزدور غرضیکہ ظالم اور مظلوم تسلسل کے ساتھ ایک دوسرے سے بر سرپیکار رہے ہیں، کبھی کھلے بندوں اور کبھی پس پردہ ہمیشہ ایک دوسرے سے لڑتے رہے اور ہر بار اس لڑائی کا انجام یہ ہوا کہ یا تو نئے سرے سے سماج کی انقلابی تعمیر ہوئی یا لڑنے والے طبقے ایک ساتھ تباہ ہوگئے۔‘‘

اب اس لڑائی کو آخر تک لڑنا ہوگا۔ انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ سائنس اور ٹیکنالوجی اس سطح تک ترقی کرچکی ہے کہ انسانی سماج سے تمام ضرورتوں اور محرومیوں کو ختم کرنے کے ذرائع پیدا ہوچکے ہیں۔ یہی سماج کمیونزم میں داخل ہوگا یعنی انسان کی حتمی آزادی جب طبقات ختم ہوجائیں گے اور انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کا خاتمہ ہوگا۔