مختصر کر چلے درد کے فاصلے؛ مرزا عثمان بیگ کی جدوجہد کو سرخ سلام

تحریر: رؤف لنڈ

ابھی کچھ ہی گزرے سالوں کی بات ہے جو کل کی طرح لگ رہی ہے، میں طبقاتی جدوجہد (Struggle) کے پلیٹ فارم سے مارکسسٹ نظریات بارے کچھ سیکھنے، دوستوں سے ملنے کیلئے لیہ شہر گیا۔ وہاں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئنPTUDC کے زیر اہتمام تقریب میں سیاسی و نظریاتی ڈسکشن کیلئے کچھ دوست اکٹھے ہوئے۔ عالمی تناظر میں پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بات ہوئی۔ مختلف دوستوں نے بحث و گفتگو میں حصہ لیا۔ سیاسی و مذہبی پارٹیوں، ان کی لیڈرشپ اور ملکی سیاست میں ان پارٹیوں کے طبقاتی کردار سمیت عالمی و سامراجی اداروں کے استحصال کرنے کے حوالے سے سوالات و جوابات کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک خوبصورت نوجوان روشن آنکھوں اور دمکتے چہرے کیساتھ اگلی صف میں سب کچھ پورے انہماک کیساتھ سنتا رہا۔ تقریب ختم ہوئی۔ پروگرام میں شرکا کی اکثریت واپس چلی گئی۔ مگر مرزا عثمان بیگ میری واپسی تک میرے ساتھ رہااور یہ ساتھ یوں نبھایا کہ جسمانی طور پر جدا ہونے کے باوجود اپنے پیار اور لگن کی بدولت ہر نظریاتی اور مارکسسٹ دوست کی رگ رگ میں سما گیا۔ مرزا عثمان بیگ نے جس طرح بائیں بازو کی سیاست کو سمجھا اور مارکسسٹ نظریات سے کسب حاصل کیا اس طرح کی صفت اور خاصیت بہت کم لوگوں کے حصہ میں آئی ہے۔ وہ چھوٹی عمر میں ہی ٹریڈ یونین سیاست میں سرگرم عمل تھا اور پاکستان کے محنت کشوں کے شہر کراچی میں PTUDCکو منظم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہا۔

مرزا عثمان بیگ نے سماج میں موجود طبقاتی کشمکش کو نہایت زیرک انداز میں سمجھ لیا تھا، وہ نوجوان تھا۔ وہ کچھ لا ابالی، بے پرواہی اور ان ڈسپلنڈ نوجوان تھا۔ اور شاید یہ اس بالی عمر کے بنیادی وصف کی وجہ سے تھا۔ مارکسسٹ نظریات پر مکمل عبور کے باوجود تنظیمی نظم و ضبط میں تساہل سے کام لیتا تھا۔ مگر میں ایک طرف اس کے اس تساہل کی وجہ سے اس سے کئی بار کئی کئی دنوں تک روٹھ جاتا تھا مگر پھر اس کی نظریاتی کمٹمنٹ سے پیار کی وجہ سے اس سے کبھی ناطہ نہیں توڑ سکا۔ کامریڈ عثمان مرزا گھریلو ذمہ داریوں کے حوالے سے بڑا حساس تھا۔ اس نظام کی ذلتوں کو سمجھتا تھا یہی وجہ ہے کہ وہ جیتے جی کسی بھی طور اور کسی بھی غرض کیلئے ہاتھ پھیلانے یا کسی کے محتاج ہونے کی توہین برداشت کرنے سے عاری تھا۔ وہ امیر مزاج اور نفیس تن ہونے کے باوجود کراچی میں روٹی روزگار کی تلاش کے کھردرے پن سے برسرِ پیکار تھا کہ موت نے اسے آن لیا۔ اب موت کو بھی پتہ چل گیا ہوگا کہ صرف شرمندگی موت کے حصہ میں آئی ہے کیونکہ مرزا عثمان بیگ مر کر امر ہوگیا۔ اپنے سینکڑوں، ہزاروں اور لاکھوں چاہنے والوں کی سوچوں میں، ان کی محبتوں میں اور ان کی یادوں میں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*