ریڈیو پاکستان ملازمین بحالی تحریک، پس منظر اور مطالبات

ریڈیو پاکستان سے 1069 ملازمین کو جبری برطرف کر دیا گیا اور ادارے میں ملازمین کے حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں ریڈیو پاکستان کے ملازمین نے جدوجہد کا راستہ اپنایا ہوا ہے، ان کی تحریک کے پس منظر اور مطالبات پر مبنی مفصل رپورٹ کو شائع کیا جا رہا ہے۔

ریڈیو پاکستان سے20 اکتوبرکو 749 کانٹریکٹ ملازمین کو بیک جنبش قلم گھر بھیجوادیا ہے۔17500 سے 25000 روپے تک تنخواہ لینے والے ان ملازمین میں سے اکثریت گزشتہ بیس سال سے کام کر رہی تھی۔ ڈائریکٹر جنرل عنبرین جان نے اس سے قبل 320 کانٹریکٹ ملازمین کو ملازمت سے برطرف کیا تھا، جبکہ اس بار باقی ماندہ 749 کانٹریکٹ ملازمین کے گھروں کے چولہے بجھا دئے گئے ہیں۔ اس وقت کل 1069 ملازمین ہیں جنہیں جبری برطرف کیا گیا۔ ان میں سے بیشتر ملازمین نے ریڈیو پاکستان کے لیے اپنی زندگی وقف کی ہے اور یہاں کام کرتے ہوئے اب کسی اور ملازمت کے لئے ’زائد عمر‘ ہو چکے ہیں۔ یہ ملازمین سترہ سے پچیس ہزار تک کی تنخواہیں لے رہیں تھے۔ جو کہ روزانہ اوسطاً 667 روپے بنتی ہے۔ سب نے حکومتی فیصلے کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے جدوجہد کی راہ اختیار کی ہوئی ہے، جبری برطرفیوں کا فیصلہ اور مستقل ملازمتوں تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ یہاں ہم عوام اور تمام محنت کشوں کے سامنے ادارے کے چند حقائق سامنے رکھنا چاہیں گے۔

پاکستان میں ریڈیو کی تاریخ اور اہمیت کا جائزہ لیا جائے تو اس کی بنیادیں تقسیم سے پہلے متحدہ ہندوستان میں ملتی ہیں۔ برصغیر میں پہلا ریڈیو اسٹیشن انڈین براڈکاسٹنگ کمپنی نے ممبئی کے مقام پر23 جولائی 1927ء کو قائم کیا۔ اپریل 1930 ء میں اس کمپنی کو براہ راست حکومت کی تحویل میں لے کر 1936ء میں اسے آل انڈیا ریڈیو کا نام دیا گیا، پاکستان بننے کے بعد 17 سالوں تک ریڈیو ہی تفریح اور خبروں کا بنیادی مرکز تھا۔ 1964ء میں پی ٹی وی قیام کے بعد بھی اس کی اہمیت میں کمی واقع نہ ہوئی بلکہ آبادی کی بڑی تعداد ریڈیو سے ہی مستفید ہوتی رہی۔ ریڈیو ہی وہ واحد ذریعہ ابلاغ ہے جو قدرتی آفات، سیلاب، جنگ اور ہر مشکل وقت میں قلیل ریسورسز کے ساتھ اپنے وطن کی خدمت کے لئے پیش پیش ہوتا ہے۔ کمرشل نشریاتی اداروں کے مقابل ریڈیو پاکستان کا کردار ایک پبلک سروس ادارے کا رہا ہے۔ یعنی ایسا ادارہ جو پیسہ کمانے کیلیے نہیں بلکہ عوامی فلاح کے لئے کام کرتا ہے۔ ماضی میں ریڈیو پاکستان کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ لائسنس فیس تھی جو کہ پوسٹ آفس کے ذریعے اکٹھی ہوتی تھی، لیکن نوازشریف کی دوسری حکومت کے زمانے میں لائسنس فیس ختم کردی گئی۔ وہی ریڈیو پاکستان جو گلگت سے کراچی تک عوام کو ہر طرح کی معلومات اور تفریح بہم پہنچانے کیلیے باسٹھ برس سے سرگرمِ عمل ہے، جسکا سِگنل وہاں بھی پہنچتا رہا ہے جہاں ٹی وی کی رسائی نہیں اور جو ٹرانسسٹر ریڈیو کے ذریعے اُن دُور دراز دیہات میں بھی سنا جاتا ہے جہاں بجلی تک نہیں ہے۔ آج بھی اس کی اہمیت کا اندازہ بی بی سی کے حالیہ سروے سے لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق پاکستان کی شہری آبادی کا 28 فیصد اور دیہی آبادی کا 31 فیصد باقاعدگی سے ریڈیو سنتے ہیں۔اس طرح گیلپ سروے 2014 ء کے مطابق پاکستان کی ریڈیوانڈسٹری میں اشتہارات کی آمدنی کا حجم 1.57 بلین سے تجاوز کر چکاہے۔ اگر ریڈیو پاکستان کی اثاثوں کا تخمینہ لگایا جائے تو حکومت کے مطابق صرف اسلام آباد ہیڈ کواٹر کی سات منزلہ عمارت کی مارکیٹ ولیو اس وقت 50 ارب سے زائد ہے، یہاں اس وقت 1000 سے زائد ملازمین کام کرتے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے پاس 20 سٹوڈیو ہیں جہاں مختلف زبانوں میں پروگرام تیار کئے جاتے ہیں۔ ہر سٹوڈیو میں بیرون ملک سے درآمد کردہ کروڑوں روپے مالیت کی مشینری ہے۔ اس کے علاوہ پورے ملک میں اربوں کی اراضی اورعمارتیں ہیں۔

حکومت ادارے کے خسارے کا ذمہ دار بار بار عام ملازم کو ٹھہراتی ہے، حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے توادارے میں سیلری اینڈ الاونسزکی مد میں دو کروڑ بیس لاکھ جبکہ پنشنزپر سالانہ 86کروڑ 24 لاکھ روپے اخراجات کئے جاتے ہیں۔ پروڈکشن ہیڈ میں 2کروڑ 50 لاکھ دس ہزاررکھے گئے ہیں، اس ہیڈ میں سے کنٹریکٹ ملازمین کو تنخواہیں دی جاتی ہیں جبک ریڈپو پاکستان میں سیلری کی مد میں 1.6ارب کی رقم مختص ہے۔ آپریشن خرچہ 5 کروڑ31لاکھ روپے جبکہ ایڈمن اخراجات ایک کڑور بیس لاکھ روپے ہیں۔ اس وقت94 کروڑ 27 ہزار ریڈیو پاکستان کا کل خسارہ ہے۔ قانونی طور پرسیلری ہیڈ سے پیسے کسی اور ہیڈ میں ٹرانسفر نہیں کئے جا سکتے۔ اگر ملازمین کو نکال بھی دیا جائے تو اس سے 18 کروڑ کی’بچت‘ہوگی جوکہ واپس حکومت پاکستان کے اکاؤنٹ چلے جائے گی۔ یہ 18کروڑ ریڈیو انتظامیہ اپنی مراعات کے لیے استعمال کرنا ہے۔

یہاں پر واضح ہے کہ افسر شاہی کی بھاری مراعات پر رقم خرچ کیا جا رہا ہے جبکہ حکمرانوں نے اپنی لوٹ مار کے لئے ریڈیو پاکستان کو مفلوج کر دیا ہے، ملک میں اس وقت 150سے زائد نجی ریڈیو اسٹیشنز موجود ہیں۔ ریڈیو پاکستان قومی کی آواز ہے اور ادارے نے موجودہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے بڑ ے نام پیدا کئے۔ آج ریڈیو پاکستان کے معیار اور اس میں جدت کی بجائے حکومت ملازمین کو برطرف کر رہی ہے۔ افسوس کہ کروڑوں روزگار دینے کا وعدہ کر کے اقتدار میں آنے والی حکومت اب روٹی کا آخری نوالہ بھی چھین لینا چاہتی ہے۔ آج ریڈ یو پاکستان کو ایک ’انسٹی ٹیوٹ‘ اور عوام کو بہتر تفریح اور خبریں پہنچانے کی بجائے، حکومت وقت ملازمین کو فارغ کر کے اس کی قیمتی اراضی کو سرمایہ داروں کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔ ریڈیو کے ملازمین امید کرتے ہیں کہ قومی ادارے کے تحفظ کے لئے تمام مزدور تنظیمیں اور عوام ہمارا ساتھ دیں گے۔ یہ مسئلہ ایک ہزار افراد کا نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے ساتھ ملک کے اہم ورثے کا ہے۔

مطالبات:
٭ریڈیو پاکستان میں جبری برطرفیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔
٭تمام برطرف ملازمین کو بحال کیا جائے اور انہیں مستقل روزگار فراہم کیا جائے۔
٭عام ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔
٭ادارے کی نجکاری اور ری سڑکچرنگ کی بجائے ادارے کی بحالی کے لئے ملازمین کی گفت و شنید سے بزنس پلان مرتب کرے۔
٭ریڈیو کے پروگرامز اور contentsکو جدید تقاضوں اور انڈسٹری کی ضروریات کے مطابق تیار کئے جائیں۔
٭نوجوانوں کی تربیت کے لئے ’ریڈیو اکیڈمی‘ کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ افرادی قوت کو معیاری تربیت فراہم کی جا سکے۔

منجانب: آل پاکستان ریڈیو پاکستان ڈیلی ویجزر/ کنٹریکٹ ملازمین بحالی تحریک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*