صادق آباد: یوم مئی کے موقع پر شاندار ریلی اور جلسہ کا انعقاد

رپورٹ:   پی ٹی یو ڈی سی  صادق آباد

موجودہ نظام محنت کشوں کے مسائل حل کرنے سے قاصر ہے ، سوشلسٹ انقلاب ناگزیر ہے۔ آئین پاکستان میں مزدوروں کیلئے درج حقوق کبھی عملی شکل اختیار نہیں کرسکے ، عدالتیں اور ادارے طبقاتی کردار کے حامل ہیں، غریب اورامیر کیلئے علیحدہ علیحدہ ضابطے ہیں۔ مزدوروں کیلئے بنائے گئے ادارے فرسودہ ہوچکے ہیں۔ شکاگوکے مزدوروں کی قربانیوں سے دنیا بھر کے مزدوروں کے اوقات کار کم ہوئے مگر پاکستان میںآج بھی مزدور 12گھنٹے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ کم ازکم اجرت کا تعین غیر منصفانہ کیا جاتا ہے مگر اس پر بھی عمل نہیں ہوتا۔ مزدورکی کم ازکم اجرت ایک تولہ سونے کی قیمت کے برابر کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے زیراہتمام یوم مئی کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی یو ڈی سی کے مرکزی سیکریٹری جنرل قمرالزماں خاں، ڈاکٹر منیر احمد، ایمپلائیز یونین فوجی فرٹیلائیزر کمپنی( رجسٹرڈ) CBA، بیگنگ اینڈ لوڈنگ کنٹریکٹر ماچھی گوٹھ کے جنرل سیکریٹری علی نواز پٹھان، پی ڈبلیو ڈی پنجاب ورکرز یونین کے ضلعی چیئرمین حبیب چانڈیہ، مزدوریونین ایمپلائیز یونین ( رجسٹرڈ) CBA بیگنگ اینڈ لوڈنگ کنٹریکٹرفاطمہ فرٹیلائیزر کمپنی کے جنرل سیکریٹری جام علی حسن، بھٹہ مزدور یونین کے ضلعی صدر عاشق حسین، لنڈ بازار متاثرین یونین کے صدر رانا مجاہد علی، پیپلز یوتھ آرگنائیزیشن جنوبی پنجاب کے صدر خاور باجوہ، پی ٹی یو ڈی سی صادق آباد کے صدر بابر، پنٹرز یونین کے عباس تاج، پیپلز لیبر بیور صادق آباد کے صدر بشیر احمد سومرو، جمالدین والی شوگرملز یونٹ 2 کے نائب صدرطالب حسین، جمعیت علما اسلام لیبر ونگ پنجاب کے صدررانا سروراعجازنے کیا۔ مقررین نے شکاگو کے شہیدوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انکے راستے پر چلنے کا عہد کیا ۔ جلسے کا آغاز شکاگو کے شہیدوں ، سانحہ بلدیہ ٹائون کے شہدائ، کالونی ٹیکسٹائل ملز ملتان کے شہداء کی یاد میں ایک منٹ خاموش کھڑے ہوکر کیا گیا۔ قبل ازیں مزدوروں کی ریلی کا آغاز باغ فوجی فرٹیلائیزر کمپنی گیٹ نمبر 8 سے ہوا، ماچھی گوٹھ ریلوے کراسنگ پرمزدوروں کی بڑی تعدادنے ریلی کااستقبال کیا۔ 

ریلی جمال دین والی شوگرملزیونٹ نمبر 2کے گیٹ پر پہنچ کر جلسے میں بدل گئی جہاں مقررین نے شوگرملز میں مزدوروں کے زبردست استحصال کی مذمت کی، وہاں سے مزدوروں کی ریلی فوجی فرٹیلائزر گیٹ نمبر ایک پر پہنچی جہاں خطاب کرتے ہوئے مزدورراہنمائوں نے ٹھیکداری نظام، فوجی فونڈیشن انتظامیہ کے جبر کی شدید مذمت کی ۔ الصداقت ایمپلائیز یونین سی بی اے، فاطمہ فرٹیلائیز کمپنی سے مزدوریونین بیگنگ اینڈ لوڈنگ کنٹریکٹرز سی بی اے ، جبکہ ایف ایف سی چوک سے ایمپلائیز یونین سی بی اے فوجی فرٹیلائیز ر کی قیادتیں اور کارکنوں کی بڑی تعداد ریلی میں شامل ہوتی گئی۔ ریلی غوثیہ چوک صادق آباد پہنچی جہاں پی ڈبلیو ڈی ایمپلائیز یونین، واپڈا ہائیڈرویونین، لنڈا بازار ایسوسی ایشن، یونین آف جرنلسٹ ، انقلابی رکشہ یونین، اتحاد سبزی فروٹ رہڑی یونین، پیپلز یوتھ آرگنائیزیشن، سوئی گیس ایمپلائیز یونین، پیپلز لیبر بیور، ٹبی وگھاور یوتھ الائنس ، ایپکا سمیت متعدد مزدورتنظیموں کے کارکن شامل ہو ئے، ریلی میں غلہ منڈی کی اتفاق پلے دار یونین نے شرکت کی۔ ریلی اسپتال چوک پر پہنچی تو بڑی تعداد میں پیڑی مزدوراس میں شامل ہوئے، اسپتال روڈ، انڈر پاس اور ریلوے روڈ سے ہوتی ریلی ریلوے چوک پر پہنچ کر بڑے جلسے کی شکل اختیار کرگئی۔

جلسے کا آغاز شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں ایک منٹ خاموش کھڑے ہوکر کیا گیا، اسٹیج سیکریڑی کے فرائض پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے راہنما مسعودافضل کاشی نے ادا کئے۔ جنہوں نے مندرجہ ذیل قراردادیں پیش کئیں جو جلسے کے شرکاء نے متفقہ طور پر منظور کئیں۔

1۔  مزدورکی کم از کم اجرت ایک تولہ سونے کی قیمت کے برابر ادا کی جائے۔

2۔ اوقات کارہفتہ وار 35 گھنٹے کئے جائیں، تین کی بجائے چار شفٹیں کی جائیں۔

3۔ ٹھیکیداری نظام ختم کرکے مزدوروں کو مستقل کیا جائے۔

4۔ تمام مزدوروں کو علاج معالجہ، رہائش، ٹرانسپورٹ، پنشن، گریجویٹی کے حقوق دیئے جائیں۔

5۔ صادق آباد میں لیبر کالونی ، لیبر اسپتال، لیبر اسکول قائم کئے جائیں۔

6۔ نجکاری پالیسی ختم کرکے، تمام نجی صنعتوں کو قومی ملکیت میں لیکر مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے۔

7۔ ایف ایف سی ، فاطمہ فرٹیلائیزرکمپنی، جے ڈی ڈبلیو شوگرملز، یونی لیور رحیم یارخان سے نکالے گئے مزدوروں کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔

8۔ مقامی صنعتوں میں روزگار کا پہلا حق مقامی مزدوروں کا تسلیم کیا جائے۔

9۔ مشال خان کا قتل درندگی ہے جسکی اعانت ریاست نے کی، یہ جلسہ مشال خان کے بہیمانہ قتل کے ذمہ داروں کو قرارواقعی سزاکا مطالبہ کرتا ہے۔

10۔ سانحہ بلدیہ ٹائون، گڈانی شپ یارڈ، کالونی ٹیکسٹائل ملز میں قتل عام کے ذمہ داروں کو سزائیں دی جائیں۔

11۔ صادق آباد لنڈا بازار متاثرین کو معاوضہ دیا جائے، ریلوے زمین سے لنڈا بازار مکینوں کی بے دخلی کی گھناونی سازش بند کی جائے۔