کراچی قلم کے مزدور مشکلات کا شکار

رپورٹ: PTUDC کراچی

حال ہی میں تقریباً 2500 صحافی، اخباری کارکنان اور میڈیا ورکرز کو بے روزگار کردیا گیا۔ اخبارات، ٹیلی ویژن چینل مالکان اور حکومتی گٹھ جوڑ میں متعدد اخبارات اور چینلز کو بند کیا گیا۔ رپورٹرز، کیمرہ مینز کی چھانٹیاں عروج پر ہیں۔ روزنامہ اور ٹی وی چینل ڈان کے مالکان نے اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں چالیس فیصد تک کٹوتیاں کی ہیں۔ جنگ گروپ نے عوام اخبار اورمیگزین جنگ پشاور سمیت 7 ادارے بند کر دیے ہیں۔ ڈان گروپ نے ہیرالڈ کی اشاعت کو ختم کر دیا ہے۔ نوائے وقت نے ٹی وی چینل وقت بند کر دیا۔ جیو نے ساڑھے سات سو ملازمین کو برطرف کر دیا۔ ٹی وی چینل ایکسپریس نے نئے سٹیشن بند کر دیے ہیں۔ کراچی سے شائع ہونے والا روزنامہ انجام بند ہو گیا ہے۔ سندھی زبان میں شائع ہونے والے اخبارات اور چینلزمسلسل اپنے ملازمین کو نکال رہے ہیں جن میں کاوش اورKTN سرفہرست ہیں۔ میڈیا انڈسٹری کے ملازمین کے مسائل کے حل اور برطرفیوں کے خلاف کراچی میں ٹریڈیونینز اور صحافی تنظیموں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں آیا ہے۔ جس کے کنونئیر نیشنل لیبر کونسل کے جنرل سیکرٹری ’کرامت علی‘ ہیں۔ PTUDC اس ایکشن کمیٹی کا حصہ ہے اور میڈیاورکرز کی جدوجہد اور دیگر اداروں کے محنت کشوں کی لڑائی کو ایک لڑی میں پرونے کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔

میڈیا ورکرز کی جدوجہد گزشتہ 3ماہ سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں پہلا احتجاجی کیمپ جنگ اور جیو کے دفتر کے سامنے لگایا گیا۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے روزنامہ ڈان، بول چینل، نوائے وقت، سماء نیوزاور ایکسپریس نیوزسمیت مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے دفاتر کے سامنے لگائے گئے جبکہ مرکزی کیمپ کراچی پریس کلب پر متواتر لگا ہواہے۔ کئی اخبارات اور ٹی وی چینلز میں یونین سازی کی اجازت نہیں ہے جبکہ صحافی تنظیموں کو اس وقت متحد ہو کر حقوق کی لڑائی کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ ملازمین شدید تر مشکلات کا شکار ہیں، کئی ماہ سے تنخواہوں کا اجرا نہیں ہوا ہے۔ آنے والے دنوں میں موسم کے ساتھ ملازمین کے حقوق کی لڑائی بھی گرم جوش ہونے کے واضح امکانات موجود ہیں۔ اس کیفیت میں محنت کشوں کی منظم اورمتحد جدوجہد ہی کامیابی کا راہ ہموار کر سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*