کراچی میں یوم مئی کی تقاریب

رپورٹ: PTUDC کراچی

کراچی پریس کلب میں صحافی مزدور ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام یوم مئی کا عظیم الشان جلسہ

یکم مئی کو کراچی میں پارہ 42سنٹی گریڈ سے بڑھ چکا تھا لیکن محنت کشوں کا پارہ اس سے بھی زیادہ تھا۔ دن بھر کی مختلف ریلیوں اور جلسوں کے بعد شام کو کراچی پریس کلب میں محنت کشوں کا مشترکہ اجتماع قابل دید تھا،جس میں کراچی پریس کلبKUJs، اپنک، جاوید پریس یونین(جنگ) سمیت صحافیوں کی تمام تنظیمیں، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن، سٹیٹ بنک ڈیموکریٹک ورکرز یونین، نیشنل لیبر کونسل، PCہوٹل ورکرز یونین، ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن، ریلوے ورکرز یونین،پائلر،DSF، RSF، JKNSF، ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ، پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن سمیت دیگر محنت کشو ں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ پروگرام میں واحد بک سٹال جدوجہد پبلیکیشنز کی جانب سے لگایا گیا تھا جس میں انقلابی کتب کے ساتھ مزدورنامہ، پندرہ روزہ جدوجہد پرچہ اور لیف لیٹس رکھے گئے تھے،یہ سٹال حاضرین کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔

جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے ریاستی اداروں کی جانب سے میڈیا پر پابندیوں اور صحافیوں کی جبری برطرفیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج محنت کشوں کو جن حالات کا سامنا ہے، گزشتہ سالوں میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ان حالات کا تقاضا ہے کہ محنت کشوں کا ایک وسیع اتحاد تعمیر کیا جائے جو حکمرانوں کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز کرسکے۔ مقررین نے تمام مسائل کا حل مشترکہ جدوجہد کو قرار دیا۔ جلسہ کے دوران محنت کشوں کے گیت، ترانے اور تھیٹر بھی پیش کئے گئے۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض روزنامہ جنگ کے معروف صحافی خورشید عباسی تھے جبکہ مہمان خصوصی سینیٹر رضا ربانی تھے اور پروگرام کی صدارت کے فرائض مشہور قانون دان جسٹس ریٹائرڈ رشیداے رضوی تھے۔ جبکہ دیگر مقررین میں PTUDC کے مرکزی رہنما ماجد میمن، سٹیٹ بنک یونین کے جنرل سیکرٹری لیاقت علی ساہی، ریلوے ورکرز یونین کے قادر خان مندوخیل، NTUFکے ناصر منصور،HBWWF کی جنرل سیکرٹری زاہدہ خان، عوامی ورکرز پارٹی کے جنرل سیکرٹری اختر حسین، کنیز فاطمہ، پائلر کے کرامت علی، فیصل ایدھی، WDFکی آرگنائزر عابدہ علی، DSFکی نغمہ شیخ، روزنامہ جنگ یونین کے شکیل احمد، لیاری سے حبیب جان اور دیگر کئی رہنما شامل تھے، آخرمیں مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔


کورنگی اور لانڈھی انڈسٹریل ایریا میں موٹرسائیکل ریلی

یومِ مئی کے عالمی تہوار کے حوالے سے آدم جی انجینئرنگ ورکس ایمپلائز یونین(سی بی اے) کے زیر اہتمام کورنگی اور لانڈھی انڈسٹریل ایریا میں موٹر سائیکل ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں سندھ لیبر فیڈریشن کے صدر شفیق غوری، ایڈیشنل سیکرٹری شیخ مجید، آدم جی سی بی اے کے صدر نوید احمد جنرل سیکرٹری عادل خان، پیکسار کے سابق صدرارشاد عباسی،PTUDC کے مرکزی رہنما کامریڈ ماجد،RSFکراچی کے رہنما کامریڈ حاتم، ایبٹ کے سرتاج ندیم، روشن ویلفیئر کے شفقت نیازی، تھل انجینئرنگ کے عمران اختر کے علاوہ دیگر نجی فیکٹریوں کے محنت کش شریک ہوئے۔ مرتضٰی چورنگی پرمیرٹ پیکنگ آزاد لیبریونین کی ریلی بھی اس میں شامل ہو گئی۔ انڈسٹریل ایریا میں ریلی کے شرکا نے شدید نعرے بازی کی کیونکہ بیشتر انڈسٹریل مالکان نے مزدوروں کو آج کے دن بھی چھٹی نہیں دی تھی۔
ریلی کے اختتام پر شفیق غوری، شیخ مجید، آدم جی انجینئرنگ کے عہدیداران اور کامریڈ ماجد نے اپنے خطاب میں آدم جی انجینئرنگ کی ٹیم کو مبارکباد ہوئے کہا کہ کہ آج کے دن بھی محنت کشوں کو ان کا دن منانے کی اجازت نہیں، آج بھی محنت کشوں کے خون کو نچوڑا جارہا ہے اس نظام کو چلانے والے محنت کشوں کو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف متحد ہو کر سوشلزم کیلئے جدوجہد کو تیز کرنا ہوگا۔

PC کراچی ورکرزیکجہتی کمیٹی کی جانب سے مشعل بردار ریلی

پرل کا نٹی نینٹل ہوٹل PC کراچی ورکرز یکجہتی کمیٹی نے یوم مئی کے سلسلے میں گزشتہ سالوں کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے 30 اپریل کی رات کو کراچی پریس کلب تا شاہین کمپلیکس تک مشعل بردار ریلی کا انعقاد کیا۔ ریلی میں PCہوٹل کراچی کے محنت کشوں اورPTUDCسمیت کراچی بھر کی مختلف ٹریڈ یونینز، سول سوسائٹی، وکلا، اساتذہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر محنت کشوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ ریلی کے دوران شرکا مزدورحقوق اور PC کراچی کے محنت کشوں کے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے۔ ریلی کے اختتام پر جلسہ عام کی شکل اختیار کر گئی جس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ PCہوٹل کراچی سے 18سال قبل 300سے زائد یونین عہدے داروں اور محنت کشوں کو بلا جواز غیر قانونی طور پر برطرف کر دیا گیا تھا۔ آج تک ہوٹل انتظامیہ یونین کو تسلیم نہیں کر رہی اور چارٹر آف ڈیمانڈ پر کوئی گفت و شنید کرنا نہیں چاہتی۔ان سالوں میں محنت کشوں کی اجرتوں میں اضافہ بھی نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہیں قانون کے مطابق مراعات دی جا رہی ہیں۔ یونین کےعہدے داران کو جھوٹے مقدمات میں پابند سلاسل کر دیا گیا، تاہم عدالت نے انہیں باعزت بری کر دیا ہے۔ لیکن عدالتی حکم کے باوجود ان محنت کشوں کو ملازمت پر بحال نہیں کیا جا رہا۔ یکم مئی ہمیں حقوق کے لئے جدوجہد کا درس دیتا ہے لہٰذا ہماری جدوجہد PC کے برطرف محنت کشوں کی بحالی اور ان کے اجتماعی سوداکاری کے حق کی بحالی تک جاری رہے گی۔


ریلوے ورکرزیونین کے زیراہتمام جلسہ عام
ریلوے ورکرز یونین کے زیراہتمام شکاگو کے جاں نثاروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے کراچی کینٹ سٹیشن کے باہر ایک عظیم الشان جلسہ عام منعقد کیا گیا جس میں کھوکرا پار، میر پورخاص، بدین، ماتلی، حیدرآباد، کوٹری، جنگ شاہی، واشنگ لائن یارڈ، لانڈھی، کیماڑی اور کراچی سٹی سے ہزاروں محنت کشوں نے شرکت کی۔ اجلاس سے مہمان خصوصی مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ سندھ، جناب مرتضٰی وہاب مشیر اطلاعات سندھ، ریلوے ورکرز یونین کے مرکزی سرپرست قادر خان مندخیل، مرکزی رہنما میر اعظم خان بونیری، ڈویژنل چیئرمین محمد عارف مشوانی، ڈویژنل صدر محمد اقبال تنولی، محمد جنید اعوان،غلام عباس لغاری اور دیگر رہنماؤں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کا محنت کش طبقہ 1886ء سے بد تر حالات میں ہے، محنت کشوں سے 12تا 18گھنٹے کام لیا جا رہا ہے۔ عوامی اداروں کی نیلامی کی جا رہی ہے جبکہ ملک میں مہنگائی، بیروزگاری، بھوک، غربت اور جہالت کا عروج ہے۔حکمران عیش کی زندگیاں گزار رہے ہیں جبکہ وزیروں، سفیرو ں اور افسران کی فوج ظفر موج ہے۔ اس موقع پر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں 100فیصد اضافہ کیا جائے، 100فیصد کوٹے کے تحت ریلوے ملازمین کی بیواؤں اور بچوں کو ریلوے میں بھرتی کیا جائے اور اداروں کی نجکاری پالیسی کو فی الفور منسوخ کیا جائے۔


ہوم بیسڈ وومن ورکرز کے زیر اہتمام ”محنت کش عورت ریلی“

ہوم بیسڈ وومن ورکرز کے زیر اہتمام محنت کشوں کے عالمی دن کے موقع پر”محنت کش عورت ریلی”کا اہتمام کیا گیا۔ ریلی کا آغاز ریگل چوک سے ہوا۔ اس ریلی کی قیادت ایدھی فاؤنڈیشن کی صباء ایدھی اور ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی مرکزی جنرل سیکرٹری زہرا خان کررہیں تھیں۔ ریلی میں سندھ بھر سے ہزاروں کی تعداد میں گھر مزدورعورتوں کے علاوہ غیر رسمی شعبے اور فیکٹریوں میں کام کرنے والی محنت کش خواتین نے بھی شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے اپنے مطالبات کے حق میں بینرز، پلے کارڈز اور سرخ جھنڈے اٹھا رکھے تھے جو ریلی کے تمام راستے پرجوش انداز میں نعرے لگاتے رہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ محنت کش عورتوں نے کراچی میں اپنے حقوق اور شکاگو کے محنت کشوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ریلی کا اہتمام کیا۔

ریلی کے اختتام پرکراچی پریس کلب کے سامنے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ہوم بیسڈ تحریک کی بانی اور فیڈریشن کی جنرل سیکرٹری زہرا خان، ہوم بیسڈ وومن بینگل ورکرز یونین کی رہنما شکیلہ خان، یونائیٹڈ ہوم بیسڈ گارمنٹ ورکرز یونین کی جنرل سیکرٹری سائرہ فیروز اور ایدھی فاؤنڈیشن کی صبا فیصل ایدھی نے ریلی میں شامل محنت کش عورتوں کی جدوجہد کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ خواتین حقوق کی جدوجہد کا حصہ بنیں، سماج کی تبدیلی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ ریلی کے اختتام پر انقلابی گیتوں پر ٹیبلو بھی پیش کئے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*