نودولتیوں کا بجٹ

تحریر: لال خان

23 جنوری کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جانے والا ’’مِنی بجٹ‘‘ بنیادی طور پر اُس ذہنیت کی غمازی کرتا ہے جس میں انسانی محنت اور مزدور طبقے ومحنت کش عوام میں یکسر مسترد کردیا گیا ہے۔ آج کی سیاست اور معاشرے پر مسلط ذہنیت میں سرمائے اور دولت کے دھنوانوں اور سرمایہ کاروں کو ہی ہر فن مولا اور ہر چیز کا سرچشمہ سمجھا جارہاہے۔ پاکستان کی70سالہ تاریخ میں یہ پہلا بجٹ ہے جس نے رسمی یا کاغذی طور محنت اور سرمائے کی کشمکش پر مبنی اس سماج میں مکمل طور پر سرمائے کی کاسہ لیسی کردی ہے۔ وزیر خزانہ کی تقریرکے تقریباً ہر جملے میں سرمائے کے تقدس اور اسکی عظمت کو سلام پیش کیے گئے۔ موصوف وزیر نے بارہا فرمایہ کہ’’ سرمائے پر ٹیکس لگایا جانا ایک جرم ‘‘۔ اس بجٹ کی تمام تر مراعات، اسکا سارا زور اور مقصد سرمایہ دارانہ منافع خوری کو تقویت دیتا ہے۔ عمران خان نے اپنی تقاریر اور انٹرویوز میں مسلسل سرمایہ کاروں کو دولت کمانے کے لئے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی ہے۔ ترکی میں سرمایہ داروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خان صاحب نے یہ تک کہہ دیا کہ’’ہمارے ملک میں آپکو بے پناہ منافع خوری کے مواقع فراہم کیے جائینگے‘‘۔ اسی ذہنیت کے تحت اس بجٹ میں تمام مراعات سامراجی اجارہ داریوں، قومی سرمایہ داروں، درمیانے کاروباریوں، بڑے اور درمیانے زمینداروں اور سب سے بڑ ھ کر کالے دھن کے ان داتاؤں کے لئے وقف کردی گئیں ہیں۔ لیکن یہ شاید پہلا بجٹ ہوگا جس میں مزدور کی کم از کم اجرت کا کوئی ذکر تک نہیں۔ محنت کشوں کی پنشنوں، سوشل سکیورٹی کے حقوق، علاج اور ماضی میں حاصل دوسری بنیادی سہولیات کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے۔ بے زمین مزارعوں اور غریب دہقانوں کے لئے زرعی شعبے میں کیے گئے اقدامات سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس سے آڑھتیوں، جاگیرداروں اور درمیانی ملکیت کے زمینداروں کو ہی فائدہ حاصل ہوگا۔ اگر زرعی پیداوار بڑھے گی تو تب بھی ان دہقانوں اور مزارعوں کی حالت بدتر ہی رہے گی۔ اناج اگا کر بھی انکے گھروندوں سے بھوک نہیں مٹے گی۔ کپاس کی فصل پر اپنا پسینہ بہا کر بھی ان دہقانوں کے خاندان مکمل تن ڈھاپنے سے محروم ہی رہیں گے۔ اور نہ صرف حالیہ بجٹ بلکہ پوری اقتصادی پالیسی کا مقصد وہ’’موافق حالات‘‘پیدا کرناہیں جن میں سرمایہ دار یہاں سرمایہ کاری کریں۔ اب ان’’موافق اقدامات‘‘کی انتہا ہوچکی ہے۔

عمران خان اور تحریک انصاف کی مزدور دشمن ذہنیت 24جنوری کو بے نقاب ہو گئی جب انکی کابینہ نے پی آئی اے اور پاکستان پرنٹنگ کارپوریشن کے مزدوروں سے یونین سازی کا حق چھین کر لازمی سروس نافذ کرنے کا اعلان کیا، مستقل ملازمتوں واجرتوں کا خاتمہ، ٹھیکیداری نظام کے تحت مزدورں کا دیہاڑی کی بنیاد پر استعمال کرنا، یونین سازی پر پابندی اور مزدوروں کو منظم کرنے کو ایک سنگین جرم قرار دے کر ریاستی تشدد کو مزید وحشیانہ کردینے کے اقدامات اب شدت اختیار کرگئے ہیں۔ اس نیولبرل پالیسی کے معنی مزدور طبقے کے خون کا آخری قطرہ تک درندگی سے نچوڑ لینے کے مترادف ہیں۔ اس وقت جو پرانی حکومتوں کی کم از کم اجرت 15 ہزار مقرر تھی ا س میں گزارہ کرنا نیم مرگ حالات میں رہنے کے مترادف ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ نجی شعبے میں یہ کم از کم اجرت بھی مزدوروں کی بھاری اکثریت کو میسر نہیں ہے۔ عمران خان کی حکومت آنے کے بعد سرمایہ داروں نے کٹوتیاں مزید تیز کردی ہیں۔ تمام سرکاری ادارے کھل کر مالکان کی حمایت کرتے ہیں۔ لیبر کورٹز میں بھی مزدوروں کی کوئی شنوائی نہیں۔ این آئی آر سی میں مقدمات اتنے طویل ہوجاتے ہیں کہ مزدورزندگی سے محروم ہوجاتے ہیں لیکن سالہا سال انکی نوکری کی بحالی نہیں ہوتی۔ موجودہ حکومت اس بجٹ اوردیگر پالیسیوں و بیانات واقدامات سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ وہ سامراجیوں اورسرمایہ داروں کی زیادہ بڑی گماشتہ ہے اور وہ ان انتہاؤں پر جا کر مالیاتی سرمائے کے مفادات کے لئے اقدامات کرے گی جہاں سرمایہ داروں کی روایتی مسلم لیگ نواز بھی نہیں جاسکتی تھی۔

ویسے اس بجٹ نے مسلم لیگ نواز اور اپوزیشن کی دوسری پارٹیوں کو بھی شل کردیا ہے۔ ان کی تنقید پھیکی اور بے معنی محسوس ہوتی ہیں۔ اس بجٹ کے بارے میں انکے بیانات میں زور نہیں۔ کیونکہ پی ٹی آئی حکومت کے پیش کردہ اس بجٹ کے اعلانات پر تمام چیمبر آف کامرس کا دیوتا، سرمایہ داروں کے سرغنہ، سٹاک ایکسچینج کے منجھے ہوئے کھلاڑی‘ سبھی شادیانے بجا رہے ہیں۔ ہر سرمایہ دارانہ ادارہ کھل کر اب عمران خان اور پی ٹی آئی کی تعریف کررہا ہے۔ سرمایہ داری کی روایتی اور پرانی پارٹیوں کا یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ کم از کم کاغذی اور لفظی حد تک مزدوروں کی مانگوں کا کم از کم ذکر تو کردیا کرتے تھے اور سرمایہ داروں کے لئے اس انتہا پسندی تک جانے سے کچھ شرمندگی محسوس کرتے ہوئے اجتناب بھی کرتے تھے۔ لیکن یہاں تو اب تحریک انصاف نے ایک’’ننگ دھڑھنگ‘‘قسم کی معاشی گماشتگی کا مظاہرہ اس بجٹ میں کردیا ہے۔ اس میں تحریک انصاف کی متوسط طبقات میں پائی جانے والی حمایت کی موجودہ نفسیاتی کیفیت کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ ایسے ادوار جہاں سماج ایک نسبتاً جمود میں ہو اور محنت کشوں کی بڑے پیمانے پر تحریکیں نہ چل رہی ہوں تو متوسط طبقے کی سوچ کا وہ پہلو جس میں وہ حکمران طبقات کی پیروی کرکے امیر ہونے اور بالادست طبقات کا حصہ بننے کی خلش رکھتے ہیں ‘شعور میں زیادہ عود کرآتا ہے۔ عمران خان اور اسکے وزراء اسی سوچ کو پروان چڑھا کر بے دریغ مزدور دشمن پالیسیوں پر گامزن ہیں۔

لیکن اس بجٹ میں نان فائلرز اور کالے دھن کے جگادریوں کی جن مراعات کا اعلان کیا گیا وہ بھی تحریک انصاف پارٹی کی جزیات اور اسکی سماجی اور مالیاتی بنیادوں کی غمازی کرتا ہے۔ اگر تحریک انصاف اور نواز لیگ کا موازنہ کیا جائے تو تحریک انصاف میں نودولتیوں کی زیادہ بڑی اکثریت ہے۔ جبکہ نواز لیگ میں روایتی سرمایہ داروں اور کاروباریوں کا غلبہ پایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے جہاں نواز لیگ نے نا ن فائلرز پر پابندی لگائی تھی وہاں اس مِنی بجٹ میں ایک مبہم مگر ٹھوس ایمنسٹی سکیم شروع کی گئی ہے۔ کالے دھن کو نہ صرف تسلیم کیا گیا ہے بلکہ اسکے فنانس کردہ تحریک انصاف کے سیاستدانوں نے اپنی طاقت کو اس مِنی بجٹ میں منوایا ہے۔ تحریک انصاف چونکہ نودولتیوں کی پارٹی ہے۔ لیکن یہ کل تک متوسط طبقے کے سرکاری وغیر سرکاری معیشتوں کے کاروباری تھے۔ ان کے پاس’’اچانک‘‘جن طریقوں اور وارداتوں سے دولت آئی ہے اسکے آنے سے اسکے تحفظ کا مسئلہ ابھرا۔ اور اس دولت کے تحفظ کے لئے جو طاقت درکار تھی وہ سیاست کے ذریعے ہی حاصل کی جاسکتی تھی۔ اور ایسی پارٹی جس میں پرانے دھنوانوں کا قبضہ کم ہواورنو دولتیوں کی گنجائش ہو تو پھریہ ابھری اور ابھاری جانے والی’’تحریک انصاف‘‘ہی تھی۔ اس لیے سیاسی پالیسیاں ہوںیا سماجی رویے، ’’اخلاقیات‘‘ہوں یا’’اقدار‘‘، پارٹی میں آمریت ہو یا پھر قیادت کی اندھی اعتقادی تقلید- متوسط طبقے کی اسی نفسیات اور نودولتیوں کے لئے تحریک انصاف ایک آئیڈیل پارٹی بنی تھی۔ متوسط طبقے کے بارے میں ٹراٹسکی لکھتا ہے کہ’’ یہ طبقہ صرف ایک دیوتا کومانتا ہے اور وہ دیوتا طاقت ہے‘‘۔ دولت اور طاقت کے اس کھیل میں پاکستان کا روایتی سرمایہ دار طبقہ جمہوریت لانے اور جدید صنعتی معاشرہ بنانے میں ناکام رہا ہے۔ ایسے میں ایک خلا ابھرتا ہے۔ جب محنت کشوں کی تحریکیں پسپا ہوجائیں، بائیں بازو کا ایک عارضی انہدام ہوا ہو تو پھر ایسے خلا کو اسی قسم کے حادثاتی عناصر اور پارٹیاں پُرکرتی ہیں جیسی تحریک انصاف ہے۔ ایسے ہی سطحی سوچ رکھنے والے دوسرے شعبوں کے ہیر وہی لیڈر بنتے ہیں جس طرح عمران خان ہے۔ لیکن جس بوکھلاہٹ اور خلفشار سے یہ پارٹی حکمرانی کررہی ہے اسکا انہدام ناگزیر ہے۔ ایسی صورتحال میں پھر ایک سیاسی خلا ابھرے گا۔ مسلم لیگ اور حکمرانوں کی دوسری پارٹیاں پہلے زوال کا شکار ہیں۔ یہ اب محض مالیاتی سرمائے کے کینوس پر گزرے ہوئے وقت کے خاکے ہیں۔ نئے سیاسی خلا میں آج کا نظر انداز اور ظاہری طور پر پسپا ‘ محنت کش طبقہ ابھرے گا۔ کیونکہ اس مالیاتی سیاست کی غلاظت سے لبریز سطح کے نیچے محنت کش عوام کا ایک لاوا بھڑک رہا ہے۔ بس ہمت اور جگہ ملنے کی دیر ہے یہ آتش فشاں تو پھٹ کر رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*