صادق آباد: مزدور ریلی اور جلسے کا انعقاد

رپورٹ: PTUDC صادق آباد

مزدورکی کم ازکم اجرت ایک تولہ سونے کی قیمت کے برابر کی جائے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق مزدوروں کو مستقل کرتے ہوئے ٹھیکیداری نظام ختم کیا جائے۔ آزادانہ یونین سازی کے راستے میں حائل رکاوٹیں ختم کی جائیں۔ مزدور کی برطرفی کیلئے آجر کا یکطرفہ اختیار ختم کرکے سہ فریقی نظام وضع کیا جائے۔ لیبرڈیپارٹمنٹ فرسودہ ہوچکاہے تحلیل کرکے مزدوروں کو تحفظ دینے والا بااختیار ادارہ تشکیل دیا جائے۔ مزدورکی سوشل سیکورٹی اور ایمپلائیز اولڈایج بینیفٹ رجسٹریشن بذریعہ شناختی کارڈ ’نادرا‘میں کی جائے۔ ان مطالبات کااظہارپاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کے زیر اہتمام ’یوم مئی ‘ کے جلسے میں مقررین PTUDC کے مرکزی سیکریٹری جنرل قمرالزماں خاں، چیئرمین الصداقت یونین سی بی اے جے ڈی ڈبلیو 2 اعجازاحمد چھینہ، ایمپلائیز یونین سی بی اے، چیئرمین فوجی فرٹیلائیزرنواب دین لاشاری، پاکستان پیپلز پارٹی سٹی کے صدربشیر احمد سومرو، ایپکا بلدیہ صادق آباد کے صدرحاجی شمشاد، نائب صدرپراونشنل ہائی ویز یونین پنجاب رحیم یار خاں حبیب چانڈیہ، پینٹرز یونین کے صدر عباس تاج، ایکشن کمیٹی آل کنٹریکٹرزایمپلائیز یونین فاطمہ فرٹیلائیز کمپنی کے جنرل سیکریٹری جہانزیب بابر، اوپن لائین ریلوے کے عبدالرحمان، صدرپیپلزیوتھ آرگنائیزیشن جنوبی پنجاب، خاور باجوہ، فنانس سیکریٹری مزدوریونین بینگنگ فاطمہ فرٹیلائیزرکمپنی، ضلعی صدر پنجاب ٹیچرز یونین محمد خالد چوہدری، نائب صدربہاولپور ٹیچرز یونین حافظ محمد آصف ندیم، موج ستلج کے آصف ستار،مرکزی نائب صدر ٹریفک یارڈ یونین ریلوے عبدالرحمان، ڈویژنل صدراوپن لائین سٹاف ایسوسی ایشن ریلوے تحسین ارشد نے کیا۔

قبل ازیں یوم مئی کی ریلی کاآغاز باغ بہشت سے ہوا، ریلی جے ڈی ڈبلیو شوگرملزیونٹ 2، ریلائینس ملز، فاطمہ فرٹیلائیزر کمپنی اورفوجی فرٹیلائیزر کمپنی سے ہوتی ہوئی غوثیہ چوک پہنچی جہاں شہر صادق آبادکی مزدورتنظیموں نے ریلی کااستقبال کیا۔ ریلی کے شرکا نجکاری، سرمایہ داری، جاگیرداری، ٹھیکے داری، مزدوردشمن قوانین کے خلاف نعرہ بازی کررہے تھے جبکہ اپنے مطالبات کے حق میں انہوں نے بینرز اور پلے کارڈز پکڑے ہوئے تھے۔ بعدازاں ریلی اسپتال چوک،انڈرپاس ،ریلوے چوک سے ہوتی بھٹوشہید چوک پر پہنچ کر جلسہ عام میں تبدیل ہوگئی۔

جلسے کے اسٹیج سیکریٹری کے فرائض صباح مسعود نے ادا کئے۔جلسے میں مندرجہ ذیل قراردادیں منظور کرائی گئیں۔

٭پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کے زیر اہتمام یہ جلسہ شکاگو کے شہیدوں کی جدوجہد کو سرخ سلام پیش کرتا ہے۔

٭یہ جلسہ پاکستان میں مزدوروں کی تمام جدوجہد کو خراج عقید ت پیش کرتا ہے۔ لانڈھی کورنگی ،کالونی ٹیکسٹائل ملز ملتان میں شہید ہونے والے کے مزدوروں کی جدوجہدکو سرخ سلام پیش کرتا ہے۔

٭یہ جلسہ بلدیہ ٹاﺅن کراچی میں 289مزدوروں کو زندہ جلادئے جانے کے واقعات پر دلی صدمے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ اس انسانیت سوز واقعے کے ذمہ داروں کو قرارواقعی سزا دی جائے۔

٭یہ جلسہ پاکستان میں ہونے والی نج کاری کی مذمت کرتے ہوئے،اس کو فل فور روکنے کا مطالبہ کرتا ہے۔جلسہ مطالبہ کرتا ہے،پی آئی اے،واپڈا،اسٹیل ملز ،سکول،کالجز، اسپتالوں اور دیگر اداروں کی نجکاری پالیس کو واپس لیا جائے۔

٭یہ جلسہ مطالبہ کرتا ہے کہ پنجاب میں پرائمری سکولز، پی ٹی سی ایل،مسلم کمرشیل بنک، پاک سعودی فرٹیلائزرسمیت ماضی میں نجکاری کے شکار تمام اداروں کو ان کے اصلی سٹیٹس پر واپس لاتے ہوئے نجکاری منسوخ کی جائے اور نجی شعبے میں چلنے والی صنعتوں،آئی پی پیز ،ملٹی نیشنل کمپنیوں کو قومی تحویل میں لیکر کارکنوں کے جمہوری کنٹرول میں لیا جائے۔

٭یہ جلسہ مطالبہ کرتا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ 2012ءکے مطابق کسی فیکٹری کی حدود میں کام کرنے والے مزدوروں جو کہ ہمہ قسم کی ٹھیکے داری نظام، کنٹریکٹ، سالانہ، دیہاڑی داری یا عارضی ٹائٹل پر کام کرتے ہوں‘ کو مستقل قراردے کران کی تنخواہیں اور مراعات سپریم کورٹ کے فیصلے کی رو مستقل مزدوروں کے برابر کی جائیں۔

٭یہ جلسہ مزدورکی کم ازکم تنخواہ ایک تولہ سونے کی قیمت کے برابر کرنے کا مطالبہ کرتا ہے

٭یہ جلسہ بے روزگاروں کو روزگارکی فراہمی اور جب تک روزگار فراہم نہیں کیا جاتا دس ہزارروپے بے روزگاری الاﺅنس دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔

٭یہ جلسہ مطالبہ کرتا ہے کہ تمام صنعتی اداروں،فیکٹریوں اور کام کرنے والی جگہوں پر ’محفوظ ماحول‘ فراہم کیا جائے تاکہ مزدوروں کی قیمتی جانوں کا تحفظ کرتے ہوئے ،خونی حادثات کو روکا جاسکے۔

٭یہ جلسہ پاکستان کی حکومتوں کی آئی ایم ایف،ورلڈ بنک اور عالمی سامراج کی ہدائت پر مزدوردشمن پالیسیوں،لبرل لائزیشن،ری سٹرکچرنگ،چھانٹیوں،ڈاﺅن سائیزنگ،کٹوتیوں کی پالیسیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انکے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔

٭یہ جلسہ مطالبہ کرتا ہے کہ نجی تعلیم،نجی علاج معالجے ،ادویات کے نجی پیداوار کے نظام کا خاتمہ کیا جائے ،اس کی بجائے ریاست یہ ذمہ داریاں بلامعاوضہ ،ایک جیسی اور ہر کسی کولازمی طور پر فراہم کرے۔

٭یہ جلسہ مطالبہ کرتا ہے کہ فوجی فرٹیلائیزرکمپنی،فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی،جمالدین والی شوگرملز،شاریکس لیباریٹریز، داتااسٹیل ملزاور دیگر صنعتی اداروں میں قانون شکنی،مزدوردشمنی،مزدورقوانین کی خلاف ورزی کا خاتمہ کرایا جائے اور مزدوروں کو قانون کے مطابق حقوق دئے جائیں۔ یونین سازی کا حق عملی طور پر بحال کیا جائے اور مزدوروں کو اپنی قیادتوں کو چننے کا آزادانہ اور منصفانہ موقع فراہم کیا جائے۔

٭یہ جلسہ مطالبہ کرتا ہے کہ مقامی فیکٹریوں میں پہلا حق مقامی مزدورکا قراردیا جائے،اپرینٹس شپ کیلئے بھی مقامی نوجوانوں کو ترجیح دی جائے۔

٭یہ جلسہ مطالبہ کرتا ہے کہ فاطمہ فرٹیلائیزر کمپنی میں مزدوروں سے زبردستی ”استعفی “ لینے کا سلسلہ ترک کیا جائے، برطرفیوں کے ذریعے حق مانگنے والے مزدوروں کی صدا دبانے کی پالیسی قابل مذمت ہے،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فاطمہ فرٹیلائیزر کمپنی سے نکالے ہوئے مزدوروں کو بحال کرکے انکے تمام واجبات ادا کئے جائیں۔

٭یہ جلسہ ضلعی لیبر آفس کے جانبدارانہ رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کو سرمایہ داروں اور انتظامیہ کی کٹھ پتلی قراردیتا ہے۔ اسی طرح سوشل سیکورٹی اورایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹ کے اداروں کو مزدوروں کو سہولیات فراہم کرنے کی بجائے بھتہ وصول کرنے والے ادارے قراردیتے ہوئے انکی تحلیل اور متبادل موثر نظام کی تشکیل کا مطالبہ کرتا ہے۔

٭یہ جلسہ مطالبہ کرتا ہے کہ لیبر قوانین کا ازسر نو تعین کیا جائے۔ موجودہ لیبر سے متعلق عدالتوں ،این آئی آر سی اور ضلعی لیبر آفسز کے مزدورمخالف کردار کے برعکس مزدوروں کی حق رسی کرنے والے ادارے اور عدالتیں بنائی جائیں۔

٭یہ جلسہ فیکٹریوں میںمستقل نوعیت کے ملازمین کی ”ایمپلائیزیونین“ سے درخواست کرتا ہے کہ وہ فیکٹریوں میں موجودہ ہر شعبے اور ہر قسم کے مزدوروں کیلئے اپنی ممبر شپ کھول کر انکے حقوق کی جدوجہد کو بھی اپنا نصب العین قراردے۔

٭یہ جلسہ ”لازمی سروس ایکٹ“ کے ناجائز استعمال کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ یونین سازی کے حق کو غیر مشروط تسلیم کرتے ہوئے اسکے راستے سے تمام قانونی اور غیر قانونی رکاوٹیں ختم کی جائیں۔

٭ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ نظام حکومت جس میں اقلیتی طبقے کی حکمرانی ہے،’ جمہوریت‘ نہیں بلکہ دولت مندوں کے ’سرمائے کی آمریت‘ ہے۔ یہ جلسہ طبقاتی تقسیم کے شکار سماج ،اونچ نیچ ،غریب اور امیر کی تقسیم اورسرمایہ داری نظام کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے ،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ذرائع پیداوار،جاگیروں اور دولت کی مساوی تقسیم کے لئے اقتدار اکثریتی محنت کش طبقے کو منتقل کی جائے تاکہ ایک فی صد اقلیتی دولت مند طبقے کی بجائے 99فی صداکثریت یعنی محنت کش طبقے کی حکمرانی قائم ہوسکے۔

جلسے میں نوجوان حافظ عدنان نے حبیب جالب کی نظمیں سنا کر مزدوروں کو گرمایا۔ آخرمیں پاکستان ٹریڈ یونین کا آئندہ کا تنظیمی لائحہ عمل پیش کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*