اسلام آباد: تحریک تحفظ مزدور کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دینےکا اعلان

رپورٹ: PTUDC اسلام آباد

تحریک تحفظ مزدور کے رہنماؤں بابو محمد ادریس، چوہدری محمد یٰسین، ھدایت اللہ خان، محمد اکرم بندہ، محمد اعجاز، چنگیز ملک، پرویز اختر بھٹی، ضیغم شاہ، چوہدری بلال، چوہدری فاروق، شفقت وڑائچ، ملک عبادت خان، اسلام الدین، اقبال خٹک، لیاقت حیات لنگاہ ودیگر نے پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ اداروں میں مزدور دشمن قوانین لا کر نہ صرف مزدور تحریک کو کمزور کیا جارہا ہے بلکہ مزدوروں کا استحصال کیا جارہا ہے اور موجودہ صورتحال میں مزدور سخت بے چینی کا شکار ہیں۔ کافی مدت سے مزدور برادری یہ محسوس کر رہی تھی کہ دن بدن مزدور تحریک روبہ زوال ہوتی جارہی ہے اس لیے ملک کی بڑی بڑی مزدور تنظیموں نے مل کر اتفاق کیا ہے کہ ہر ادارے میں افسر شاہی مزدوروں کے ساتھ ظلم و زیادتی کر رہی ہے۔ ناروا مزدور قوانین کی موجودگی میں مزدوروں کو ملازمت کا تحفظ حاصل نہیں ہے۔ جو ادارے مزدوروں کی ملازمت کے تحفظ کیلئے بنائے گئے ہیں مثلاً NIRC، وہاں پر Employer کا راج ہے مزدور اپنی ملازمت پر بحالی کیلئے قبر تک جا پہنچتا ہے۔ لیکن اس کا مقدمہ مکمل نہیں ہوتا۔ جبکہ سیاست دانوں کے کرپشن، منی لانڈرنگ، قتل اور دیگر سنگین جرائم کے مقدمات دنوں کے اندر سماعت ہو تے ہیں اور ان کو ریلیف بھی مل جاتا ہے ٹریڈ یونینز کو بد نام کیا جارہا ہے۔ تاکہ اس پر پابندیاں لگائی جاسکیں ادارووں کی تباہی افسر شاہی نے کی۔ لیکن الزام مزدوروں پر لگایا جارہا ہے کسی ادارے کی سیل /پرچیز میں مزدروں کا دخل نہیں ہے NIRCجو مزدوروں کی داد رسی کیلئے قائم کیا گیاتھا۔ حکومتی اور Employer کی ایما پر مزدوروں کا استحصال ہوتا ہے اور سفارش و رشوت کا بازار گرم ہے مزدوروں سے زبردستی 16/16گھنٹے ڈیوٹی لی جارہی ہے مزدوروں کے ساتھ قانون کے تحت ہونے والے معاہدوں سے ڈنڈے کے زور پر انحراف کیا جارہا ہے۔

فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی یونین کے اندرونی معاملات میں ”تحریک تحفظ مزدور“ مداخلت نہیں کریگی۔ تاہم تمام اجتماعی معاملات میں بھر پور کردار ادا کریگی۔ اس تحریک میں CDA، پاکستان واپڈا، پاکستان ٹیلی ویژن، پاکستان ریڈیو براڈکاسٹنگ، یوٹیلٹی سٹورز کا رپوریشن، پاک PWD، پاکستان پوسٹ آفس، بینکنگ فیڈریشن، پاکستان پرنٹنگ پریس کارپوریشن، اے پی پی، پی آئی اے شامل ہیں۔ موجودہ حکومت سے بھی ہمارا گلہ ہے کہ اس کی طرف سے ہم نے آج تک ایک لفظ بھی مزدوروں کی بہتری کیلئے نہیں سنا۔ ورکرز ویلفئیر فنڈز اور EOBIکومرکز میں شامل کرنے کی سب حکومتیں کوشش کرتی ہیں۔ لیکن بین الصوبائی اداروں کو وزارت ہیومین ریسورس ڈویلپمنٹ کنٹرول کرتی ہے۔ جس کے انچارج وزیراعظم پاکستان ہیں۔ کوئی پالیسی بیان نظر سے نہیں گزرا۔ جس کی بنیاد پر ہم سب یہ سوچنے پر مجبور ہیں۔ کہ موجودہ حکومت کے ایجنڈے پر مزدوروں کیلئے کوئی چارٹر نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے تو مزدور برادر ی کے لئے یہ بہت بُری خبر ہے۔

ہم نے معزز وزراء کے ذریعے اپنی تکالیف وزیر اعظم پاکستان کو پہنچائی ہیں۔ جن میں کرپشن کی نشاندہی کی گئی تھی۔ لیکن جن افراد کی کرپشن کی ہم نے نشاندہی کی تھی اور جن سہولت کاروں کے ہم نے نام بتائے، انہی کو ہماری داد رسی کے اداروں پر مسلط کر دیا گیا ہے، موجودہ حکومت کرپشن کے خاتمہ کا نعرہ لگا کر بر سر اقدار آئی ہے ۔ ہمارے کئی مزدور رہنما کرپشن بے نقاب کرنے پر ملازمتوں سے بر طرف ہو گئے۔ ہماری کوئی بات نہیں سنتا۔ کہ جن کی کرپشن کے ہم نے ٹھوس ثبوت دیئے ہیں۔ کم از کم ان مقدمات کو سن لیا جائے۔ اور ہمارے مزدوروں کی بحالیاں ہو جائیں۔ پاکستان میں کوئی ایک ادارہ بھی مزدوروں کی وجہ سے نقصان میں نہیں ہے۔ بلکہ پی آئی اے ، پاکستان سٹیل، پاکستان ریلوے اور دیگر ادارے افسر شاہی کی کرپشن کی وجہ سے تباہ ہو ئے ہیں لیکن افسر شاہی نے الزامات مزدور تنظیموں پر لگا دیا ہے اور حکومت بھی افسر شاہی کی ہی باتیں مان رہی ہے جو بہت بڑی ناانصافی اور زیادتی ہے ،2005 میں ہمارے مزدور رہنماؤں کو اس بنا پر بر طرف کر دیا گیا کہ انہوں نے بنکنگ سیکٹر میں یونین بنانے کی جرأ ت کی۔ اگرچہ قانون میں بہت تحفظات ہیں لیکن NIRCجو ہر سہولت پہنچا سکتا ہے وہاں پر 2005سے ہمارے مزدور رہنما در بدر پھر رہے ہیں۔ انصاف نہیں مل رہا ہے۔ایک مزدور رہنما کو صرف اس بنا پر ادارے سے بر طرف کر دیا گیا کہ اس نے اپنی یونین کو CBA قرار دینے کیلئے RTU کو درخواست دی تھی۔یہ تمام مسائل اس لئے ہیں کہ NIRCمیں حکومتی افسر شاہی اور رشوت مافیا کا قبضہ ہے۔ وہاں پر جس شخص کو انصاف مہیا کرنے کیلئے مامور کیا جاتا ہے شاید اس سے پہلے حلف لیا جاتا ہے کہ مزدوروں کو ذلیل و خوار کرنا ہے، اور انصاف نہیں کرنا ہے۔ 2012میں انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ کا قیام عمل میں آیا۔ لیکن آج تک پاکستان میں کسی بھی حکومت نے جو تمام ٹریڈ یونینز کی آزادی کے دم بھرتے ہیں کسی نے بھی رجسٹرار ٹریڈ یونینز کی تعیناتی نہیں کی۔ عارضی بنیادوں پر تعیناتی ہوتی ہے جس سے مزدور تنظیموں کو کینسل کرایا جاتا ہے۔ وہ ایک کام افسر شاہی اور حکومت کے کہنے پر کرتا ہے جبکہ 10کام وہ رشوت لے کر کرتا ہے۔ یہ عمل آج بھی جاری ہے جو کرپشن کی مخالف حکومت کا کارنامہ ہے۔ پاکستان ILOکا رکن ملک ہے جس نے ILOکے ان کنونشنز پر دستخط کئے ہیں جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ٹریڈ یونین کی آزادی ہو گی۔ مزید دستور پاکستان کا آرٹیکل 17بھی ٹریڈ یونینز کی ضمانت فراہم کرتا ہے جبکہ عملاً سب کام ILOاور دستور پاکستان کے خلاف ہو رہا ہے۔ اس طرح جو حکومت یا ادارہ دستور پاکستان کی خلاف ورزی کرتا ہے اس پر دستور پاکستان کے آرٹیکل 6کا اطلاق ہوتا ہے۔ لیکن مزدور کی بات کون سنتا ہے بس مزدور تو پروڈکشن میں اضافہ کرنے والی مشین ہے۔

ہماری پریس کانفرنس کے مندرجات کو شکایت تصور کیا جائے اور مزدور رہنماؤں کو ملاقات کا وقت دے کر ان کی شکایات سن کر ازالہ کیا جائے۔ موجودہ حکومت Investorsکو ان کی شرائط پر پاکستان آنے کی دعوت دے رہی ہے۔ ہم Investor کو نہیں روکتے ہیں بلکہ ان کی پاکستان آنے پر ٹریڈ یونینز کی پابندی کی شرائط نہ مانی جائیں کیونکہ ٹریڈ یونین مزدور کا بنیادی حق ہے۔ تحریک تحفظِ لیبر آپ کی بھی تنظیم ہے۔ کراچی میں 31مئی کو مزدور برادری اور صحافی برادری نے مشترکہ طور پر تحریک تحفظ مزدور کے پلیٹ فارم سے احتجاج کیا ہے۔ نہ ہم کسی سیاسی جماعت کا آلہ کار ہیں اور نہ ہی سہولت کار ہیں۔ نہ کسی کی ایماء پر اور نہ ہی کسی کی مخالفت پر تحریک تحفظِ مزدور قائم کر کے احتجاج کر رہے ہیں۔ بلکہ ہم خالصتاً مزدور برادری کے پلیٹ فارم سے اپنی بات حکومت تک پہنچا رہے ہیں۔ اور حکومت کو 24فروری تک سوچنے کا موقع دیتے ہیں۔  پھر فیصلہ کرے کہ اداروں کی تباہی کے ذمہ دار کون ہیں، لیبر قوانین کی باتیں اور NIRCکی صورتحال بھی ہم سے سنے۔ اگر مقررہ تاریخ تک ہماری داد رسی نہ ہوئی تو 25 فروری 2019ء کو 11بجے دن اسلام آباد پریس کلب کے باہر مزدور احتجاجی مظاہرہ کریں گے اور بعد ازاں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*