کراچی: یوم مئی کے موقع پر گلشن معمار اور سٹیل ٹاؤن میں تقریبات کا انعقاد

مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پرگلشن معمار میں سیمینار کا انعقاد

رپورٹ: PTUDC کراچی

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کے زیر اہتمام عمر اصغر ہال، پائلرسنٹر گلشن معمار میں  مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت PTUDC کے سابق مرکزی صدر کامریڈ ریاض حسین لنڈ بلوچ نے کی۔ سیمینار میں گرد و نواح کی فیکٹریوں کے محنت کشوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ انقلابی طلبہ محاذ RSF کراچی آرگنائزرفیاض چانڈیو نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیئے۔

بحث کا آغاز کامریڈ بابر پنہور نے کیا۔ انہوں نے مزدوروں کے عالمی دن کی اہمیت اور آج کی جدو جہد کے حوالے سے گفتگو رکھی۔ اس کے بعد جے کے این ایس ایف کے مرکزی رہنما ارسلان شانی،PTUDC کے جنت حسین، عبدلواحد، احمد باجوہ، عامر ساحل جمالی، کرامت علی اور سندھ پروفیسر اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسرعلی مرتضٰی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم شکاگو کے محنت کشوں کی جدوجہد کو اس نظام کے خاتمے تک جاری رکھیں گے۔

ان شہدا کے خون کا بدلہ صرف اور صرف سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی لیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی مارکیٹ سٹیل ٹاؤن میں جلسہ عام کا انعقاد

رپورٹ: PTUDC سٹیل ملز

أل ایمپلائز ایکشن کمیٹی آف پاکستان اسٹیل ملز کی جانب سے یکم مئ 2021ء کو مزدوروں کا عالمی دن پاکستانی مارکیٹ سٹیل ٹاؤن میں شایان شان طریقے سے منایا گیا، جس میں پاکستان اسٹیل ملز اور دیگر اداروں کے محنت کشوں نے سینکڑوں کی تعداد میں شرکت کی اور شکاگو کے شہیدوں کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔

ایکشن کمیٹی سپریم کونسل کے ساتھیوں نے انتظامیہ پاکستان اسٹیل ودیگر ایجنسیوں کی رکاوٹوں اور کورونا کی بدترین صورتحال کے باوجود سینکڑوں کی تعداد میں محنت کشوں کی شرکت کو زبردست طریقے سے سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا، ایکشن کمیٹی سپریم کونسل کے ممبر و PTUDC کے کامریڈ اکبر میمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  یکم مئی 1886ء کو امریکہ کے سولہ ہزار 562 اداروں کے محنت کشوں کی جانب سے پورے ملک میں پہیہ جام ہڑتال کی کال پر لاکھوں کی تعداد میں محنت کشوں کا8 گھنٹے اوقات کار اور دیگر مسائل کے حل کے لیے سڑکوں پر امڈآئے اور جدوجہد کا آغاز کیا۔ جس پر امریکہ کی اس وقت کی جابر ریاست اور سرمایہ داروں نے مل کر مزدوروں پر بدترین تشدد کیا اور شکاگو میں سینکڑوں محنت کشوں کو شہید اورہزاروں کو زخمی کیا۔ لیکن محنت کش رکےنہیں تھمے نہیں اور لڑائی کوآگے بڑھاتے رہے، محنت کش تو قیادت کو تخت دار پر چڑھا دیا گیا، جیلوں میں ڈالا گیا، عمر قید کی سزائیں دی گئیں اور بالآخر مزدوروں کی منظم جدوجہد کے سامنے امریکی ریاست اور سرمایہ داروں کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور محنت کشوں کے مطالبات مان لیے گئے۔

ایکشن کمیٹی کے قائدین نے حال ہی میں پاکستان اسٹیل سے جبری طور پر برطرف کئے گئے 5052 ملازمین کو فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا اورملک کے واحد فولادسازی کے ادارے پاکستان اسٹیل کو بھی جلد از جلد بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے وضاحت کی کہ پاکستان اسٹیل میں موجود ملک کا سب سے بڑا آکسیجن پلاٹ کورونا کی موجودہ بدترین صورتحال میں آج بھی 15200 کیوبک میٹر فی گھنٹہ آکسیجن تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جو کہ ملک میں متوقع آکسیجن کی کمی کو پورا کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان اسٹیل آکسیجن پلانٹ ماضی میں کراچی کے تمام بڑے ہسپتالوں جناح، سول، NICVD و دیگر کو مفت آکسیجن فراہم کرتا رہا ہے۔ اب بھی یہ پلانٹ مکمل طور پر چل سکتا ہے، لیکن آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے دلال حکمرانوں کی نیت نظر نہیں آتی۔

تمام مقررین جس میں اکبر میمن، نوید آفتاب اکبر ناریجو، علی حیدر گبول اور عاصم بھٹی نے محنت کشوں کے ملک گیر اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔